عنوان : میری پہچان نّو
کلام :نوشاد شیراز نوشی
بَہتّر سال پہلو میں بِٹھا کے۔۔۔
نہ آزادی خود مختاری ملی ہے
یہ کیسا منسلک رشتہ ہمارا؟ ؟ ؟
جہاں پہ صرف محرومی ملی ہے
سیاسی مصلحت کی محفلوں سے
سدا اب خوب رسوائی ملی ہے
سی۔ایم صاحب کو القابات بولوں؟
بیک کشمیر راہداری ملی ہے
بیان یوں غیرتِ کشمیر پہ کیوں؟
تیرے حصّے میں وہ دھرتی ملی ہے؟
تو زندہ قوم سے تھے میر غضنفر
یہاں بجلی نہ روزگاری ملی ہے
یہ جنت تجھ کو بولے ہیں اے کشمیر
تیرے حصّے میں نیلامی ملی ہے
مقدمہ جب لڑے عرض ِ شمال کا
خلافت میں بھی کشمیری ملی ہے
بھلا میں چاہتی کشمیر کی ہوں
عبث اب قید میں پنچھی ملی ہے
کوئی یکجان ہوکے پوچھتا اب
میری پہچان میں سیا ہی ملی ہے
وہ یکجہتی بقاء کی آڑ میں اب
فقط عادات بچگانی ملی ہے
عناصر غیر کی صحبت سے یکدم
طلاطم خیز طغیانی ملی ہے
صدا اک آس میں دی تم نے دُختر
جواباً آج یہ ریلی ملی ہے
لہو سے پوچھو تم دھرتی کی چاہت
فقط گلگت کی شیدائی ملی ہے
تو غیرت مند دھرتی سے ہے نوشی
وفا میں عزم فولادی ملی ہے
