فرض کریں تحریر:عبدالصبور

  فرض کریں


تحریر:عبدالصبور

      فرض کرتے ہیں کہ مختلف محکمے کیوں بنے ہونگے یا ان کے وجود میں آنے کی کیا وجوہات ٹھہری  ہونگی۔ مثال کے طور پر صحت، پانی، بجلی، تعلیم، جنگلات، فشریز کے محکمے اور ان کے علاوہ بے شمار محکمے۔ 
صحت کا محکمہ شائد اس لئے وجود میں آیا ہو کہ بیماروں کو سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
 ہو سکتا ہے کہ تعلیم کا محکمہ بچوں کو معیاری تعلیم کا حصول ممکن بنانے کے لئے وجود میں آیا ہو
 اور کیا خبر ہماری عدالتیں لوگوں تک انصاف کی فراہمی کی غرض سے قائم کی گئی ہوں۔ ہم فرض ہی تو کر رہے ہیں ۔ فرض کرنے میں کیا برائی ہے۔
اب ان مفروضوں کی روشنی میں بات کو آگے بڑھاتے ہیں گویا محکمہ تعلیم کی بہترین کارکردگی یہی ہو سکتی ہے کہ بہترین سکول اور بہترین تعلیم دی جا رہی ہو۔ اسی طرح محکمہ صحت کی بہترین کارکردگی کا مظہر وہ سہولیات جو مریض کو حاصل ہونگی۔ 
لیکن ۔۔۔۔۔۔ ہرگز نہیں جناب ۔۔۔۔۔۔ یہاں تو حالات کچھ اور ہی ہیں
ہمارے ہاں ادارے اور محکمے کسی اور مقصد کے لیئے وجود میں آئے تھے مگر کر کچھ اور رہے ہیں۔
اگر محکمہ صحت کو دیکھا جائے تو ڈاکٹروں کے مسائل ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن۔۔ سینئیر ڈاکٹرز ایسوسی ایشن۔۔ پیرا میڈکل سٹاف ایسوسی ایشن۔۔ نرس ایسوسی ایشن ۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔  
ان سارے ہنگاموں میں مریض نام کی کوئی کہانی ہے ہی نہیں۔  محکمہ کے وجود میں آنے کا بنیادی مفروضہ ذہن میں رکھئے گا۔
محکمہ تعلیم کے معرض وجود میں آنے کا مقصد ہم نے فرض کیا تھا جو کہ بچوں کو معیاری تعلیم دینا تھا۔۔ اجی کہاں۔ ۔۔۔  ڈائریکٹر کون ہے ۔۔ اگلا کون ہوگا۔۔ ڈی ڈی کس کو بننا چاہیئے ۔۔۔ اساتذہ تنظیم کا الیکشن۔۔ امیدواروں کا منشور جس میں اساتذہ حقوق کی طویل فہرست تو ہوگی  جس میں تنخواہ۔۔ مراعات۔۔ پیکجز۔۔  الاونسز۔۔  تحفظ ۔۔۔ چھٹیاں۔۔ غرض ہر بات کا تزکرہ ہوگا ۔۔۔ نہیں ہوگا تو بچے کا  اور اس کی تعلیم کے معیار کا زکر نہیں ہوگا۔۔ 
قاریئن کرام کو محکمہ تعلیم کے وجود میں آنے کا مفروضہ بھولا تو نہیں۔۔میرا مطلب۔۔۔۔۔ بچہ۔۔۔ تعلیم۔

 مجھے تو یاد نہیں کہ کبھی ڈاکٹروں کی تنظیم نے مریضوں کے لئے بہتر سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے کبھی احتجاج کیا ہو 
  یا پھر اساتذہ نے بچوں کی بہتر تعلیی سہولیات کی عدم موجودگی کی وجہ سے ٹائر جلائے ہوں۔۔
 یا کبھی وکلا نے مقدموں کے فیصلوں میں التوا یا عام آدمی کے لئیے انصاف کی فراہمی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خلاف بطور احتجاج لوگوں کو مارا پیٹا ہو۔۔ شائد کبھی ایسا نہیں ہوا
افسوس کہ ہمارے تمام محکموں کا حال کچھ ایسا ہی ہے۔ بنیادی مقصد کسی کو یاد نہیں رہا۔ کہانی کہیں اور چل نکلی ہے۔۔ 
اور تو اور جان کی امان طلب کرتے ہوئے عرض کرتا چلوں ہماری حکومتیں بھی عجیب بے تکی حرکتیں کرتی آئی ہیں۔ 

ہر آنے والی حکومت صرف دو کام ایمانداری سے کرتی ہے۔ نمبر ایک کرپشن اور نمبر دو پچھلی حکومت کی کرپشن کا احتساب ۔۔ 
 حالانکہ میں بڑی سے بڑی قسم کھا سکتا ہوں کہ یہ دونوں کام حکومت کے نہیں۔ حکومت کرپشن کرنے کے لئے وجود میں نہیں آتی جبکہ سابقہ حکومت کی کرپشن کے حساب کتاب کے لئے ادارے موجود ہیں۔۔ لیکن نہ جانے ان اداروں کے وجود میں آنے کا کیا مقصد تھا اور اس وقت کیا کر رہے ہیں  خیر جانے دیں ہم بات کر رہے تھے حکومتوں کے ادوار کی۔ 

عجیب صورت حال ہے۔ کوئی کسی کو گھسیٹنے کی دھمکی دے رہا تو کوئی کسی کا پیٹ پھاڑنے کی قسم اٹھا رہا۔ کبھی کسی کو جیل میں ڈالا جاتا تو کسی کو ملک سے باہربھیجا جاتا ہے۔ کوئی حکومت گرانے کی سازش کر رہا تو کوئی حکومت بچانے کی تدبیر۔۔
   اب ذرا غور کریں سوچیں ۔۔۔ چلیں آسان کئے دیتا ہوں۔۔.  فرض کریں کسی بھی حکومت کے وجود میں آنے کا بنیادی مقصد کیا ہو سکتا ہے۔۔ 

میرے خیال میں شہریوں کو معیاری زندگی دینا۔۔ 

 دوبارہ سوچئیے، غور کیجئے دماغ لڑائیے اور اداروں کے عملی کام اور ان کے وجود میں آنے کے بنیادی مقصد کے درمیان فاصلہ کا درست تعین کیجئے۔۔۔۔ میں نے تو اپنے تیئیں فاصلہ فرض بھی کر لیا ہے ۔۔۔۔.     
Saboor9494@gmail.com

Post a Comment

Previous Post Next Post