خوش فہمی تحریر:رمیز شکراتے

خوش فہمی


تحریر:رمیز شکراتے 

آج کل ٹی وی چینلز پر اور سوشل میڈیا پر یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح فیل گی ہے کہ پاکستان میں ایشیا کا سب سے بڑا تیل کا ذخیرہ دریافت ہوا ہے ۔ یہ پاکستان کی تقدیر بدلے گا سنا ہے ، ہاں یہ ایک اہم دریافت ہے جس کی وجہ سے ہمارا ملک پاکستان میں خوشحالی آئے گی۔ سب سے بڑی یہ کہ تیل سستا ہوگا ، تیل کی قیمتوں کی کمی کی وجہ سے کرائیے کم ہونگے ، چیزیں سستے ہونگے ، بیرون ملک سے لوگ سرمایا کاری کے لئے ہمارے ملک آینگے ، جس کی وجہ سے ، بے روزگاروں کو نوکریاں ملیں گے ، ملک کی آمدنی میں اضافہ ہوگا ، آمدنی میں اضافہ ہوگا، تو ملک ترقی کرے گا، ملک ترقی کرے گا تو، ملک سے غربت کا ختمہ ہوگا ، غربت کا ختمہ ہوگا تو ملک میں جرائم نہیں ہونگے ، جرائم نہیں ہونگے تو لوگ خوشی خوشی زندگی گزار سکینگے ، تو ملک میں امن وامان قائم ہوگا تو ہمارا مالک ترقی کرے گا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ہمارے ملک پاکستان کو کس چیز سے محروم رکھا ہے ، یقیناً ایسا کوئی چیز ہی نہیں جو ہمارے ملک میں نہ ہو ، ہمیں اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہم سال میں چاروں موسموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، اس کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ نے ہمارے ملک کو معدنیات سے بھی نوازا ہے ، جن کو ہم سوچ بھی نہیں سکتے ، ہم اپنے معدنیات کو تلاش ہی نہیں کرتے ہیں ، جو دریافت ہوئیں ہیں ان میں ، کوئلہ ، گیس ، نمک کے کان ، سنگ مرمر، سونا، جیم سٹون ، چونے کا پتھر ، جپسم ، کرومائیٹ، تانبا، خام لوہا ان کے علاؤہ اور بھی بہت سے معدنیات سے اللّٰہ تعالیٰ نے ہمارے ملک کو نواز ہے ، گلگلت بلتستان کو بھی اللّٰہ تعالیٰ نے قیمتی معدنیات سے نوازہ ہے ، یہاں تو سونے کے پہاڑ پائے جاتے ہیں ، ضلع ہنزہ ، ضلع غذر ،  سکردو اور ضلع دیامر کے پہاڑوں میں بے شمار معدنیات پاے جاتے ہیں ، لیکن ہمارے حکمرانوں کو علم نہیں ۔ مجھے جناب نواز خان ناجی صاحب کا وہ جزبات اور حقایق پر مبنی وہ تقریر یاد آتا ہے جس میں ناجی صاحب کہتے ہیں کہ ( آپ لوگ کہتے ہوں کہ یہ جلے ہوئے پہاڑ ہیں ، یہ جلے ہوئے نہیں ہیں بلکہ ہم جلاے ہوے ہیں ہمارا دماغ جالا ہوا ہے ۔ یہاں ہمارے ان پہاڑوں ۔یں جو معدنیات پاے جاتے ہیں وہ کہیں اور نہیں ہیں ) میں سو فیصد سر آپ سے مظافق ہوں ۔ اللّٰہ تعالٰی نے جن معدنیات سے گلگلت بلتستان کو نوازا ہے شاید کہیں اور نہ ہوں ۔ لیکن افسوس ہمارے  جتنے بھی حکمران آییں ہیں وہ ان کاموں میں دلچسپی لینا پسند نہیں کرتے ہیں ۔ وہ تو قرضے سے ملک کو چلتے آرہے ہیں، ہم خود محنت کرنا پسند نہیں کرتے ہیں اللّٰہ تعالٰی نے ہمیں جن معدنیات سے نوازا ہے اس کا استعمال ہی نہیں کرتے ہیں ، ہاں ان معدنیات کو استعمال میں لانے سے ملک ترقی کرے گا ۔ 
           لیکن 
           چند سالوں کے لیے، آپ کہینگے ایسا کیوں ، وہ اس لیے کہ جب تک کسی ریاست میں سب سے پہلے ، عدل وانصاف اور مساوات اور بددیانتی نہیں ہوگی وہ ریاست کبھی حقیقی ترقی نہیں کر سکتا ۔ آکر ہمارے ملک میں سونے کے نہیں ہیرے کے بھی کان ہوں تو ہم ایسے ہی رہینگے ، وہ اس لیے کہ ہمارے حکمران اپنے لیے سوچتے ہیں ملک کے لیے نہیں ، ان سب کا فائدہ ہمارے حکمرانوں کو ہوگا ، اس لیے ہمیں چاہئیے کہ ہم ایمان دار اور محب وطن لیڈر کا انتخاب کریں ، ملک میں عدل وانصاف قائم ہو تو پھر ہمارا ملک ترقی کرے گا ورنہ ہمیں زیادہ خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے ، اور سب سے پہلے ہمیں اپنے آپ کو ٹھیک کرنا چاہیے اور ملک سے کرپشن کی بیماری کو ختم کرنا ہوگا اس سے پہلے ہم کبھی بھی حقیقی ترقی نہیں کر سکتے۔ 
       پاکستان ذندہ باد 
نوٹ یہ کوئی سیاسی بیان نہیں ہے ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post