خطرے کی گھنٹی
تحریر : ایمان شاہ
تلاش متحرک رہتی ہے اور حرکت راز ہستی ہے ، تلاش ہی انسان کی جبلت ہے ، یہ اس کا اصل ہے ، یہ اس کا خمیر ہے ، یہ اسکی سرشت ہے ، جسے اور کوئی تلاش نہ ہو وہ اپنی تلاش میں رہتا ہے ، وہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کون ہے ۔۔؟ کہاں سے آیا ہے۔۔ ؟ وہ کب سے ہے ۔۔؟ اور کب تک رہے گا ۔۔؟ وہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ وہ کون سا جذبہ ہے جو اسے محرومیوں اور ناکامیوں کے باوجود زندہ رہنے پر مجبور کرتا ہے ، ہر انسان کسی نہ کسی شے کی تلاش میں سرگرداں ہے ، کوئی کچھ چاہتا ہے ، کوئی کچھ ڈھونڈ رہا ہے ، انسان کے ہجوم میں آرزوؤں کا بھی ہجوم ہے ، دشمن دشمن کی تلاش میں ہے اور دوست دوست کی جستجو میں ۔۔۔۔۔
اورنگزیب ایڈووکیٹ کے پاس سائلین کا ہجوم تھا ، بعض لوگ جلوت میں اپنے مسائل بیان فرما رہے تھے جبکہ ایک خاص طبقہ خلوت میں اپنی آب بیتی بیان کرنے کا خواہاں ، خلوت میں ملنے والوں کیلئے پردے کا اہتمام ہے لیکن پردے کے پیچھے کی جانے والی گفتگو بھی کسی حد تک سنائی دے رہی تھی ، صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈووکیٹ جس دفتر میں بیٹھ کر لوگوں کے مسائل سننے میں آج کل مصروف ہیں وہیں سابق چیف ایگزیکٹیو میر غضنفر علی خان اسی طرح لوگوں سے ملتے تھے لیکن ملنے والے سائلین عام نہیں بلکہ خاص قسم کے لوگ ہوتے تھے ، میر غضنفر رخصت ہوئے تو پیپلز پارٹی کی حکومت میں ڈپٹی سپیکر کے عہدے پر جمیل احمد فائز تھے ، اس دفتر میں انہوں نے پورے پانچ سال اقتدار کے مزے لوٹے ، 2015میں انتخابات میں کامیاب مسلم لیگ ن کی حکومت میں ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ خان چند ماہ قبل اس آفس میں بیٹھ کر اپنے سامنے بیٹھے سائلین کی داد رسی میں مصروف تھے ،چند ماہ قبل اسمبلی کی نئی عمارت میں ڈپٹی سپیکرشفٹ ہوگئے ، صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈووکیٹ آج کل اسی آفس میں گلگت بلتستان کے عوام کو درپیش مسائل کے حل میں مصروف عمل ہیں ، پوری توجہ اور انہماک کے ساتھ ہر کسی کی بات سننے کی صلاحیت اور سمجھنے کی استعداد رکھنے والے نوجوان وزیر کے چہرے پر تھکن کے آثار نظر نہیں آئے ، بعض سائلین کا رویہ ایسا تھا کہ سیدھا سادھا جواب دیکر رخصت کرنے کی نوبت بھی آسکتی تھی لیکن صبر و تحمل کے ساتھ ہر سوال کا خندہ پیشانی سے جواب دیتا رہا اور یہ کوئی اتنا آسان کام نہیں ہے ، ذرا سی فرصت ملی تو مجھے کہنے لگے کہ لینڈ ریفارمز کمیشن کا کام آخری مراحل میں ہے لیکن سکوار اور مناور کے مواضعات میں توقع سے زیادہ مسائل پیش آرہے ہیں ، سکوار سے تعلق رکھنے والے معروف سماجی شخصیت حاجی نائب خان ، برکت اور مناور کے نمبردار قاری جاوید مختلف تجاویز دے رہے تھے ، اورنگزیب ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ مناور اور سکوار میں لینڈ مافیا نے لوٹ مار کی انتہا کر دی ہے ، لینڈ ریفارمز کمیشن کے مینڈیٹ میں صرف سفارشات ہیں اور ہم بہت جلد اپنی سفارشات مکمل کرکے صوبائی حکومت کے حوالے کر دینگے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرکاری ضروریات کیلئے استعمال میں لائی جانے والی زمین جو مقامی کمیونٹی کی تعمیر و ترقی کیلئے مختص ہوگی میں سے بچ جانے والی خالصہ سرکار زمین کی تقسیم کا طریقہ کار یا فارمولا کیا ہوگا ؟ لینڈ مافیاز ہزاروں کنال زمین محکمہ سٹلمنٹ کے عملے کے ساتھ ساز باز کے ذریعے بندر بانٹ کر چکے ہیں ، قبضہ مافیا یا لینڈ مافیا اتنی آسانی کے ساتھ مقامی لوگوں یا حکومت کے قابو میں آنے والی نہیں ہے ، خالصہ سرکار زمین کی تقسیم کا عمل شروع ہوتے ہی نئے جھگڑے جنم لے سکتے ہیں حتیٰ کہ شدید نوعیت کے تنازعات لاء اینڈ آرڈو کی صورتحال پیدا کر سکتے ہیں ، سکوار اور مناور کے مقامی عمائدین کی اس بات میں وزن تھا کہ لینڈ مافیا کے خلاف کارروائی حکومت کا کام ہے اور اب تک تحریری طور پر نیب سمیت تمام قومی ا داروں سمیت مقامی انتظامیہ کو ثبوت فراہم کئے جانے کے باوجود لینڈ مافیا کے خلاف کارروائی کا نہ ہونا حکومت کی کمزوری ہے اس میں مقامی لوگوں کا کوئی قصور نہیں ہے ، عمائدین سکوار اور مناور کا کہنا تھا کہ ہم لینڈ ریفارمز کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں برابری کی بنیاد پر حقداروں میں زمین کی تقسیم کے خواہاں ہیں جبکہ اس عمل میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے ، اس دوران محکمہ جنگلات کے عارضی ملازمین بھی اپنی فریاد لیکر پہنچ چکے تھے ، محکمہ جنگلات کے عارضی ملازمین کو اس بات پر شدید تحفظات تھے کہ کئی عرصے تک دھرنے دینے اور جدوجہد کے بعد سینکڑوں خالی آسامیوں کی منظوری مل گئی لیکن 90فیصد پوسٹیں صرف ایک ضلعے کو دی گئی ہیں جسکی وجہ سے گلگت سمیت دیگر ریجنز کے عارضی ملازمین مستقل نہیں ہو سکیں گے جو ہمارے ساتھ ظلم و زیادتی کی انتہا ہے ، صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ محکمہ جنگلات کے عارضی ملازمین کے تحفظات درست ہیں اور اس حوالے سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو صورتحال سے آگاہ کرکے نظرثانی پر آمادہ کرنے کی کوشش کرونگا ، صوبائی وزیر قانون کے ساتھ موجودہ سیاسی صورتحال بالخصوص گزشتہ روز اسمبلی اجلاس کے دوران صوبائی وزیر تعلیم کے مشیر خوراک غلام محمد پر لگائے جانے والے الزامات پر بھی گفتگو ہوئی ، صوبائی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر تعلیم کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ، ابراہیم ثنائی کہنا چاہتے تھے کہ بعض لوگ محکمہ خوراک میں بھرتیوں کے نام پر پیسے بٹور رہے ہیں اور اس میں سابق وزیر خوراک کا نام لیا جا رہا ہے ، میڈیا رپورٹس درست ہیں یا مسلم لیگ ن کی وضاحتوں میں وزن ہے ،اس کا فیصلہ آنے والے انتخابات میں عوام نے کرنا ہے ،تاہم اس تمام تر صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے لیگی قیادت کو اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ٹھیکے اور نوکریاں بیچنے کے الزامات تواتر کے ساتھ کیوں لگ رہے ہیں ؟ اس حد تک سنگین نوعیت کے الزامات سابقہ حکومتوں پر کبھی نہیں لگے ، میڈیا میں آنے والی خبروں اور رپورٹس کے ذریعے گلگت بلتستان کے عوام میں یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ موجودہ حکومت ٹھیکے اور نوکریاں بیچنے میں سب سے آگے ہے، اس تمام تر صورتحال کے تناظر میں اورنگزیب ایڈووکیٹ جیسے پڑھے لکھے اور با صلاحیت لیگی راہنماؤں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بعض ایسے سنگین الزامات جو حقیقت کے قریب بھی ہیں کے بارے میں تحقیقات کی زحمت گوارا کریں اور اگر ایسا کرینگے تو سوشل میڈیا سمیت مقامی اخبارات میں تواتر کے ساتھ سامنے آنے والی ایسی خبروں کو یکسر جھٹلانے کی نوبت تک بھی نہیں آئیگی ۔۔۔
مسلم لیگ ن کے بارے میں مرکزی خطیب جامع مسجد اہلسنت والجماعت قاضی نثار احمد کے بعض ریمارکس کو خطرے کی گھنٹی بھی کہہ سکتے ہیں ،گزشتہ دنوں داریل کے مقام پر ایک مذہبی تقریب میں مسلم لیگ ن کو ’’ مجرم لیگ ‘‘ کے لقب سے نوازے جانے کے بعد صورتحال مزید گھمبیر ہو چکی ہے اور اس لڑائی کو طول دینے کی بجائے سلجھانے میں ہی ن لیگ کی عافیت ہے اور سلجھانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ 2015کے انتخابات میں حافظ حفیظ الرحمن کی جیت میں اہم کردار ادا کرنے والے اس اہم مذہبی رہنما کے جائز تحفظات کو دور کرنے پر توجہ مرکوز رکھی جائے اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو مسلم لیگ ن کے سیاسی خسارے میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائیگا ۔۔۔۔
