! میٹرک کا رزلٹ اور اُستاد کا کردار تحریر : انصار علی

! میٹرک کا رزلٹ اور اُستاد کا کردار

تحریر : انصار علی

گذشتہ تحریروں میں ہم نے میٹرک کےا متحانات اور ذمہ داری کا تعین کیا تھا اور بعض اِصلاحات کی نشاندہی کی تھی۔ ہماری تحریروں کو کافی پذیرائی ملی اور احباب کی طرف سے بہت سارے کمنٹس اور وائس میسجز موصول ہوئے۔  ہم نے عرض کیا تھا کہ ای سی ڈی  سطح (ECD) پر تعلیمی معیار کو بہتر بنائے بغیر میٹرک اور ایف ایس سی میں ”بہترین نتائج“ کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ ای سی ڈی تعلیم بچے کی ”بنیاد“ اور پختہ ”اینٹ“ کی مانند ہے۔ جس طرح عمارت کی مضبوطی اُس کی بنیاد پر منحصر ہے اِسی طرح بچے کی مڈل اور ہائر ایجوکیشن کا تمام تر دارو مدار ای سی ڈی  (ECD) پر ہے۔ اگر بنیادی اینٹ ہی آڑھی ترچھی ہو تو عمارت کی بلندی جس قدر بھی ہو ،کمزور اور ٹیڑھی کی ٹیڑھی ہی رہے گی۔ معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر حاجی کریم خان صاحب اِس حوالے سے اپنا تبصرہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

”بورڈ میں بہتر نتائج کےلئے پرائمری اسکولوں سے ہی کام کرنا چاہیے۔“

لیکن ای سی ڈی لیول (ECD)  پر یا ایلمنٹری لیول  کو پڑھانے والے اکثر اساتذہ سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہوئے ہیں۔ سال 2014ء میں قریب ایک ہزار  افراد نے  پیسے دے کر”معلمی کا پیشہ“ اختیار کیا اور نہیں معلوم کہ اِس خطے کے لوگ پیسوں کے بل بوتے پر بھرتے ہوئے ”معلمین“ کو کب تک بھگتے رہیں گے۔آج بھی انہی معلمین کی باقیات کورٹ کیس کے ذریعے تعلیمی اداروں کا حصہ بننے کےلئے پورا زور لگا رہی ہیں۔حالیہ ای ایس ٹی ETS کی مشتہیر  پوسٹوں پر   عدالت سے حکم امتناہی (سٹے) کرانے میں یہی لوگ  ملوث ہیں۔ چور دروازے سے آنے پر نکالے جانے والے ان پو سٹوں کو اپنا حق سمجھتے ہیں جو کہ ہزاروں درخواستیں دے کر چار ماہ سے تیاری کرنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے ساتھ نا انصافی اورآنے والی نسلوں کے ساتھ زیادتی ہے، جو اپنے اثر رسوخ  سےاور پیسے دے کر معلمان بننا چاہتے ہیں اُن  کو گھر رکھ کر  تنخواہ دینا بچوں کے حق میں  زیادہ مفید رہے گا۔ بجائے اس کے کہ وہ ان ہو نہاروں کا  کی بنیاد خراب کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی کالی بھیڑیں اساتذہ کی شکل میں سکول کا رزلٹ خراب کرنے میں پیش پیش ہیں۔دوسری تلخ حقیقت ہے اکثر لیڈی ٹیچرز گھر بیٹھے اپنی جگہ کسی میٹرک یا ایف اے پاس کو پانچ، دس ہزار کی رقم  دے کر تنخواہ ہڑپ کررہی ہیں اور کچھ اثر رسوخ رکھنے والی لیڈی ٹیچرز تو تقریباً  ہر سال میٹرنٹی لیوپر ہوتی ہیں۔ جس طرح پچھلے کالم میں بات کی تھی کہ طالب علم کی کامیابی کےلئے  اس کااپٹیٹیوٹ (رجحان ) ٹسٹ لازمی ہے اس طرح استاد کا بھی اپٹیٹوڈ (رجحان ) ٹیسٹ ضروری ہے تا کہ  صرف وہ شخصیات اس پیشے سے وابستہ ہوں جن کو پڑھانے کا شغف ہو اور احساس ذمہ داری اور اس منصب کی اہمیت کا اندازہ بھی ہو۔ اس ضمن میں چند گزارشات درجہ ذیل ہیں:

(1) ای سی ڈی (ECD) اور پرائمری لیول پر پروفیشل اور تجربہ کار اساتذہ متعین کیے جائیں۔

(2) موجودہ اساتذۃ کو ای سی ڈی کی کم از کم از کم ایک مہینے کی ٹریننگ دی جانی چاہیے۔

(3) اساتذہ کی بھرتی کےلئے بہتریں فورم (ٹیسٹ انٹرویو ) تشکیل دیا جائے۔کم از کم اُستاد کی بھرتی میرٹ پرہواور سیاسی اثر رسوخ سے پاک ہونی چاہیے جن کے ہاتھوں قوم کی نسلوں نے تعلیم حاصل کرنی ہے۔ ایف پی ایس سی سپیشل کیسس میں گریڈ 14 کی تقرری کرتا ہے۔جب تک ہمارے ادارے فعال اور میرٹ کو سبوتاژ کرنے کی سوچ تبدیل نہیں ہوتی اساتذہ کی گریڈ 14 کی بھرتی بھی ٹی جی ٹی اور ٹی جی ایس ٹی کی طرح ایف پی ایس سی کو دی جائے۔۔لیکن تلخ حقائق یہ ہیں کہ  ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت 1000 ہزار کے قریب ایف پی ایس سی کے زریعے مشتہر یا ایف پی ایس سی بھیجی جانے والی  پوسٹون پر کورٹ سے حکم امتناہی (سٹے) ہے۔ارباب اختیار سے اس حوالے سے گزارش ہے خدارا ایف پی ایس سی کی پوسٹوں پر سٹے کا کلچر ختم کیا جائے اور چور دروازے سے ملازمت حاصل کرنے کیلیے کورٹ کا سہارہ لینے کا دروازہ بند کیا جائے۔ اس کیلیے کنٹیجنٹ اور کنٹریکٹ بھرتیوں پر بھی پابندی عائد کی جائے۔صرف ضرورت کے مطابق مستقل بھرتی کی جائے اور ڈیو پراسس کے مطابق متعلقہ فورم کے ذریعے کی جائے۔

(4) عاداتاً چھٹیاں کرنے والے اور خراب نتیجہ دینے والے اساتذہ کی انکریمنٹ بند  کی جانی چاہیے۔

(5) اچھا رزلٹ دینے والے اساتذہ کےلئے ایوارڈ اور تعیریفی اسناد دی جانی چاہیے اور کیش پرائز کا بھی اہتمام ہونا چاہیے۔ 

(6) اساتذہ کےلئے ٹریننگ اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کےلئے بھی واضح میکانیزم تشکیل دیا جائے۔ہر سال  اساتذہ کی اچھی خاصی تعداد بھرتی کی جائے۔ اے کے یو ، لمز جیسے تعلیمی اداروں سے ایم ایڈ، ایم فل پی ایچ ڈی وغیرہ کےلئے  بھیجنے چاہئیں اور ان کےلئے  محکمے  کی طرف سے مناسب  سکالرشپ کا بھی اہتمام کیا جانا چاہیے۔ 

(7) ود پیے  (تنخواہ سمیت) سٹڈی لیو ڈیوریشن( تعلیم کے حصول کیلیے چھٹی کا دورانیہ) کو پانچ سال سے کم کر کے تین سال کیا جانا چاہیے۔

(8) مستقل خراب رزلٹ کا سبب بنے والے اساتذہ سے تدریس  کے بجائے سکولوں میں ایڈمن اور  کیلیریکل لیول کا کام کرانا چاہیے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post