مقبوضہ گلگت بلتستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیوں نہیں؟ تحریر: صاحب مدد شاہ

مقبوضہ گلگت بلتستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیوں نہیں؟ 


تحریر: صاحب مدد شاہ

5 فروری 1990 کو پنجاب اسمبلی میں اسلامی جمہوری اتحاد کی طرف سے ایک قرار پیش کی جاتی ہے جس کا متن ہے " مقبوضہ کشمیر میں انڈیا کی طرف سے معصوم کشمیریوں پر ظلم وبربریت اور انسانی بنیادی حقوق کی پامالی پر بھرپور مزمت اور 5 فروری کو کشمیروں سے اظہار یکجہتی کا دن منایا جائے تاکہ اقوام عالم میں کشمیر کا موقف مضبوط اور کشمیروں کا اعتماد بحال ہو". اس وقت کے پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب میاں محمد نواز شریف اور وفاق میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اس موقف کی مکمل تائید کی یوں ہر سال 5 فروری کو سرکاری سطح پر اظہار یکجہتی کشمیر ڈے منایا جاتا ہے۔ 

مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں پر انڈین فوج کی طرف سے ظلم کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ہم کبھی بھی جموں اور کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کرسکتے ہیں بحثیت مسلمان یہ ہمارا دینی اور اخلاقی فرض ہے کسی مظلوم کی آواز بنے۔ جیسا اسرائیوں پر یہودیوں کے ظلم و ستم پر ہر سال یوم القدس منایا جاتا ہے اسی طرح یوم یکجہتی کشمیر منا کر اپنے مسلمان بھائی بہنوں سے ہمدردی کا اظہار کرسکتے ہیں۔ 

اسی طرح خطہ بے آئین گلگت بلتستان میں بھی ستر سالوں سے انسانی بنیادی حقوق کی پامالی ، ایک اشرافیہ کا ظلم ، وہاں کے وسائل کا بے دردی سے استعمال، پر امن سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں پر جھوٹے مقدمات درج کر کے جیلوں کے سلاخوں کے پیچھے دکھیلنا اور ایک سازش کے تحت مسئلہ کشمیر کے ساتھ چوتھا فریق بنا کر ستر سالوں سے لاقانونیت اور بے آئین بنانا بھی مسئلہ کشمیر سے کم نہیں ہے۔

جو قوانین پاکستان نے اپنے چار صوبوں کے لیے بنائے ہیں ان کا اطلاق گلگت بلتستان میں زبردستی ہوتا ہے۔ شیڈول فور اور اے ٹی اے جیسے کالے قوانین پاکستان نے ان خطرناک دہشت گردوں کے لیے بنائے ہیں جن کا تعلق کالعدم تنظیموں اور ملک دشمن عناصر سے ہیں ، مگر گلگت بلتستان میںں شیڈول فور ان پر امن سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں پر لگا جاتا ہے جو پر امن طریقے سے اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں ، اور پاکستانی حکام سے گلگت بلتستان کی خودمختاری کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 

ناانصافی کی جیتی جاگتی مثال ضلع ہنزہ سے تعلق رکھنے والے عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے اسیر رہنما بابا جان اور ان کے ساتھیوں کی ہے جنہوں نے پر امن طریقے سے سانحہ عطا آباد کے متاثرین کے حقوق کے لیے آواز بلند کی تھی اس جرم کے پاداش میں ان پر ہی جھوٹے مقدمات درج کر عمر قید سزا سنادی۔ آج تقریباً دس سال ہو چکے ہیں سانحہ عطا آباد کو اور بابا جان اور ان کے ساتھی عمر قید کاٹ رہے ہیں نہ کوئی جے ائی ٹی بنتی ، نہ کوئی جوڈیشل کمیشن بنتا، نہ فری اینڈ فیئر تحقیقات کے زریعے مسئلہ نمٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ اسیر رہنماؤں اور کارکنان کی ازایت میں مزید اضافہ کر دیا جاتاہے۔ دوسرے طرح ان کے خاندانی زریعے کی مطابق بابا جان دل کے عارضہ میں مبتلا ہیں مسلسل قید میں ان کی صحت بھگڑتی جا رہی ہے جیل حکام اور موجود گلگت بلتستان حکومت ٹس سے مس نہیں ہے۔ 

اسی طرح بابا جان جیسے سینکڑوں سیاسی اور سماجی نمائندے ازایتں برداشت کر رہے ہیں میں کس کس کا تزکرہ کرو یہاں تک کہ جابر انتظامیہ نے گلگت بلتستان کے طلبہ اور اساتذہ کرام کو بھی نہیں بخشا ہے وہ بھی شیڈول فور جیسے کالے قانون کی زد میں ہیں ان کے حرکات و سکنات کو مونیٹر کیا جاتا ہے کہی دور سفر کرنا ہو یا کسی تقریب میں شرکت کرنی ہو؛ تو وزارت داخلہ گلگت بلتستان سے خصوصی اجازت نامہ لینا پڑتا ہے۔

اگر مقبوضہ کشمیر اور مقبوضہ گلگت بلتستان کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو دونوں خطوں پر پاکستان اور بھارت غیر قانونی طور پر قابض ہیں ۔ اقوام متحدہ کے قرادوں کے مطابق دونوں خطے متنازع ہیں ان خطوں پر وہاں کے مقامی باسیوں کو حکمرانی کا حق ہے جو استصواب رائے سے ہی ممکن ہے۔

ریاست پاکستان اگر واقعی میں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے لیے دکھ درد رکھتی ہے تو گلگت بلتستان میں بھی تقریباً پچیس لاکھ کے لگ بھگ مسلمان رہتے ہیں ان کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے بلاوجہ حق پرستوں اور قوم پرستوں کو دیوار سے لگایا جاتا ہے جھوٹے مقدمات درج کر کے حق پرستوں کو پابند سلاسل کردیا جاتا ہے ان کے ساتھ بھی ہمدردی اور جبری طور پر لگائے گے کالے قوانین پر بھی نظر ثانی کرے.

سوال یہاں یہ ہے کہ پاکستانی عوام اور سیاست دانوں کی طرف سے آج تک پاکستان کے قومی اسمبلی ، سینٹ یا کسی صوبائی اسمبلی میں گلگت بلتستان کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی میں کوئی بحث یا کوئی قراداد کیوں پیش نہیں کی گئی؟ کیوں پاکستان کا مین اسٹریم میڈیا خالی گلگت بلتستان کا موسم کا صورت حال بتانے پر تلا ، جبکہ گلگت بلتستان کا سیاسی ، سماجی اقتصادی ، تعلیمی اور معاشی ٹمپریچر گرمیوں میں پچاس سینٹی گریڈ اور سردیوں میں منفی تیس سینٹی گریڈ سے بھی گر جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کے لوگ اتنے سخت جان ہے وہ سخت سے سخت موسمی حالات برداشت کرینگے مگر ستر سالوں سے ایک متنازع خطہ کو جھوٹ اور فریب سے پاکستانی قرار دے کر پچیس لاکھ لوگوں کو گمراہ کیا گیا ہے اس پر کسی کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ اگر کوئی گلگت بلتستان کے باسیوں کو حالیہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد بھی پاکستانی سمجھاتا ہے تو اس کی سوچ پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ پاکستانی حکام اور عوام اگر مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کر سکتے تو مقبوضہ گلگت بلتستان میں انسانی بنیادی کی پامالی پر اظہار یکجہتی کیوں نہیں؟

Post a Comment

Previous Post Next Post