سانحہ تشنلوٹ اور فورس کمانڈر سے وابستہ توقعات تحریر :ایمان شاہ

سانحہ تشنلوٹ اور فورس کمانڈر سے وابستہ توقعات


تحریر :ایمان شاہ 

14سالہ دیدار حسین کیساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی ، بعض اطلاعات کے مطابق اجتماعی زیادتی کے دوران ہی دیدار حسین چل بسا جبکہ دوسری جانب اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آٹھ درندوں نے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا اور معصوم طالب علم کی لاش بھاری پتھروں کے درمیان چھپانے کی بھر پور کوشش کی ، اس واقعے کو رونما ہوئے ایک ہفتے سے زائد کا وقت ہو چکا ہے ، پورا گلگت بلتستان سوگوار ہے لیکن منتخب عوامی نمائندوں اور سیاسی راہنماؤں کی بے حسی لمحہ فکریہ ہے ، میڈیا نے بھی اس واقعے کی کوریج میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ، دیدار حسین کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ قصورر واقعے سے بھی زیادہ سنگین واقعہ تھا لیکن پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے اس واقعے کو معمول کے حادثات جتنی کوریج بھی نہ دیکر گلگت بلتستان کے عوام کو مایوس کر دیا اور اس کالم کے سطور کے ذریعے میں گلگت بلتستان کے عوام سے معذرت اور شرمساری کا اظہار کرتا ہوں ۔ گلگت بلتستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر کی حیثیت سے اس غلطی ، کمی کوتاہی ، غفلت و لاپرواہی پر معذرت کرتے ہوئے اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ منتخب عوامی نمائندوں ، وزیر اعلیٰ ، گورنر اور وزراء اس معصوم بچے کے ساتھ پیش آنے والے المناک ، دردناک بلکہ خوفناک واقعے کے آٹھویں روز بھی مذمتی بیان تک جاری نہ کرنے پر کبھی بھی شرمسار نہیں ہونگے جسکی بنیادی وجہ یہی ہے کہ سیاستدانوں کی ایک بہت بڑی تعداد بے حسی ، بے شرمی اور ڈھٹائی کے تمام حدود و قیودسے آزاد ہو چکی ہے اور ان انسان نما بھیڑیوں کا کام اب صرف اور صرف اتناسا رہ گیا ہے کہ وہ عوامی طاقت ( ووٹ ) کے ذریعے اقتدار کے حصول کے بعد عوام کا ہی استحصال کریں اور اپنے پیٹ کا جہنم بھرتے رہیں ، گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبران سے لیکر لیڈر آف دی ہاؤس اور لیڈر آف دی اپوزیشن اور گورنر گلگت بلتستان کی جانب سے اس اندوہناک واقعے کے خلاف مذمتی بیان تک جاری نہ کئے جانے سے ایک بات تو ثابت ہو گئی ہے کہ ذاتی مفادات کے علاوہ یہ مخلوق(سیاستدان) کسی بھی قسم کے سنگین واقعے پر آواز اٹھانا اپنی توہین سمجھتی ہے ، مجھے مزید حیرت اس بات پر ہو رہی ہے کہ اس حلقے سے منتخب رکن اسمبلی نواز خان ناجی یوں غائب ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ ، نواز خان ناجی گلگت بلتستان میں موجود نہیں ہیں تو میڈیا کے ذریعے جاری بیان میں متاثرہ خاندان سے تعزیت کر سکتے تھے ، میری اطلاع کے مطابق بالاورستان نیشنل فرنٹ کے چےئرمین اسلام آباد میں موجود ہیں ، ناگزیر وجوہات کی وجہ سے اسلام آباد میں وقت گزار رہے ہیں تو اسلام آباد پریس کلب کے باہر بی این ایف یوتھ ونگ کو متحرک کرکے احتجاج کر سکتے تھے لیکن ایسا کچھ بھی نہ کرکے نواز خان ناجی بھی روایتی سیاستدانوں کی صف میں کھڑے ہو گئے ، فدا خان فدا سیاحت کے وزیر ہیں ، تعلق مسلم لیگ ن سے ہے ، نیو اسلام آباد ائیر پورٹ پر پی آئی اے کے کسی غریب ملازم کو دھکے دینے اور نازیبا گالیاں بکنے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں ، ابھی تک متاثرہ خاندانوں کی دلجوئی اور پکڑے جانے والے درندہ صفت ملزمان کے خلاف میڈیا میں سخت بیان جاری نہیں کیا، پی آئی اے کے غریب ملازم پر ہاتھ اٹھانے والا شیر سانحہ تشنلوٹ کے ملزمان کے سامنے بھیگی بلی بن گیا ہے ، خلتی جھیل فیسٹیول کے موقع پر فورس کمانڈر گلگت بلتستان نے ملزمان کو عبرت کا نشان بنانے کے عزم کا اظہار کیا جسکے بعد ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی دفعات کے تحت مقدمات درج ہو چکے ہیں جبکہ فدا خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اپنی پوری تقریر میں اس سانحے کا ذکر کرنا گوارہ نہیں کیا ، یہی حال مشیر خوراک غلام محمد کا ہے جو روایتی بے حسی یا کسی اور وجہ سے اس سانحے پر کھل کر اظہار خیال تک نہیں کرپائے ، پاکستان تحریک انصاف کے راہنمااور رکن گلگت بلتستان اسمبلی راجہ جہانزیب خان کے منہ پر بھی تالے لگ گئے ہیں اور ابھی تک اس معصوم بچے کو زیادتی کے بعد قتل کر دئیے جانے والے واقعے میں ملوث ملزمان کو قرار واقعی اور عبرت ناک سزاء دلانے کیلئے کسی بھی لحاظ سے متحرک ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں ، گندم بحران اور سبسڈی کے خاتمے کیلئے راجہ جہانزیب لانگ مارچ کی قیادت کرتے رہے اور ووٹ کے حصول کے بعداس انسانیت سوز واقعے پر بیان دیتے ہوئے مصلحتوں کا شکار ہو گئے ، غذر سے منتخب عوامی نمائندوں کی طرح گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے تقریباً تمام سیاستدان اور عوامی نمائندوں کی خاموشی پر سوال اٹھ رہے ہیں ، اپوزیشن لیڈر صوبائی حکومت کی کارکردگی کو ہدف تنقید بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے لیکن کیپٹن(ر) شفیع خان کے نزدیک ایک معصوم طالب علم کو اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کر دئیے جانے والے واقعے کی سنگینی کااحساس تک نہیں ہوا، یہ بات اب کھل کر سامنے آچکی ہے کہ سیاستدان اپنے کرتوتوں کے طفیل عوام میں اپنی ساکھ کھو چکے ہیں ، سیاست اور سیاستدان اب گالی بن چکے ہیں ، مسخرہ اور مذاق کے آخری درجے تک جا پہنچے ہیں ، چوری چکاری ، میرٹ کی پامالی ، لوٹ مار ، ذاتی مفادات اور بدکاریاں اکثر سیاستدانوں کی کل جمع پونجی ہے ، سیاستدانوں سے مایوس عوام کی نظریں اب چند ایسے گنے چنے بیوروکریٹس پر مرکوز ہو چکی ہیں جنکی اچھی شہرت ہے اور میرٹ کا تھوڑا بہت خیال رکھتے ہیں جبکہ عوام کی بڑی اکثریت فور س کمانڈر گلگت بلتستان میجر جنرل احسان محمود خان پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کو مسائل کے دلدل سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرینگے ، زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کردیکھا جائے تو وزیر اعلیٰ سمیت بیشتر وزراء موسم کی شدت کا بہانہ بنا کر اسلام آباد میں ڈیرے جمائے بیٹھے ہیں ، گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون تقریباً قصہ پارینہ بن چکے ہیں ،وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور نے وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے پانچ ماہ بعد بھی گلگت بلتستان کا دورہ کرنا مناسب نہیں سمجھا جبکہ فورس کمانڈرگلگت بلتستان میجر جنرل احسان محمود خان بیوروکریسی کی ٹیم کو لیکر کسی بھی آفت زدہ علاقے میں پہنچ جاتے ہیں ، یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر وزیر اعلیٰ ، وزراء ، گورنر اور وفاقی وزیر امور گلگت بلتستان کی صوبے میں عدم موجودگی کی وجہ سے ’’ یوم یکجہتی کشمیر ‘‘ کے حوالے سے انتہائی خراب موسم کے باوجود گلگت اور سکردو میں نکالی گئی ریلیوں کی قیادت کی ، گلگت بلتستان بالخصوص شہداء کی سرزمین ضلع غذر کے علاقے اشکومن کے گاؤں تشنلوٹ کے عوام بھی فورس کمانڈر گلگت بلتستان سے توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ متاثرہ خاندان کی داد رسی ، دلجوئی اور زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے علاقے کا دورہ کرینگے اور مجھے توقع ہے کہ میجر جنرل احسان محمود خان اشکومن کے علاقے تشنلوٹ میں رونما ہونے والے اس واقعے میں ملوث ملزمان کو نہ صرف عبرت ناک سزاء دلانے میں اپنا کردار ادا کرینگے بلکہ متاثرہ خاندان کی دلجوئی بھی کرینگے ۔۔۔۔۔۔

Post a Comment

Previous Post Next Post