متنازہِ کشمیر ، گلگت بلتستان و پاکستان
تحریر :قمر الزمان شاہ
یہ بات واضح رہے کہ ہمیں کشمیر سے محبت، کشمیریوں کے برابر اور سیاسی ایوانوں میں بیٹھے ہوئے مسخروں سے بڑھ کر ہے۔ اگر ثبوت چاہیے، تو 72 سالوں کے تاریخی اورق پلٹا کر ضرور دیکھئیے۔ اب کوئی ہمیں یہ سکھانے کی ہرگِز بھی سعی نہ کریں کہ “آج ہم کونسا دن منائیں، تو کونسا نہ منائیں”۔ شکریہ!
مذہب کی آڑھ میں سیاست چمکانے والے گیدھڑ بھی یہ بات کان کھول کر سن لیں، کہ تمھاری یہ شیطانی چالیں اب اور نہیں چلنے والی ہیں کہ تُم پچھلے 72 سالوں سے اس محبِ وطن عوام کی وفاداریوں کا غلط فائید اُٹھاتے ہوئے، اپنی مذہبی کارڑ کھیلتے رہے ہو۔ بہتر ہوگا کہ مذہب کو اپنے دل کے عقیدے اور پروردگار تک ہی محدود رکھو، کہ پھر اگلی دنیا میں تمھارا منہ کالا نہ ہو۔
کشمیریت کا علمبردار اور خود کو کشمیری کہلوانے والے بھی یہ بات کان کھول کر سُن لیں کہ تین پُشتوں سے کسی دوسرے دیس میں رہنے والے، خود کو اجداد کی زمین سے ہر گِز بھی منسلک نہیں کرتے؛ اور اگر اتنا ہی حُب و جذبہ ہوتا تو آج تُم سرینگر کے گلیوں میں آزادی کے جہد میں مگن اور لاچار کشمیریوں کے حق میں آوازیں بلند کررہے ہوتے، نہ کہ گلگتبلتستان میں آرام کی زندگی بسر کرتے۔ اور آج بجائے گلگتبلتستان کے غیور قوم کا شکریہ ادا کرنے کے، تُم اِسی قوم کو کوس رہے ہو جسنے تُمہیں پناہ دیا؟ افسوس!
اور اگر بات اجداد کے وطن سے ہی منسلکی کی ہوتی، تو آج ہم میں سے اکثریت خود کو گلگتی کہلوانے کے بجائے عربی، ایرانی، افغانی یا پھر تاجکی کہلوانے پر فخر محسوس کرتے، حالانہ ایسی کوئی بات نہیں۔ اسی لیئے خود کو اور دوسروں کو جانے یا انجانے میں بیوقوف بنانے سے اجتناب کریں۔ شکریہ!
بات احساس، ذمہ داری، اُصول اور دانائی کی ہے؛ یہاں فتنہ و فساد بھرپا کرنے سے کسی کا کوئی بھلا نہیں ہونے والا ہے۔ اور ہاں اگر آپ تمام کی ہمدردیاں؛ گلگتبلتستان سے بڑھ کر ہندوستان کے ساتھ ہیں، تو پھر وہ ایک الگ سی پہلو کی بات ہوگی۔ لیکن یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ایسی کوئی بات ہی نہیں، جبکہ اکثریت لاعلمی، نادانی اور غیر تحقیقانہ افوہوں کے بنیادوں پر ہی گُمراہ ہیں۔
سب یہ جانتے ہیں، یا پھر کچھ لوگ سب جانتے ہوئے بھی انجان بننے کی ناکام سی کوشش کرتے ہیں کہ “مُلکِ خُدادار” کے زوال اور گمراہی کا واحد سبب “سیاست چوکیداروں کے دمے لگائے رکھنا اور چوکیداری سیاستدانوں کے حوالے کرنا” ہی ہے۔
اے کاش! کہ جناح آج پھر سے ذندہ ہوجاتے اور ان تمام ڈھولک بجانے والے سیاسی بیوپاری سے یہ سوال کرتے کہ
“میاں! کیا ہم نے یہ مُلک تمہیں اسی لیئے بنا کر دیا تھا کہ تُم آج اسکا بٹھوارا نکالو؟”
اور جسکے ہاتھ میں لاٹھی، اگر وہی حکومت کا حقدار اور اگر اُسکی ہر بات دُرست ہوتی تو آج دنیا میں حکومت ہٹلر اور فوعون کی ہوتی! اور پھر وہ اسطرح سے دنیا کے سامنے ذلیل و خوار ہرگِز بھی نہ ہوتے۔
وقت ایک بہت ہی بڑا اُستاد ہے، جس جس قوم نے وقت سے سبق حاصل کیا، وہ ہمیشہ کامیابی و کامران کے ہی علمبردار رہے۔ اور جس قوم نے وقت کا بٹوارا ذات، مذہب اور علاقائیت کے آڑھ میں نکالا؛ وہ ہمیشہ ہٹلر اور فرعون کی طرح ذلیل و خوار ہی ہوتے رہے اور رہتی دنیا تک کیلیئے فقت ایک نشانِ عبرت ہی بن کر رہ گئے۔
اے ہماری قوم!
اب بھی وقت ہی کہ سدھر جاو، پھر نہ کہنا کہ خبر نہ ہوئی۔!!
اُمیدِ سَحَر
