طلبا کی کامیابی اور ناکامی میں والدیں کا کردار
تحریر: انصار علی
![]() |
| طلبا کی کامیابی اور ناکامی میں والدیں کا کردار تحریر: انصار علی |
سنسکرت میں ایک مشہور کہاوت ہے کہ ایک بچہ جتنا کچھ سیکھتا ہے اس کا ایک چوتھائی وہ استاد سے سیکھتا ہے ، ایک چوتھائی کتابوں سے، ایک چوتھائی والدیں اور ایک چوتھائی وہ اپنے دوستوں سے سیکھتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بچے کی کامیابی میں ان سب کا کم و بیش کردار ہے۔کسی بھی تعلیمی ادارے میں طلبا مرکز تعلیم ہوتے ہیں اور والدین کی ذمہ داریاں اساتذہ سے زیادہ ہوتی ہیں۔کیونکہ بچے چوبیس گھنٹوں میں سے چھ یا ساتھ گھنٹے اساتذہ کی زیر نگرانی تربیت حاصل کرتے ہیں جبکہ اٹھارہ گھنٹے والدیں کی تحویل میں ہوتے ہیں - اگر ان میں سے کسی ایک سے کوتاہی بچے کی تعلیم و تربیت کو متاثر کرتی ہے- اگر والدین بچوں کی تعلم و تربیت پر توجہ نہ دیں تو تعلیمی گاڑی منزل مقصود تک پہنچ نہیں سکتی۔لیکن آج کل کے والدیں اپنی آرام طلبی کیلیے تربیت کے بجائے کم عمری میں ان کے ہاتھ موبا ئل فون تھما دیتے ہیں۔اور وہ موبائل آڈکٹ (موبائل کا نشہ) ہو جاتے ہیں جو انکی ذہنی نشو نما کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔چند دن پہلے ایک مجلس میں علامہ کاظم صاحب فرما رہے تھے۔پرانے وقتوں میں مائیں اپنی آرام طلبی کیلیے بچوں کو افیون سونگھاتی تھیں، جس کے نتیجے میں وہ آرام سے سو جاتے تھے یہی وقتی آرام بعد ازاں ان کے نشے کا باعث بنتا تھا۔علامہ صاحب کے نزدیک بچوں کے ہاتھ موبائل دینا اس فیون سنگھانے سے زیادہ خطرناک فعل ہے یہ ان کی تخلیقی صالاحیتوں کو بری طرح مفلوج کرتا ہے۔ّوالدین ان،آلات (گجٹس) کے فورا" بعد تیں چار سال کی عمر میں سکول بھیج دیتے ہیں۔ اور تربیت کا خلا اسی طرح رہتا ہے۔حالانکہ تعلیم کا خلا کسی بھی سٹیج پر پر کیا جا سکتا ہے جبکہ تربیت کا نہیں۔ دنیا میں ای سی ڈی (ECD)کی معیاری تعلیم کے حوالے سے جو ممالک جانے جاتے ہیں ان میں فن لینڈ ناروے ڈنمارک اور جاپان وغیرہ میں ای سی ڈی (ECD)کیلیے اوریج عمر چھ سے ساڑھے چھ سال ہے۔جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان میں چار سال میں سکول بھیجنے کا مقابلہ زوروں پر ہے۔تیسری غلطی جو والدیں کی طرف سے دیکھنے کو ملتی ہے وہ اپنی پسند کا کیریر بچوں پر امپوز کرنا ہے۔مثلا"ایک بچہ آرٹس کی طرف رجحان رکھتا ہے تو والدین اس کو سائنس میں داخلہ کرانے کے خواہیش مند ہوتے ہیں۔پاکستان اور خاص کر گلگت بلتستان میں اگر کوئی سروے کیا جائے تو نوے فی صد والدین بچوں کو ڈآکٹر یا بیروکریٹ بنانے کے خواہشمند نظر آئیں گے۔یہ سوچ بچوں کے ٹیلنٹ اوران کی تخلیقی صلاحیتوں کو ختم کرتی ہے اس لیے والدین سے چند گزارشات عرض ہیں۔
1-بچوں کو موباِئل کی پہنچ سے دور رکھیں۔
2-انہیں لوک داستانیں سنایئں تاکہ ان کے تخیل اور تخلیقی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہو۔
3-والدیں بچوں کو سکول بھیجنے کے مقابلے میں ان کا بچپن ان سے نہ چھینیں۔
4-ان کی تربیت کریں اور انہیں معاشرتی آداب اور سماجی آخلاقیات(سوشل ایتھیکس) سیکھاییں۔
5-انہیں ہر کام دوسروں کیساتھ مل جل کر کے کرنے کی عادت ڈالیں اور چیزیں شیر کر کے کی عادت ڈالیں۔
6- والدیں اور اساتذہ بچوں کے کیریر کے حوالے سےرہنمائی کریں اور ان کو اپنی پسند کے کیریر کے انتخاب کیلیے ان کو موقع دیں کہ وہ اپنے مستقبل کے تعین خود کر سکے۔
7- سماجی رویہ (سوشل ایٹیٹوڈ) بچوں کے رجحان (اپٹیٹیوڈ) کو متاثر کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدیں بچوں پر اپنی سوچ زبردستی امپوز نہ کریں۔
8-والدیں بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ کس طرح کے لڑکوں کی صحبت میں رہتے ہیں۔اچھی بری صحبت ان کی کامیابی اور ناکامی میں بڑا کردار ادا کرتی ہے۔
