تعصب ہی تعصب تحریر : ایمان شاہ

تعصب ہی تعصب


تحریر : ایمان شاہ 

انسان جب تک زندہ ہے بے آرزو نہیں ہو سکتا ، شاید آرزو ہی زندگی ہے ، ہر انسان صاحب آرزو ہے ، ہر دل آرزو پیدا کرتا ہے ، آرزو نہ ہو تو زندگی بے معنی ہوکر رہ جائے ، اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ آرزوئیں انسان کو بے بس کر دیتی ہیں ، انسان آرزؤں کے حصار میں اس طرح جکڑا جاتا ہے جیسے شہد میں مکھی اور پھر انسان ڈوبتا ہی چلا جاتا ہے ، ایک آرزو کا تعاقب ہمیں دوسرے آرزو سے متعارف کراتا ہے اور اس طرح سلسلہ در سلسلہ زنجیر بنتی چلی جاتی ہے اور اس سے نجات کی راہ ممکن نہیں رہتی ، انسان کی آرزو اسے نیکی اور بدی کے راستے دکھاتی ہے ، تکمیل آرزو کے مراحل بڑے کٹھن ہیں ، خوش رہنے کی آرزو غم سے آشنا کرتی ہے ، حاصل کی آرزو محرومیوں کے دامن سے وابستہ کرتی ہے ، جینے کی آرزو موت کے شکنجے میں لاتی ہے ، آرزو کا سفر مرگ آرزو تک ہے ، جو حاصل ہو گیا ، اس کی تمنا ختم ہوجاتی ہے اور جو نہ حاصل ہو سکے وہ ایک حسرت نا تمام بن کر دم توڑ دیتی ہے۔۔۔

انیتا کریم نے مکس مارشل آرٹس (MMA) میں عالمی ٹائٹل جیت کر پاکستان کا نام روشن کیا ، عمران خان نے 1992کا ورلڈ کپ جیتا تھا ، کیسا فقید المثال استقبال کیا تھا پاکستانی قوم نے ، چند روز قبل ورلڈ کپ جیت کر پاکستان کے شہر راولپنڈی واپس پہنچنے والی ٹیم کے(1992) استقبال کا منظر دیکھا تو سمجھ آئی کہ پاکستان کے عوام کے جذبہ حب الوطنی کے سامنے دنیا کی کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی ، صلہ دیا ، کینسر ہسپتال کی تعمیر سے لیکر وزیر اعظم کے عہدے تک کا سفر ورلڈ کپ میں بہترین کپتانی کا صلہ تھا ، گلگت بلتستان کے عوام کرکٹ سے والہانہ محبت اور عقیدت رکھتے ہیں ، ورلڈ پ جیتنے کے کچھ عرصے بعد عمران خان گلگت تشریف لاتے تو وی آئی پی ریسٹ ہاؤس ( موجودہ سی ایم ہاؤس ) میں عوام کا جم غفیر اکھٹا ہو گیا تھا ، کپتان کی ایک جھلک دیکھنے اور چانس ملنے پر مصافحہ کرنے کی تمنا لئے ۔۔۔۔

انیتا کریم کا ذکر کرتے ہیں ، ورلڈ ٹائٹل پاکستان کے نام کرکے گلگت بلتستان پہنچنے والی قوم کی بیٹی کا استقبال صرف ہنزہ کے عوام نے کیا ، پاکستان کے عوام زندہ دل ہیں ، اپنے ہیروز کو عزت دینا جانتے ہیں ، ہم بھی بحیثیت پاکستانی کرکٹ ، ہاکی اور اسکواش کے عالمی ٹائٹل جیتنے والے ہیروز کا عزت و احترام کرتے ہوئے خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں لیکن گلگت بلتستان کے عوام کو کیا ہو گیا ہے ، قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے بیٹوں اور بیٹیوں کو عزت و احترام دیتے ہوئے بھی مذہبی و علاقائی تعصبات کا شکار نظر آتے ہیں ، سپیشل اولمپکس میں کئی مرتبہ شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کرنے والے سپوتوں کی حوصلہ افزائی نہ تو علاقائی سطح پر کی گئی اور نہ ہی حکومتی ذمہ داران نے ہمت افزائی کرنے کی زحمت گوارا کی ، اوشکھنداس سے تعلق رکھنے والی خاتون سلیمہ بیگم نے بین الاقوامی مقابلے میں ’’ بیسٹ ٹیچر ‘‘ کا ایوارڈ حاصل کرکے اپنا صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ، لیکن حکومتی، سیاسی و سماجی حلقوں نے اس خاتون کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کسی تقریب کا انعقاد کرتے ہوئے شاید شرم محسوس کی ہوگی، وومن ڈویلپمنٹ نامی ادارہ خواتین کی ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے قائم کیا گیا ہے لیکن دیگر سرکاری اداروں کی خواتین کی تعمیر و ترقی سمیت فلاح و بہبود کیلئے بنائے گئے ادارے میں کام کرنے والے ملازمین کا اولین مقصد ہی یہی ہے کہ اپنے ذاتی مفادات اور مراعات کیلئے کام کرتے رہتے ہیں، محکمہ بہبود و خواتین ، محکمہ تعلیم اور جی بی سپورٹس بورڈ کو شاید اس بات کا علم ہی نہ ہوگا کہ گلگت بلتستان کی دو ہو نہار خواتین کو عالمی سطح پر اعزازات سے نوازا گیا ہے ، جی بی سپورٹس بورڈ بھی سپیشل اولمپکس میں گلگت بلتستان کے کھلاڑیوں کی بہترین پرفارمنس سے یقیناًآگہی نہیں رکھتا ہوگا کیونکہ جی بی سپورٹس بورڈ کی اولین ذمہ داری ہی یہی ہے کہ فنڈز میں خرد برد کا فریضہ بخوبی سر انجام دیا جائے اور اگر جی بی کی خواتین کی کسی ٹیم کی سلیکشن مقصود ہو تو پورے انہماک کے ساتھ اس فریضے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور میں اس موضوع پر کئی مرتبہ لکھ بھی چکا ہوں کہ بعض خواتین کو سپورٹس کی سرگرمیوں کے نام پر کس طرح ذلیل و رسوا کیا گیا اور کیاجاتا رہا ہے،انیتا کریم اور سپیشل اولمپکس میں مختلف ٹائٹل جیت کر واپس آنے والے کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنے کے پس پردہ جی بی سپورٹس بورڈ کی ذہنیت ملاحظہ فرمائیں کہ ذاتی مقاصد ، مفادات اور غلیظ حرکتوں کی تکمیل کے حوالے سے کسی بھی ایونٹ کیلئے تمام حدود و قیود کو پاؤں تلے روند ڈالتے ہوئے ناممکن کو بھی ممکن بنانا ہے جبکہ حقیقی معنوں میں ملک اور علاقے کا نام روشن کرنے والوں کو اس لئے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے کہ ذاتی مقاصد اور مفادات کی تکمیل ممکن نہیں اور ایسی ہی گھٹیا ، گندی اور بیمار زہنیت کی وجہ سے مذہبی اور علاقائی تقسیم مزید گہری ہوتی جا رہی ہے ۔ ۔۔۔۔

اب ذرا حکمرانوں ، سیاسی و سماجی حلقوں کی بے حسی ملاحظہ فرمائیں کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے انیتا کریم سمیت سپیشل اولمپکس جیتنے والوں کی حوصلہ افزائی کیلئے میڈیا میں بیان جاری کرنے تک گوارا نہیں کیا ، حافظ حفیظ الرحمن زبانی کلامی کہتے رہتے ہیں کہ شہباز شریف میرے استاد ہیں ، شہباز شریف نہ صرف اپنے صوبے ( پنجاب ) بلکہ دیگر صوبوں کے ہونہار طلبہ و طالبات ، سپورٹس میں بہترین کارکردگی دکھانے والوں سمیت ادب و ثقافت کے حوالے سے گراں قدر خدمات سر انجام دینے والوں کی حوصلہ افزائی وزیر اعلیٰ ہاؤس میں تقاریب کے انعقاد اور میڈلز کی صورت کیا کرتے تھے ، شہباز شریف کے شاگرد کو شاید ابھی تک کسی نے بتایا ہی نہیں ہوگا کہ پاکستان کے دور دراز علاقے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے بیسٹ ٹیچر کا بین الاقوامی اعزاز اپنے نام کر لیا ہے ، ایک بچی مارشل آرٹس کے بین الاقوامی مقابلے میں وکٹری پاکستان اور گلگت بلتستان کے نام کر چکی ہے ، خصوصی افراد کیلئے منعقد ہونے والے اولمپکس میں اسی علاقے کے بچے نے مختلف اعزازات لیکر واپس پہنچ گئے ہیں ، 14لاکھ آبادی والے صوبے کیلئے اتنے سارے اعزازات ، لیکن حافظ حفیظ الرحمن کو خبر تک نہیں ہوئی ، اگر ہوئی بھی ہے تو کوئی سروکار نہیں ، گورنرگلگت بلتستان سے تو توقعات ہی وابستہ نہیں ہیں ، گورنر ہاؤس میں بیٹھا ایک گمنام شخص جسے ریاست ماہانہ چند لاکھ وظیفہ دیتی ہے اوروہ اسی پر خوش ہے ، بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی پرواہ اور نہ ہی دیگر مسائل کا ادراک ، راجہ جلال مقپون کو کیا پتہ انیتا کریم اور سلیمہ بیگم جیسی با ہمت خواتین کی حوصلہ افزائی کرنے سے معاشرے میں کیا زبردست قسم کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ، امجد حسین ایڈووکیٹ کا کردار بھی وزیر اعلیٰ ، گورنر اور دیگر شخصیات سے زیادہ مختلف نہیں ، تضادات کے شکار اس معاشرے نے مجھے بے حد مایوس کر دیا ہے ، حوصلہ افزائی نہ کرنے اور نظر انداز کرنے کی مسلسل روش کی وجوہات پر غور کرتا ہوں تو مجھے مذہبی اور علاقائی تعصب کی بو نظر آرہی ہے جو گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی میں نہ صرف سب سے بڑی رکاوٹ ہے بلکہ ہمیں دیمک کی طرح چاٹ بھی رہی ہے جس کی وجہ سے آئے روز ہم کھوکھلے ہوتے جا رہے ہیں ، کمزور ہوتے جا رہے ہیں ، تعلیم میں تعصب ، صحت میں تعصب ، تبادلوں میں تعصب ، تقرریوں میں تعصب اور اب پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کرنے والوں کے ساتھ تعصب ، انیتا کریم کے ساتھ تعصب اور نجانے ایسی کئی با ہمت خواتین طلباء و طالبات اس تعصب کی بھینٹ چڑھ گئے ہونگے یا چڑھنے والے ہونگے ، اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے۔۔۔۔۔۔

Post a Comment

Previous Post Next Post