اعلیٰ تعلیم و تحقیق میں استاد کا کردار تحریر : پروفیسر عطاءاللہ شاہ

اعلیٰ تعلیم و تحقیق میں استاد کا کردار


تحریر : پروفیسر عطاءاللہ شاہ 

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اعلیٰ تعلیم و تحقیق کا خواب ایک قابل، تربیت یافتہ اور مشاق استاد کے بغیرشرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ۔معلم یا تو تعلیمی اداروں کو بناسکتے ہیں یا بسا اوقات ان کی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔ پچھلے چند دہائیوں میں تحقیق اور پی ایچ ڈی پر زیادہ توجہ ہونے کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں تدریس کا عمل کافی حد تک متاثر ہو رہا ہے ۔ چونکہ موجودہ نظام میں پی ایچ ڈی تعلیم کے بغیر اساتذہ کرام کو محض تدریس کے تجربے کی بنیاد پر آگے لانے کے مواقع معدوم ہوگئے ہیں۔جس کی وجہ سے تعلیم و تدریس پر توجہ بتدریج کم ہورہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نظام میں نوجوان پی ایچ ڈی فیکلٹی کا زیادہ تر توجہ ان کی تحقیق، مقالوں کی اشاعت اور ریسرچ پراجیکٹس کی تکمیل پر زیادہ مرکوزہے ۔ نتیجتاً ان اساتذہ کرام کا طلبہ و طالبات کی تعلیم و تدریس اور ان کی کردار سازی میں کلیدی حیثیت کم ہوتی جارہی ہے ۔ جو یقینا ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ایک فعال تربیت اساتذہ کرام کا پروگرام نہ ہونے کی وجہ سے عمومی طور پر ان ساتذہ کرام کو ٹریننگ کرانے کے مواقع بھی انتہائی محدود ہیں ۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی سابقہ شیخ الجامع علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے پچھلے دنوں اپنے ایک مضمون میں برملا اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان میں رائج تربیت اساتذہ کے مختلف پروگرام بشمول بی ایڈ، اساتذہ کے اندر درکار تعلیمی و تدریسی صلاحیتوں کو اجاگرکرنے میں ناکام رہے ہیں۔ موصوف اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ تعلیم کے عمل میں استاد کا کردار مرکزی ہے لیکن بیرونی تبدیلی اندرونی تبدیلی سے منسلک ہے ۔ پاکستان میں ٹیچر ایجوکیشن کے متعدد پروگرامز استاد میں مطلوبہ تبدیلی لانے میں خاطر خواہ کامیاب نہیں ہورہے ہیں۔ موصوف کے نزدیک تربیت اساتذہ کے پروگرامز کے ذریعے استاد کے اندر تین سطح پر تبدیلیاں درکار ہوتی ہیں۔ یہ علم ، طریقہ تدریس اور رویے کی سطحیں ہیں۔
 موجودہ تعلیم و تربیت اساتذہ پروگرامز زیادہ تر اساتذہ کو Knowledge Producerکی بجائے اکثر اوقات Knowledge Consumerبناتے ہیں۔ جن کے اندر تخلیقیت کا مادہ بہت کم ہوتا ہے ۔ قارئین سے میری گزارش ہے کہ ڈاکٹر صدیقی صاحب کے مذکورہ مضموں کو ضرور پڑھیں۔ 
کسی بھی اعلیٰ تعلیمی ادارے میں استاد کا کردار کلید ی حیثیت رکھتا ہے ۔ علم کی حقیقت کو علامہ اقبال نے ضرب کلیم میں انتہائی خوبصورت انداز میں درج ذیل نظم بیان کیا ہے ۔ 
زندگی کچھ اور شے ہے علم کچھ اور شے زندگی سوز جگہ ہے علم ہے سوز دماغ 
علم میں دولت بھی ہے قدرت بھی ہے لذت بھی ہے ایک مشکل ہے کہ ہا تھ آتا نہیں اپنا سراغ
اہل دانش عام ہے کم یاب ہیں اہل نظر کیا تعجب ہے کہ ہاتھ آتا نہیں تیرا ایاغ
اقبال کے نزدیک علم حقیقت کو پہنچنے کا زینہ ہے ۔ انہوں نے فرمایا ”علم کا بنیادی مقصد نوجوانوں کی ذہنی قابلیت اور استعداد کو بڑھانا ہے تاکہ وہ اپنی سماجی ذمہ داریوں کو پورا کو سکیں ۔ مسلمانان ہند کو جدید صنعتی اور پیشہ وارانہ تعلیم کے حصول کو یقینی بنانا چاہئے ۔ عصری تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہم جدید تعلیم کے ان میدانوں میں قدم نہیں رکھیں گے ۔ بحیثیت قوم ، اقوام عالم میں ہمارا کوئی مقام نہیں ہوگا۔“
علم و تحقیق کی ترقی کےلئے استاد کا مقام بہت اہم ہے ۔ اقبال نے استاد کے کردار کے بارے میں فرمایا۔
شیخ مکتب اک عمارت گر ہے جس کی صنعت ہے روح انسانی 
استاد کے کردار کو ہم چار زایوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ 
۱۔ رول ماڈل(نمونہ کردار) ۲۔ روحانی باپ ۳۔ شخصیت کی ترقی کا حامل ۴۔ روح 
استاد کا اولین کردار بحیثیت رول ماڈل انتہائی اہم ہے ۔ یہ عام مشاہدے میں ہے کہ طلبہ ہمیشہ اپنے بہترین استاد کی زندگی اور معمولات پر بحث بھی کرتے ہیں اور ان سے استعفادہ بھی کرتے ہیں ۔ بحیثیت ایک نمونہ ¿ کردار ، استاد کے اقدار ، عادات ، اطوار اور ہر چیز طلبہ کےلئے کسی نہ کسی حیثیت سے ان کی زندگی اور شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ ایک استاد جو وقت سے پہلے اپنی کلاس میں آتا ہے اور بھر پور تیاری کے ساتھ کلاس پڑھاتے ہیں یقینا اپنے شاگردوں کے اندر وقت کی پابندی ، کام کو وقت پر مکمل کرانا اور پابندی وقت کا اپنی شخصیت کا حصہ بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے ۔ اگر ہم اپنے زمانہ طالب علمی پر نظر ڈالیں تو چند اساتذہ کرام کے واضح اصول و اقدار تھیں ۔ انہوں نے ہماری زندگیوں پر دیر پا اثر ڈالیں ۔ میرا اپنا ذاتی مشاہدہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں استاد کی عزت و احترام آج بھی اسی طرح ہے ۔ جس طرح 30سال قبل ہمارے زمانہ طالب علمی میں تھا ۔ لیکن اس کےلئے ضروری ہے کہ آپ اپنے اور طلبہ کے درمیان یقین اور امید کا رشتہ استوار کر سکے ۔ 
بحیثیت استاد ہم جو بھی مضمون یا لیکچر پڑھائیں ، ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اس پر مکمل عبور حاصل کریں ۔ کلاس میں بغیر تیاری کے آنے کا مقصداپنا اور طلبہ کا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے ۔ جب ہم سمسٹر پلان بناتے ہیں تو اس میں ہم سارے سمسٹر کے دوران تعلیمی ، تدریسی ،امتحانات وغیرہ کا ایک مکمل خاکہ بناتے ہیں اور اس کےلئے ضروری ہے کہ ہم اپنی ٹیچر فائل اور یونیورسٹی لرننگ مینجمنٹ سسٹم کے اندر یہ تمام پلان طلبہ کے ساتھ شیئر کریں تاکہ ہمارے پاس پورے سمسٹر کا ایک جامع پلان موجود ہو۔ کلاس کا بنیادی مقصد طلبہ کو چند سلائیڈ پڑھانا نہیں بلکہ ان کے اندر علم ، ہنر اور اقدار (رویوں) کے پردافت کے ذریعے ایسی صلاحیتیں پیدا کرنا ہے جو ان کو معاشرے کا ایک کامیاب اور بہترین فرد بنائے ۔ تعلیم کے اس نظام کو بسا اوقات (Outcome Based Education) یعنی صلاحیتوں یا نتائج پر مبنی تعلیمی نظام کہا جاتا ہے ۔ استاد کےلئے ضروری ہے کہ وہ علمی اور اخلاقی لحاظ سے ایک اعلیٰ مقام پہ ہوں تاکہ ان کی شخصیت دوسروں کےلئے مقناطیسیت رکھتی ہوں۔ طلبہ کے ساتھ علم و تربیت کے حوالے سے ایک احترام ، محبت ، عقیدت اور دوستی پر مبنی ایک ایسا رشتہ قائم رکھنا چاہیئے جس سے ان کے اندر تخلیقیت کا عمل پیدا ہو سکے ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کسی بھی استاد سے اخلاق قدروں کے خلاف کوئی بھی عمل یا کام کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ۔ اس لئے کہ معاشرے کے اندر اس غلطی کو کسی طرح بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ اس لئے اساتذہ کرام کےلئے یہ انتہائی اہم ہے کہ وہ اخلاق کی اعلیٰ سطح پر رہنے کی حتی الوسع کوشش کریں ۔ استاد کے لئے اخلاقی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ۔ 
کسی بھی تعلیمی ادارے اور یونیورسٹی کے بارے میں عمومی طور پر یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ اس کی چار دیواری کے اندر تمام کام کرنے والے اخلاقی طور پر بلند ہونگے ۔کوئی بھی ان سے بد اخلاقی کے ساتھ پیش آنے کی توقع نہیں رکھ سکتے ۔ اس لئے میں ہمیشہ اپنے تمام سٹاف سے اخلاق سے پیش آنے کی تاکید کرتا ہوں تاہم اساتذہ کرام کےلئے اخلاقی اقدار کا ہونا اولین شرط ہے ۔ میں نے دنیا کی بہترین اساتذہ کے اندر اخلاقی اقدار کے اعلیٰ ترین معیار دیکھے ہیں ۔ جب ہم بحیثیت استاد پڑھاتے ہیں تو ہمارے سامنے تام طلبہ و طالبات بچوں اور بچیوں کی طرح ہوتے ہیں اور یہی سوچ ہی ہمیں اس مقدس رشتے سے ہی منسلک رکھ سکتی ہے ۔ یہاں پر یہ بھی ضروری ہے کہ طلبہ بھی اساتذہ کرام کو روحانی باپ سمجھیں اور ان کی تضحیک کو گناہ کبیرہ سمجھیں ۔ یہاں مجھے اشفاق احمد مرحوم کا وہ واقعہ یاد آتا ہے ۔ جب ان کو کسی یورپی ملک (غالباً جرمنی) میں کسی ٹریفک رولز کی خلاف ورزی کرنے پر عدالت میں پیش کیا گیا ۔ جج صاحب کو جب معلوم ہوا کہ آپ پروفیسر ہیں تو ان کے ساتھ تمام ججز اور عدالت میں موجود تمام لوگ احتراماً کھڑے ہوگئے اور ان کو انتہائی عزت و احترام سے معاف کرتے ہوئے ان کو گاڑی تک چھوڑا۔ معاشرے کی ترقی کےلئے ضروری ہے کہ معلم اور طالب علم کے درمیان یہ مقدس رشتہ استوار رہے ۔ جب راقم یہ مضمون تحریر کر رہا تھا تو واٹس ایپ پر ایک اندوہناک خبر ملی کہ SEکالج بہاولپور میں انگلش پروفیسر خالد حمید کو ایک طالب علم نے چاقو سے وار کرکے قتل کر دیا ہے اور پولیس نے قاتل کو گرفتار کر لیا۔یہ اور اس طرح کے بے شمار خبریں ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہیں کہ استاد اور شاگرد کے اس مقدس رشتے میں دھراڑیں کیوں پڑ گئیں ہیں ۔ ہم سب معلمین کےلئے یہ ایک چیلنج بھی ہے ۔ 
استاد کا دوسرا اہم کام طلبہ کی روحانی بالیدگی اور پردافت میں ایک بھر پور کردار ادا کرنا ہے ۔ اس کےلئے ضروری ہے کہ اساتذہ طلبہ کے کردار پر بھی نظر رکھیں۔ روحانی بالیدگی کےلئے ضروری ہے کہ ہم جو کچھ طلبہ و طالبات سے کہتے ہیں۔ خود بھی ان پر عمل کریں ۔ بد قسمتی سے آج کی تعلیم کا زیادہ زور علم کی ترسیل پر ہے لیکن تربیت کا عنصر کافی حد تک ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو تا جا رہا ہے ۔ تربیت طلبہ کےلئے ضروری ہے کہ ہماری تعلیم کے اندر ایسے اعمال (Activities)ڈالے جا ئیں جو ان کے اندر تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتیں پیدا کرے۔ آج ہمارا نظام تعلیم صرف علمی یعنی(Congrative) صلاحیتوں پر مرکوز ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ان کے اندر بہتری اور اعلیٰ رویوں کے قیام میں زیادہ تر کامیاب نہیں رہے ۔ طلبہ و طالبات کو اخلاقی اور روحانی طور پر مضبوط بناناہے تاکہ معاشرے کے اندر ان کے اعلیٰ کردارکے ذریعے بہتری آسکے ۔ یاد رہے کہ اعلیٰ علمی معیار کے ساتھ اعلیٰ ترین اخلاقی اقدار کے ذریعے ہی قومیں قائم و دائم رہ سکتی ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے تعلیمی نظام میں طلبہ و طالبات کی روحانی بالیدگی کےلئے باقاعدہ تربیت کا انتظام نہیں ہے ۔ اساتذہ کےلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے طلبہ وطالبات کو اخلاقیات اور روحانیات سے بھی روشناس کرائیں ۔ طلبہ کے نزدیک روحانی قربت کے ذریعے ان کے اخلاقی کردار سازی میں اپنا کردار ادا کریں ۔ یہی وہ حقیقت اور رشتہ ہے جو استاد کو روحانی باپ بنادیتا ہے ۔ جب استاد خود روحانی اور اخلاقی لحاظ سے بلند معیار کا حامل ہو تو وہ حقیقتاً اپنے شاگردوں کےلئے بھی بہترین نمونہ بنتا ہے ۔ 
جب بھی ہم کسی طالب علم کی شخصیت سازی کے عمل کو دیکھتے ہیں تو اس کے تین زاویے ہو سکتے ہیں۔ اولاً علم ، دوم ہنر اور سوئم رویے۔ علمی طور پر طلبہ کو متعلقہ مضمون پر مکمل عبور حاصل ہونا ضروری ہے ۔ اس کےلئے ان کو شب و روز محنت کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے ساتھ ان کو متعلقہ علم سے وابستہ ہنر سے روشناس کرانا بھی ایک اہم امر ہے ۔ بد قسمتی سے ہماری تعلیم زیادہ تر علم کی ترویج تک ہی محدود رہی جبکہ طلبہ کے اندر جدید ہنر اور عملی علم کی انتہائی کمی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے طالب علم عمومی طور پر علم کے استعمال اور عملی زندگی میں اس کی افادیت سے زیادہ واقف نہیں ہوتے ۔ علم و ہنر کے ساتھ تیسرا اہم ستون رویے ہیں۔ کیونکہ بحیثیت انسان معاشرے میں ایک فعال کردار ادا کرنے کےلئے ضروری ہے کہ طلبہ میں رہنمائیت ، برداشت ، خوش زبانی و خوش کلامی اور شائستگی کے رویے موجود ہوں ۔ 2016میں ایک غیر ملکی ادارے Grant Thortonنے HECکےلئے ایک تحقیقی رپورٹ پیش کی جس میں پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کے حوالے سے ملک کے مشہور نجی اور سرکاری اداروں کے سینئر مینجمنٹ سے ان تعلیمی ، ہنری صلاحیتوں اور ان کےلئے درکار ٹریننگ اور نظام تعلیم میں بہتری کےلئے انٹرویوز کرائے ۔ اس رپورٹ کو Employees Perception Survayکے نام پر طبع کیا ۔ اس رپورٹ کی کچھ چیدہ چیدہ تجاویز درج ذیل ہیں ۔ 
”مجموعی طور پر پاکستان کا اعلیٰ تعلیمی نظام اور جامعات نجی شعبے اور انڈسٹری کےلئے درکار انسانی وسائل کی فراہمی میں زیادہ حدتک کامیاب نہیں ہو سکا۔ ان کے نزدیک پاکستانی جامعات کو اپنے تعلیم و تدریس اور امتحانات کے نظام کو جدید خطوط پر لانے کی ضرورت ہے ۔ تاکہ محض نظریاتی علم کے ساتھ انکے اندر عملی طور پر درکار صلاحیتوں کی پرکھ بھی ہوسکے ۔ طلبہ و طالبات کے اندر تحقیقی اور تنقیدی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کےلئے ضروری ہے کہ اساتذہ اپنی تعلیم میں تحقیق کے عنصر کو زیادہ کریں ۔ موجودہ نظام تعلیم محض کتابی علم کی ترویج تک محدود ہے ۔ علم کا عملی اطلاق اور دور حاضر کے مسائل کو حل کرنے میں ان کا استعمال بھی تعلیم کا ایک اہم حصہ ہونا چاہئے ۔ اس کےلئے ضروری ہے کہ اساتذہ خود ایسے عملی مثالوں کے ذریعے دی گئی تعلیم کی افادیت اور اطلاق کو ثابت کریں ۔
اس رپورٹ کے مطابق ان سینئر منیجرز نے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کی علمی اور عملی استعداد کو کئی حوالوں سے غیر تسلی بخش قرار دیا ہے ۔ ان میں تنقیدی سوچ ، تجزیاتی عمل، خود ارادیت اور باہمی ہم آہنگی کا فقدان بھی پایا جاتا ہے ۔ یہاں یہ بات بھی دیکھی گئی ہے کہ انجینئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں سٹوڈنٹس کے داخلے گو کہ سب سے زیادہ ہورہے ہیں۔ لیکن عمومی طور پر فار غ التحصیل طلبہ کے اندر عصری تقاضوں کے مطابق تیکنکی صلاحیتوں کا فقدان پایا جاتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے اندر معیار کا بھی فقدان ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری اور نجی اداروں میں بیرون ملک سے فارغ التحصیل طلبہ کو ملازمت دینے میں ترجیح دی جاتی ہے ۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں کےلئے ضروری ہے کہ وہ آپس میں مفاہمت کے ذریعے نصاب کو جدید رجحانات کے ساتھ ہم آہنگ کریں ۔ طلبہ کے اندر تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتیں پروان چڑھائیں۔ ان کیلئے ملازمت کی فراہمی اور کیرئیر ڈیویلپمنٹ کےلئے مربوط طریقے سے کام کریں ۔ 
علامہ محمد اقبال کے نزدیک استاد طلبہ کا روحانی پیشوا ہے جس کےلئے ضروری ہے کہ استاد اپنے آپ کو عمل و کردار کا ایک بہترین نمونہ پیش کرے۔ ان کے نزدیک جدید تعلیم ، اعلیٰ معیار کا معلم اور شاگرد پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ بحیثیت ایک رول ماڈل استاد کے اندر اعلیٰ بصیرت ، جذبہ محبت ، جذبہ حقیقی ، محبت کی تپش اور خودی کا جذبہ بذریعہ اتم موجود ہونا چاہئے ۔ ان کو آفاقی انسانی مساوات ، سچ اور عالمی بھائی چارہ اور اخلاقی کردار کا حامل ہونا چاہئے ۔ ان کے نزدیک جدید تعلیم کے اندر یہ خاصیت بھی ہونی چاہئے جو جدید نسل کے اندر تحریک اور تسخیر کائنات کا ایک غیر متزلزل جذبہ بھی پیدا کرے۔ اور یہی مومن کی گم گشتہ میراث بھی ہے ۔ 
خدائے لم یذل کا دست قدرت تو زبان تو ہے یقین پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے 
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلمان کی ستارے جس کے گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے 
مکاں فانی ، مکیں فانی ، ازل تیرا ابد تیرا خدا کا آخری پیغام تو ہے جاویداں تو ہے 
حنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیرا تیرا نسبت براہیمی معمار جہاں تو ہے 
تیری فطرت امین ہے ممکنات زندگانی کا جہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحان تو ہے 
سبق پھر پڑھ صداقت کا ، عدالت کا ،شجاعت کا لیا جائے گا تم سے کام دنیا کی امامت کا 
الغرض تعلیمی اداروں اور خصوصاً اعلیٰ تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کی ترویج ، علم کی تخلیق ، تحقیق سے لے کر معاشرے کے اندر اعلیٰ اخلاق و اقدار پر مبنی انسانوں کی تعمیر اساتذہ ہی کی مرہون منت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ میں ایک معلم ہوں اور میری بعثت کی بنیاد اور اساس اخلاق و کردار سازی ہے ۔ ہم سب کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ دورِ حاضر کی طاغوتی یلغار اور میڈیا کے طوفان کے سامنے اپنے طلبہ کو بہترین و کامیاب انسان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ یہی حقیقتاً ہمارا خواب بھی ہے اور ہماری دنیوی و اخروی کامیابی کا ضامن بھی ہے ۔ میری دعا ہے کہ خداہمیں ایسی صلاحیتوں سے بہرہ ور کرے جس کے ذریعے ہم اپنا یہ کردار احسن طریقے سے ادا کرتے ہوئے خدا کے سامنے سرخرو ہوں۔ آمین

Post a Comment

Previous Post Next Post