معذور افراد تحریر :مکرم علی شاہ

معذور افراد


تحریر :مکرم علی شاہ
معذور افراد  تحریر :مکرم علی شاہ

دوسرے بچے اپنی مرضی سے چلتے پھرتے ہیں۔۔۔۔۔۔کھیلتے کودتے ہیں۔۔۔۔۔۔شرارتیں کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ تو ان کو دیکھ کو معذوربچے کیا سوچتے ہوں گے۔۔۔اپنی بے بسی پر اند ر ہی اندر کتنے تڑپتے ہوں گے یہ وہ لوگ بتا سکتے ہیں جو یہ سب کچھ خاموشی سے سہہ رہے ہوں۔۔۔۔پھردنیا کی چہل پہل دیکھنے سے محروم معذور افراد گھر میں دن رات چار دیواری میں گزارنے سے پیدا ہونے والی گھٹن اور والدین کی پریشانیاں اور اپنی بے بسی کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں اور غموں کے سمندر میں رہتے ہوئے بھی چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
میں بھی معذور ہوں اور چل پھر نہیں سکتا۔۔۔۔میرے بہن بھائی اپنی مرضی سے چل پھر سکتے ہیں۔۔کھیل کود کرتے ہیں۔۔۔شرارتیں کرتے ہیں لیکن میں ایک کونے میں بیٹھ کر ان کی شرارتوں اور کھیل کود سے خود کو محظوظ کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔بیٹھ کر کھیلنے والے گیم میں میں بھی حصہ لیتا ہوں اور اکثر جیت جاتا ہوں تو اللہ کا شکر بجا لاتا ہوں۔۔۔۔۔میری معذوری جہاں میرے لئے پریشانی کا باعث ہے وہاں میرے ماں باپ،بہن بھائی اور خاندان کے لئے پریشان کن ہے لیکن ،میں نے اللہ کی رضا کو قبول کرکے معذوری کو اپنا مقدر سمجھ رکھا ہے اور کوشش کرتا ہوں کہ اسی میں خوش رہوں اور اپنی اس کوشش میں اکثر کامیاب بھی رہتا ہوں۔۔۔۔۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھرمیں مختلف جسمانی معذوری کا شکار افراد کی بڑی تعداد ہے اور اکثر ممالک میں معذور افراد کو عام لوگوں سے زیادہ حقوق دستیاب ہیں اور سرکاری سطح پر ان کی حوصلہ افزائی کے ذریعے ان کی جسمانی معذوری کو محسوس نہیں ہونے دیا جاتا جبکہ بعض ممالک میں معذور افراد کو بوجھ سمجھا جاتا ہے جبکہ وطن عزیز میں ملا جلا رجحان ے ہے نہ یہاں سرکاری سطح معذور افراد کو بڑے پیمانے حقوق حاصل ہیں اور نہ ہی بوجھ سمجھا جاتا ہے۔۔۔لیکن بعض خاندانوں میں ایسے افراد کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔۔جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ معذور افراد ایک گھر ،خاندان اور اس ملک کے لئے امتحان ہیں کہ وہ ان معذور افراد کے ساتھ کیسا بھرتاؤ کرتے ہیں۔۔۔۔۔اللہ کی رضا سے ملنے والی معذوری میں میرا کوئی قصور تو نہیں کہ میں گھر میں بوجھ سمجھا جاؤں،ہاں البتہ مجھے کھلانے پلانے سمیت میری دیگر ضروریات پوری کرنے میں گھر کے افراد کو در پیش مشکلات سے میں خود بھی آگاہوں لیکن پھر وہی بات ہے کہ اس میں میرا کیا قصور؟؟؟؟؟؟
الحمد للہ، میری تعلیم،تربیت اور میری دیکھ بھال میں میرے گھر کے تمام افراد نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔۔۔میری خواہش ہے کہ ہر گھر میں معذور افراد کی اس طرح کی دیکھ بھال ہو اور مجھے امید ہے کہ ایک اسلامی فلاحی ریاست میں ایسا ہی ہوگا لیکن جن والدین کے پاس ان کے معذور بچوں کی تعلیم و تربیت۔ان کی دیکھ بھال اور ان کی ضروریات پوری کرنے کی استطاعت نہیں ان معذور افراد کے لئے حکومتی سطح اقدامات اٹھائے جائیں ۔۔۔۔۔ ایسے معذور افراد کو مفت تعلیم کی فراہمی ناگزیر ہے اور ایسے بچوں کو قریبی پرائیویٹ یا سرکاری سکول کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے۔۔۔۔۔۔سال میں ایک مرتبہ معذوروں کا دن منایا جائے اور اس سن تمام معذور افراد کو سیر و تفریح کا بھر پور موقع فراہم کیا جائے۔۔۔۔۔۔دنیا بھر کی طرح گلگت بلتستا ن میں بھی معذوروں کا عالمی دن تو منایا جاتا ہے لیکن اس میں معذوری کی معذوری کے ساتھ سنگین مذاو کیا جاتا ہے ایک بینر اٹھا کر ریلی نکالنا کافی نہیں اس لئے گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کے معذور افراد کی رجسٹریشن کرائی جائے اور معذوروں کے عالمی دن کے موقع پر تمام اضلاع میں معذور افراد کو اکٹھا کرکے ان کے سیر و تفریح کا بھر پور موقع دیا جائے اور اس سلسلے میں تمام وسائل فراہم کئے جائیں۔۔۔۔۔۔معذور افراد کے لئے سرکاری نوکریوں میں مختص کوٹے کو 2فیصد سے بڑھایا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں معذور افراد کے حوالے سے قانون سازی کی جائے۔۔۔۔۔مجھے قوی امید ہے کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن معذور افراد کے لئے خصوصی اقدامات کے احکامات جاری فرما کر گلگت بلتستان کے معذور افراد کی دعائیں لیں گے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post