عنوان : تبدیلی ! کلام : نوشاد شیراز نوشی

عنوان : تبدیلی !

کلام : نوشاد شیراز نوشی

نظم نمبر : 10

ایک عالم ہستی میں وہ نعرۂ دل جانی
لو آ ہی گئی دیکھو! قربان میں تبدیلی

وہ خواب ترا سُندر،عربوں کے ریاست کی
راہی تو زیارت کا ! قربان میں تبدیلی

یورپ کے وہ بنکوں سے،عربوں کے ریالوں تک
امداد و وفد حاضر! قربان میں تبدیلی

تھی عقل گئی چَرنے ،کچھ سال جوانی میں
اب ہوش یہاں حاضر ! قربان میں تبدیلی

کچھ سال ویلنٹائین میں ، موجیں جو رہیں اُن کی
رشتے میں ملاوٹ اب ! قربان میں تبدیلی

دو چار یہاں چادر ، بانٹیں مرے بھائی لوگ
بہنوں کی حمایت اب! قربان میں تبدیلی

خود عشق کا دلدادہ، لندن بنی گالہ تک
تکمیل صنم جاناں؟قربان میں تبدیلی

ہے عرض فقط اتنا ،اے صاحب ِ شاہ اعظم
آواز شمالی بن! قربان میں تبدیلی

ہر حکم ہے فرسودہ، دھرتی مری بے آئین
قانون کے بیوپاری ! قربان میں تبدیلی

صوبوں کے مساوی حق،گلگت کو بھی دیں قاضی
کیوں سمجھا ہے خیراتی؟ قربان میں تبدیلی

کوٹہ و پیکج کیونکر؟ مجھ کو تُو مرا حق دے
جُھوٹی نہ تسلی اب ! قربان میں تبدیلی

آزادی ِ گلگت کے،شہداء بھی پشیماں کیوں؟
غازی بھی کریں ماتم! قربان میں تبدیلی

ہے دیس مرا ایسا ، ہر چیز میں دُھرا پن 
معیار،بجٹ، عیدیں! قربان میں تبدیلی

لیڈر جو بنے پھرتے, دھرتی میں یہاں عاجز
رب دے انہیں بینائی! قربان میں تبدیلی

میں دُختر گلگت ہو ں، پہچان سے بھی عاری
اب نام مثالی دے! قربان میں تبدیلی

نوشی تُو بغاوت کر، یا تُو بھی زیارت کر
بہلانے کو جی اپنا ! قربان میں تبدیلی

Post a Comment

Previous Post Next Post