غیر جانبداری ، برابری ۔۔؟ تحریر : ایمان شاہ

غیر جانبداری ، برابری ۔۔؟


تحریر : ایمان شاہ 

مخلوق کا خالق زمین پر چلنے والے ہر جاندار کے رزق کا کفیل ہے ، اس میں سب مخلوق شامل ہیں ، انسان ، حیوان ، کیڑے مکوڑے ، چرند پرند ، غرضیکہ ہر ذی جان اور ذی روح۔۔۔۔ رزق صرف یہی نہیں کہ جیب میں مال ہو ، بلکہ ہماری ہر صفت رزق ہے اور ہماری ہر استعداد رزق ہے ، بینائی رزق ہے ، گویائی رزق ہے ، احساس رزق ہے ، سماعت رزق ہے ، وجود کی طاقت اور لطافت رزق ہے ، خوشی رزق ہے ، علم رزق ہے ، محبت رزق ہے ، حسن رزق ہے ، ذوق جمال رزق ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ایمان رزق ہے ۔۔۔
شگر ، کھرمنگ ، ہنزہ اور نگر کو ضلاع بنائے جانے کے بعد داریل ، تانگیر اور یاسین گوپس پر مشتمل تین نئے اضلاع کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا تو لیگی حکومت کے پاس اس عمل ( اضلاع نہ بنائے جانے ) کا کوئی معقول جواز نہیں رہے گا اور اضلاع کے قیام عمل میں لائے بغیر کی جانے والی ہر قسم کی تعمیر و ترقی بے وقعت اور بے معنی ہوکر رہ جائیگی ، جغرافیائی اعتبار سے داریل اور تانگیر پر مشتمل ضلع بنائے جانے کا اس لئے کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا ہے کہ تانگیرکو ہیڈ کوارٹر بنائے جانے کی صورت میں داریل کے عوام کو لمبی مسافت جبکہ داریل کو ہیڈ کوارٹر بنانے سے تانگیر کے عوام گھنٹوں کاسفر طے کرکے اپنے ضلعی ہیڈ کوارٹر تک رسائی کر پائینگے ، مجھے پورا یقین ہے اور اس لئے یہ بات لکھ رہا ہوں کہ داریل اور تانگیر کا شمار پاکستان ایسے واحد سب ڈویژنز میں ہو چکا ہے جہاں کے عوام کو اپنے ضلعی ہیڈ کوارٹر تک رسائی کیلئے ایک صوبے سے گزرنا پڑ رہا ہے ، اس بات کو مزید واضح کرکے بیان کرنے کی ضرورت پڑ جائیگی ، داریل اور تانگیر کا ضلع دیامر کے ہیڈ کوارٹر چلاس سے براہ راست زمینی رابطہ شاہراہ قراقرم کے ذریعے ہوتا ہے اور دونوں سب ڈویژنز کے عوام خیبر پختونخواہ کے حدود سے گزر کر تقریباً 4گھنٹے سے زائد کی مسافت طے کرکے چلاس پہنچ جاتے ہیں ، دونوں سب ڈویژنز کو ملا کر ضلع بنا بھی دیا جائے جسکے لئے داریل کے حدود میں سوت داس کا نام لیا جا رہا ہے تب بھی داریل اور تانگیر کے دور دراز علاقوں کے عوام کیلئے ضلعی ہیڈ کوارٹر تک رسائی کیلئے تین گھنٹے کی مسافت طے کرنی پڑے گی جو کسی بھی طور پردونوں سب ڈویژنز کے عوام کی مشکلات اور مسائل میں کمی لانے میں کارگر ثابت نہیں ہو سکتا ہے اور میری ناقص معلومات کے مطابق ’’ سوت داس ‘‘ کو ضلعی ہیڈ کوارٹر بنانے کا فیصلہ تانگیر کے عوام کو ہر گز قبول نہیں ہے اور صورتحال ضلع ہنزہ نگر والی جیسی پیدا ہوگی جہاں 9سال تک ضلعی ہیڈ کوارٹر کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا اوریہ مسئلہ تب حل ہوا جب جولائی 2015میں ہنزہ اور نگر کو الگ الگ اضلاع کا درجہ دیتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ، یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اکتوبر 2007تک ہنزہ اور نگر ضلع گلگت کا حصہ رہے ، اکتوبر 2007میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے دورہ گلگت بلتستان کے دوران لالک جان سٹیڈیم میں ہنزہ نگر کو ضلع گلگت سے الگ کرتے ہوئے الگ ضلع بنانے کا اعلان کیا تھا اور 10دسمبر 2007کو ہنزہ اور نگر پر مشتمل ضلعے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا ، 2015تک ضلعی ہیڈ کوارٹر کے تنازعے کی وجہ سے ضلعی ہیڈ کوارٹر کا تعین نہ ہو سکا اور سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اپریل 2015میں اپنے دورہ گلگت بلتستان کے دوران چار نئے اضلاع ہنزہ ، نگر ، شگر اور کھرمنگ کے قیام کا اعلان کیا اورچند ماہ بعد جولائی 2015میں چاروں اضلاع کے قیام کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہو گیا جسکے بعد ضلع ہنزہ اور ضلع نگر کے عوام کے مابین ہیڈ کوارٹر کے مسئلے پر جاری سرد جنگ کا خاتمہ ہو گیا ، داریل اور تانگیر کی صورتحال اس بھی زیادہ گھمبیر ہے جسکی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہیڈ کوارٹر تک رسائی کیلئے طویل مسافت دونوں سب ڈویژنز کو ملا کر ضلع بنائے جانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ، داریل اور تانگیر کو الگ ضلع بنائے جانے میں حائل رکاوٹوں سے نمٹنے کیلئے ہنزہ نگر والا فارمولا استعمال ہو سکتا ہے جسکے تحت پہلے دونوں کو ملا کر ضلع کا درجہ دیا جائے ، پھر پیڈ کوارٹر کے تنازعے کو جواز بنا کر 9سال تک لٹکائے رکھا جائے اور پھر کسی اچھے وقت کے انتظار میں 9سال گزار دئیے جائیں جس کے بعد دونوں سب ڈویژنز کو الگ اضلاع کا درجہ دیا جائے ، ایسا کرنا کسی بھی طور مناسب نہیں ہوگا،ہنزہ نگر طرز کے فارمولے کا ذکر میں از راہ مذاق کیا ہے اور اس قضیے سے بچنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ فوری طور پر داریل اور تانگیر کو الگ الگ اضلاع کا درجہ دیا جائے جس سے نہ صرف علاقے کے عوام کو درپیش مشکلات میں کمی آسکے گی بلکہ ریاست کی رٹ بھی مضبوط ہوگی اور گاہے بگاہے پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام میں آسانی رہے گی ، داریل تانگیر کی طرح ضلع غذر میں بھی ایک نئے ضلعے کا قیام سمیت آبادی اور رقبے کو مد نظر رکھتے ہوئے قانون ساز اسمبلی میں اضافی نشست کا اعلان وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور مقتدر حلقوں کی اولین ذمہ داری ہے ، ضلع غذر وہ واحد ضلع ہے جس کے بہادر سپوتوں نے دفاع وطن کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور شہید لالک جان نشان حیدر جیسے بہادر سپوت کا تعلق بھی ضلع غذر کے علاقے ( یاسین ) سے ہے ، عسکری اور صوبائی حکام کو اس بات کا علم ہوگا کہ ضلع غذر گلگت بلتستان کا پسماندہ ترین ضلع ہے اور تعمیر و ترقی کے حوالے سے باقی تمام اضلاع سے پیچھے ہے اسکے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں شہداء کی قربانیوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے مٹھی بھر قوم پرستوں کی سرگرمیوں کو آڑ بنا کر ضلع غذر کو بدنام کرنے کی ماضی میں دانستہ اور نادانستہ کوششیں بھی کی گئیں جس سے ضلع غذر کے لاکھوں محب وطن لوگوں کے نہ صرف جذبات مجروع ہوئے بلکہ احساس محرومی میں بھی مزید اضافہ ہو گیا ، جس کی وجہ سے ضلع غذر کی یوتھ میں مایوسی پھیل جانا فطری امر تھا ، حکومت وقت اور مقتدر حلقوں کی یہی کوشش ہونی چاہئے کہ وہ اس مایوسی کو دورکریں اور مایوسی کو دور کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ یاسین گوپس پر مشتمل نئے ضلعے کے قیام کا فوری اعلان کیا جائے اور ممبران اسمبلی کی تعداد تین سے بڑھا کر چار کرنے کیلئے نئی حلقہ بندیوں پر فوری کام شروع کیاجائے جبکہ تعمیر و ترقی کے عمل میں تیزی لانے کیلئے بھر پور اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ضلع غذر کی پسماندگی دور ہو سکے۔۔۔۔۔۔
چند روز قبل گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے روندو کو الگ ضلع بنانے کا اعلان کرکے اہلیان بلتستان بالخصوص روندو کے عوام کے دل جیت لئے ہیں تاہم کیا ہی بہتر ہوتا کہ گورنر گلگت بلتستان داریل ، تانگیر اور یاسین گوپس پر مشتمل اضلاع کے قیام کا بھی اعلان کر لیتے تاکہ غیر جانبداری اور برابری کی بنیاد پر جی بی کے تمام اضلاع کی تعمیر و ترقی کا تاثرنہ صرف قائم رہتا بلکہ عملی طور پر بھی نظر آتااورساتھ ہی ساتھ پاکستان تحریک انصاف کا امیج بھی بہتر ہوجاتا۔۔۔۔۔
اختتام اس بات پر کرونگا کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے غذر اور داریل تانگیر کے عوام کو درپیش حقیقی مسائل ( اضلاع کے قیام اور نشستوں میں اضافے ) کے حوالے سے فوری طور پر کوئی قدم نہیں اٹھایا تو پھر ن لیگ کیلئے ضلع غذر کی تینوں نشستوں سمیت داریل تانگیر کی 2نشستوں سے امیدواروں کی تلاش میں بھی مشکلات پیش آسکتی ہیں ۔۔۔۔۔۔

Post a Comment

Previous Post Next Post