عنوان: آؤ جنگ لڑیں
شہادت کے جذبے سے سر شار ملک ، عزت اور مذہب کے نام پر مر مٹنے کو تیار قوم کے ساتھ انڈیا کیا خاک جنگ لڑے گا؟ خیر یہ ہمارے جزبات ہیں ویسا بھی ہم جزباتی قوم ہے۔۔۔۔ ملک و قوم پر کھبی کوئی آنچ آنے نہیں دینگے۔ مسلح افواج کا کام وطن کی دفاع کرنا ہے جو احسن انداز میں بخوبی اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں ۔۔۔ شیخ رشید اور فیصل واوڈا ہتھیار اٹھا کر بارڈر پر جانے کے لیے تیار ہیں، بلکہ فیصل واوڈا اگلے مورچوں پر پہنچ کر وطن کے محافظوں کے ساتھ سیلفی بنوانے میں کامیاب بھی ہوگئے ۔ شہادت کا جزبہ ہمارے دلوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے ہیں۔ مودی نے اس قوم کو للکارا ہے جو پیدا ہی شہادت پانے کے لیے ہوتی ہے۔
جب سے وزیراعظم عمران خان نے پالیمنٹ کے فلور پر انڈین پائلٹ کو peace gesture کے طور پر رہائی کا حکم دیا اسی دن سے ہم اخلاقی لحاظ سے جنگ جیت چکے ہیں، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جنگ کوئی نہیں جیتا اس میں صرف سچائی مر جاتی ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان اب تک جتنے بھی جنگیں لڑی گئی ہیں ان میں کون جیتا کون ہارا کسی کے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں. تاریخ اٹھا کر دیکھیں ایک صدی گزرنے کے باوجود بھی جنگ عظیم اول اور دوئم کے اثرات ابھی بھی عالمی دنیا پر اثرانداز ہو رہے ہیں جو صرف ایک شہزادہ کے قتل پر شروع ہوگر کروڈوں معصوم لوگوں کو نگل لیا۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے جنگ سے تباہی مچنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ بلاشبہ جب بات ملک و قوم کی سالمیت کی ہو، گھپ اندھیرے میں دشمن گھر پر حملہ آور ہو ، شرافت کا غلط فائدہ اٹھایا جائے، امن کے پیغامات کو مسترد کر کے جنگ پر ہی آمادہ ہو ان کو سبق ان کے اپنی زبان میں ہی سیکھانے کے علاؤہ کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں ہے۔
اگرچہ بات جنگ کی ہو رہی ہے تو کیوں نہ غربت، افلاس ، بھوگ ، بے روزگاری، ناخواندگی، کرپشن اور اقربا پروری کے خلاف جنگ لڑی جائے جو صدیوں سے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں چالیس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے، لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں ، ہزاروں نوجوان بے روزگاری اور گھریلوں ناچاقیوں کی وجہ سے اپنی زندگی کا چراغ گل کر دیتے ہیں ، زینب اور دیدار حسین جیسے سینکڑوں بچوں کو انسان نما درندے اپنے جنسی حوس کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کر دیتے ہیں۔ نوجوان لاکھوں روپے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لگا کر دھکے کھا کر بڑی مشکل سے ڈگریاں حاصل کر کے بھی بے روزگار پھرتے ہیں۔ کیوں نہ جنگ اس کرپٹ نظام کے خلاف لڑی جائے جس میں امیر امیر اور غریب غریب تر ہوتا جاتا ہے، ایک ان پڑھ سیاستدان پیسہ لگا کر ایم این اے منتخب ہو کر پڑھے لکھے نوجوانوں کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے۔ گورنمنٹ ڈاکٹرز ہسپتال کے بجائے اپنی زاتی کلینک پر زیادہ وقت صرف کرتے ہیں۔ گورنمنٹ ٹیچروں کو گورنمنٹ نوکری اچھی لگتی ہے مگر اپنے بچوں کو اپنے متعلقہ سکول میں داخل کر کے بجائے پرائویٹ سکولوں کو ترجیح دیتے ہیں۔
اگر بات عدل و انصاف کی ہو جائے تو قانون کے رکھوالے ہی قانون کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں، ڈکٹیشن پر فیصلے ہوتے ہیں ، کہی اور سے لکھے گئے فیصلے سنانا روز کا معمول بن چکا ہے، پولیس بغیر تحقیق کے معصوم شہریوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیتی ہے، ابھی تک نقیب اللہ محسود کے والد انصاف کے منتظر ہیں جو انصاف ہوتا ہوا دیکھائی نہیں دیتا ہے۔ رواں سال جنوری میں ساہیوال میں خلیل نامی شخص ، اس کی اہلیہ اور تین بچے سمیت سی ٹی ڈی پنجاب کے اہلکار نے بغیر تحقیق کے دہشتگرد سمجھ کر دن دھاڑے قتل کر دیا۔
اس سے بڑھ کر درندگی اور کیا ہوسکتی ہے خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان میں ایک شادی کی تقریب میں (Clapping) یعنی تالیاں بجانے کے جرم میں دو لڑکیاں اور ایک لڑکے کو جرگے نے قتل کرنے کا حکم دیا جو حکم کی تعمیل کرتے ہوئے قتل کردیا گیا۔ بعد ازاں افضل کوھستانی نامی نوجوان نے اس قتل کو آئین اور قانون کے منافی قرار دے کر عدالت کا دروازہ کھٹکٹایا تھا اس جرم کی پاداش میں افضل کوھستانی کو کل ایبٹ آباد کے مقام پر نامعلوم افراد نے بے دردی سے قتل کردیا۔ اس طرح کے انسان سوز واقعات آئے دن سنے کو ملتے ہیں ۔
مسلح افواج یقیناً بھارت سے جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور دشمن کے کسی بھی شازش کو ناکام بنا سکتے ہیں، مگر بھوک، افلاس، غربت، رشوت، ناانصافی اور اقربا پروری کے خلاف جنگ ہم سولین ہی لڑسکتے ہیں۔ ان معاشرتی برائوں کو معاشرے سے ختم کر کے ہم بھی غازی یا شہید کا رتبہ پا سکتے ہیں۔
