’’جو حکم میرے آقا‘‘
تحریر : ایمان شاہ
مغرب کے ایک فلسفی آر ڈبلیو ٹرائن کہتے ہیں کہ دل و دماغ کے دروازے کھول دو ، خدائی فیوض کو اندر آنے دو ، اس سے بھیک مانگنے اور لینے کا انداز اختیار کرو ، اس کے بعد تمہیں ایک خاموش ، پر سکوں اور نورانی طاقت کا احساس ہوگا ، یہ طاقت تمہارے جسم اور روح کو ہم آہنگ بنا دے گی ، اس احساس کو ساتھ رکھو اور کام کرتے ، چلتے ، جاگتے اور سوچتے اس ( اللہ تعالیٰ ) سے فیوض حاصل کرو ، مجسم محبت ( اللہ تعالیٰ کی ذات ) تمہاری حفاظت و راہنمائی کریگی ۔۔۔
یہ جمہوری مسخرے ( سیاستدان ) نام نہاد جمہوری پراسیس کے ذریعے ہر پانچ سال بعد اگلے پانچ سال تک کیلئے اقتدار پر قابض ہوکر عوام کی گردنوں پر سوار ہوتے ہوئے اپنی گردنوں کی موٹائی اور پیٹ کی چوڑائی کیلئے سرگرداں رہتے ہیں ، انتخابات کا پراسیس تو سراسر ڈھونگ ، فراڈ اور واردات ہے جسکے ذریعے پانچ فیصد مراعات یافتہ طبقہ ایک خاص مدت تک کیلئے سیاہ و سفید کا مالک بن کر لوٹ مار کے نت نئے طریقے ایجاد کرتے ہوئے 95فیصد عوام کی محرومیوں ، ہزیمتوں ، شکستوں اور ذلتوں میں اضافے کا باعث بن کر مزے لوٹتا ہے ۔۔۔۔۔
لمبا روناہے ، کہاں کہاں اور کس کس بات پر رویا جائے ؟ کس کس میت پر ماتم کیا جائے ؟ کس کس واردات کا ذکر کیا جائے کہ اختیار رکھنے والے( بیوروکریسی ) ان جمہوری مسخروں کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں کہ ’’ جو حکم میرے آقا ‘‘ اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر کوئی مجھے بتائیگا کہ ہینزل پاور پراجیکٹ کے سارے پراسیس کو ریورس گئیر میں ڈالنے کی واردات کو یقینی بنانے کیلئے کس کس کا کاندھا استعمال ہوا ؟ سیکریٹری کشمیر افئیرز کی ہدایت پر بننے والی کمیٹی کی سربراہی کون کررہا تھا اور کمیٹی کے ممبران کون تھے ؟ کمیٹی نے اپنی سفارشات سیکریٹری کشمیر افئیرز کو ارسال کرنے سے قبل وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور چیف سیکریٹری گلگت بلتستان سے مشاورت کرنے کی زحمت تک گوارا کیوں نہیں کی اور اگر نہیں کی تو اسکی وجوہات یا بنیادی وجہ کیا تھی ؟ فیڈرل پی ایس ڈی پی کے تحت بنائے جانے والے اس پراجیکٹ کے پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر کا کردار کتنا اہم ہے اور اگر تمام اختیار پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر کے پاس ہوتے ہیں جو بلحاظ عہدہ سیکریٹری کشمیر افئیرز کہلاتا ہے تو پھر ایک صوبائی سیکریٹری پر سارا ملبہ ڈال کر خدمات واپس وفاق کے سپرد کرنے کی حکمت عملی کیوں ترتیب دی گئی ہے ؟ کیا وزیر اعلیٰ اور چیف سیکریٹری سیکریٹری تعمیرات عامہ کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی سفارشات ( ان سفارشات میں ہینزل پاور پراجیکٹ کے اب تک ہونے والے پراسیس کو ختم کرکے دوبارہ ٹینڈر کرانے کی سفارش کی گئی ہے ) سے یکسر لا علم تھے ؟ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اتنے بھولے بھالے ہیں کہ فیڈرل پی ایس ڈی پی کے پراجیکٹس میں سیکریٹری کشمیر افئیرز کا اختیارات کا علم ہی نہیں ہے ؟ سیدھی سی بات ہے کہ سیکریٹری برقیات سید عبدالوحید شاہ سفارشات مرتب کرنے والی کمیٹی کا حصہ تھے نہ ہی پراجیکٹ ڈائریکٹر اور نہ ہی پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر ، صوبائی سیکریٹری برقیات کی حیثیت سے طلب کئے جانے پر سیکریٹری کشمیر افئیرز کی سربراہی میں ہونے والی میٹنگز میں شرکت کرتے رہے اور ضروری دستاویزات اور ریکارڈ مہیا کرنے کی زمہ داری بھی نبھاتے رہے ، اقتدار اور اختیار کے حامل چلتے پھرتے انسانوں کو سب پتہ ہے کہ سید عبدالوحید شاہ کا ہینزل پاور پراجیکٹ کا ٹینڈر دوبارہ کرائے جانے کیلئے ارسال کردہ سفارشات سے نہ تو کوئی تعلق ہے اور نہ ہی دور کا واسطہ ، سید عبدالوحید شاہ سے شاید یہی گناہ سرزد ہوا ہوگا کہ انہوں نے کرپشن کی بہتی گنگا میں غوطے لگانے کی کوشش نہیں کی ، میرٹ کو یقینی بنانے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لایا ، جہاں اور جس عہدے پر کام کرتے رہے پسند ناپسند کی بجائے حقدار کو حق دینے یا دلانے کیلئے کسی دباؤ میں نہیں آئے ، اسکے علاوہ تو مجھے اور کوئی خرابی ، گناہ ، کمی کوتاہی نظر نہیں آئی، مجھ سمیت عام لوگوں کے نزدیک یہ کوئی خرابی نہیں ہے تاہم حکمرانوں کے نزدیک شاید سب سے بڑا گناہ ہی یہی ہے کہ کوئی ماتحت انکے ناجائز احکامات کو نہ ماننے کی ہمت و جرات کا ارتکاب کر بیٹھے ، گزشتہ رات وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے ہونے والی گفتگو کے بعد مجھے یقین ہے کہ چند ہفتے بعد شاہ جی کو گلگت بلتستان سے واپس بھیجا جائیگا ،اس طرح کے حالات و واقعات جب سامنے آتے ہیں تو میں سوچتا ہوں کہ زندگی بھی عجیب حادثے کا نام ہے کہ کبھی کبھی ہمیں کسی ایسی نیکی کا اجر بھی مل جاتا ہے جوہم نے کی ہی نہیں ہوتی اور کبھی کبھار ہمیں ایسے جرم کی سزا ملتی ہے ، ایسے گناہ پر معذرت کرنا پڑتی ہے جو ہم سے سرزد ہی نہیں ہوتا۔۔۔۔۔
کہانی کے اختتام سے قبل اس بات کا بھی ذکر ضروری ہے اور ذرا پیچھے چل کر دیکھتے ہیں کہ احکامات نہ ماننے والوں کے ساتھ صاحبان اقتدار نے کیا سلوک روا رکھا ، سیف اللہ چٹھہ ( سابق چیف سیکریٹری ) یونس ڈاگا ( سابق چیف سیکریٹری ) کو سید مہدی نے محض اس لئے ناپسند یدہ شخصیات قرار دیکر خدمات وفاق کو واپس کر دی تھیں کہ دونوں نے سید مہدی شاہ کے ناجائز احکامات کو ماننے سے یکسر انکار کر دیا تھا اور اسی طرح کی صورتحال سلطان سکندر راجہ ، بابر حیات تارڑ اور ڈاکٹر کاظم نیاز کے ساتھ بھی پیش آئی ، سیف اللہ چٹھہ ، یونس ڈاگا ، سلطان سکندر راجہ ، بابر حیات تارڑ اورڈاکٹر کاظم نیاز کے بعد سید عبدالوحید شاہ جیسے ایماندار ، قابل اور فرض شناس بیوروکریٹس کیساتھ ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر زیادتیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اس طرح جاری رہا تو پھر کرپشن ، میرٹ کی پامالی اور بد عنوانیوں کے حوالے سے گلگت بلتستان پاکستان بھر کیلئے مثالی صوبہ بن جائیگا اور اس حوالے ( کرپشن ، بد عنوانی اور میرٹ کی پامالی ) سے حسب ضرورت ہماری مثالیں پیش کی جاتی رہیں گی ۔۔۔۔۔۔
