عارضی قطع تعلق تحریر : ایمان شاہ

عارضی قطع تعلق 


تحریر : ایمان شاہ 

بس یہی مشکل ہے کہ بھول جانا انسان کے بس میں نہیں ، جو حادثہ ایک دفعہ گزر جائے وہ یاد بن کر بار بار گزرتا ہے ، بھولنے کی کوشش ہی اسے زندہ رکھتی ہے ، انسان ظالم کو معاف کر سکتا ہے لیکن اس کے ظلم کو بھول نہیں سکتا کیونکہ بھول جانا انسان کے اختیار میں نہیں ، انسان کیسے بھول سکتا ہے کہ اس نے جو چہرے کبھی شوق سے دیکھے تھے اب وہ نظر نہیں آتے ، جو کبھی سوچا تھا ، کبھی چاہا تھا اب ویسا نہیں ۔۔۔
چند روز قبل سیکٹر کمانڈر ایس سی او کرنل ثاقب اقبال سے ملاقات میں گزارش کی تھی کہ Scomسروس میں بہت زیادہ بہتری لانے کی ضرورت ہے ، 3Gیا 4Gکی کمرشل بنیادوں پر سروس کی فراہمی سے قبل کم از کم گلگت ، چلاس اور سکردو میں ( ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز ) تمام ضروری انتظامات مکمل کر لئے جاتے تو SCOکی دیگر ایسی سروسز جن میں ایس سی او کی لینڈ لائن سروس اور کسی حد تک براڈ بینڈ انٹر نیٹ شامل ہیں پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے کیونکہ ایس سی او کی لینڈ لائن سروس کے بارے میں شکایات نہ ہونے کے برابر ہیں اور کسی بھی تکنیکی خرابی کی شکایت درج کرائی جائے تو بر وقت ایکشن لیا جاتا ہے ، ایس سی او کی انٹر نیٹ سروس ( DSL) میں ابھی بہت بہتری آئی ہے تاہم مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے ا ور امید ہے کہ مزید بہتری لائی جائیگی تاہم ایس سی او کے سگنل غائب ہونے سمیت 3G، 4Gسروس کے ناقص ہونے کی لاتعداد شکایتوں اور ان شکایات کے ازالے کیلئے بر وقت اقدامات نہ اٹھائے جانے کی وجہ سے تمام طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد دہائیاں دے رہے ہیں جو ایس سی او کیلئے بدنامی کا باعث ہے ۔۔۔۔
میں ذاتی طور پر جولائی 2006( جب گلگت بلتستان میں ایس سی او نے پہلی مرتبہ موبائل سروس کا آغاز کر دیا تھا ) سے Scomاستعمال کرتا رہا ہوں ، 4Gسروس کی کمرشل بنیادوں پر فراہمی سے قبل Scomکی وائس کوالٹی اس حد تک خراب نہیں تھی جتنی اب ہے اور جیسے تیسے کام چل جاتا تھا ،سگنل ڈراپ ہونے جیسے تجربات سے بھی کم گزرنا پڑتا تھا جسکی وجہ سے Scomکا استعمال بہت زیادہ پریشانی کا باعث نہیں تھا لیکن گزشتہ چند ماہ کے دوران نہ صرف Scomکی موبائل سروس بہت زیادہ خراب ہو چکی ہے بلکہ دن میں کئی مرتبہ سگنل کے ڈراپ ہونے سمیت سروس کے بند رہنے کی شکایات عام ہو چکی ہیں ، جیسا کہ اوپر ذکر کر چکا ہوں کہ 12سال سے Scomاستعمال کررہا ہوں اور نمبر بھی 12سال پرانا ہے اس لئے دوست احباب سمیت عزیز و اقارب اسی نمبر پر رابطے میں رہتے رہے ہیں ، گزشتہ چند ماہ سے دوست احباب کی جانب سے موبائل نمبر بند رکھنے سمیت ’’ آؤٹ آف رینج ‘‘ کی شکایت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا حالانکہ میری پیشہ وارانہ ضروریات موبائل بند رکھنے جیسی عیاشی کی متحمل نہیں ہو سکتی ہیں ، ان شکایات کے پیش نظر کئی مرتبہ میں نے اپنے آفس کے لینڈ لائن نمبر سے اپنے Scomنمبر پر کال کرکے چیک کیا تو سگنل ہونے کے باوجود ’’ آپ کا مطلوبہ نمبر موبائل سروس رینج میں نہیں ہے ‘‘ جیسے پیغامات سے اندازہ ہو گیا کہ اس سروس میں خرابی پیدا ہو چکی ہے ، سیکٹر کمانڈر ایس سی او کرنل ثاقب اقبال سے بھائیوں جیسا تعلق ہے اور اسی تعلق کی بنیاد پر ملاقات یا ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے ، چند روز قبل ہونے والی ملاقات میں راقم نے اپنے ذاتی نمبر 03555404452کے حوالے سے گزارش کی کہ نہ صرف 3Gاور 4Gسروس کا استعمال خواب بن کر رہ گیا ہے بلکہ موبائل سروس اور وائس کوالٹی نے بھی الگ سے پریشان کئے رکھا ہے ، سیکٹر کمانڈر نے کمال مہربانی فرماتے ہوئے متعلقہ انجینئر کو موبائل اور 3G، 4Gسروس میں بہتری لانے کے احکامات جاری کر دئیے جس کے بعد میں ایس سی او کے انجینئر اور پبلک ریلیشن آفیسر سے رابطے میں رہا تاہم دس روز بعد نہ تو موبائل سروس میں بہتری آئی اور نہ ہی فورجی کا نظام بہتر ہونے کا نام لے رہا تھا ، کم و بیش اسی طرح کی صورتحال کا گلگت بلتستان کے Scomاور 4جی سروس استعمال کرنے والے صارفین کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،سیکٹر کمانڈر ایس سی او کی ہدایت پر میرے ذاتی نمبر کی نگرانی کرنے والے انجینئر نے مجھ سے Location( آفس اور گھر ) کے بارے میں پوچھا اور لوکیشن بتانے پر کہا کہ آپ کے آفس اور گھر کی لوکیشن ایسی ( آفس قلندر پلازہ ، گھر سونیکوٹ ) جگہ پر ہے جہاں سگنلز کا مسئلہ ہے ، انجینئر کی جانب سے بیماری کی تشخیص ( لوکیشن کا مسئلہ ) کے بعد میرے پاس دو راستے تھے یا تو میں آفس اور گھر کسی ایسی جگہ شفٹ کرجاتا جہاں Scomکے سگنلز وافر مقدار میں میسر آتے ہوں جو میرے لئے ممکن نہیں تھا اس لئے Scomکا زیر استعمال 12سال پرانا نمبر چند ہفتوں یا مہینوں کیلئے بند کر دینا مجھے زیادہ آسان اور بہتر حل نظر آیا اوراسی آپشن کو استعمال کرتے ہوئے Scomموبائل سروس کے ساتھ اپنا ناطہ عارضی طور پر منقطع کرنے جا رہا ہوں اور دوبارہ ناطہ جوڑنے کیلئے سروس میں بہتری لائے جانے تک انتظار کرنے کے علاوہ میرے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے ۔۔۔۔
ایس سی او کی کارکردگی کے حوالے سے اس بات کا بر ملا اعتراف نہ کرنا زیادتی ہوگی کہ 2006میں تمام تر مشکلات کے باوجود گلگت بلتستان کے عوام کو موبائل سروس کی فراہمی کا آغاز کیا ، پاکستان بھر میں کام کرنے والی دیگر سیلولر کمپنیوں نے چار سال بعد گلگت بلتستان کا اس وقت رخ کر لیا جب کاروباری لحاظ سے حالات مناسب اور موافق ہو گئے تھے ، ایس سی او نے انٹر نیٹ ( DSL) سروس کے ذریعے گلگت بلتستان کو بھی گلوبل ویلیج کا حصہ بنا دیا ، گلگت بلتستان جیسے دور دراز اور پہاڑی علاقے جہاں بد ترین قسم کی لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کے واقعات معمول کا حصہ ہیں میں آپٹک فائبر بچھائے جانے کے بعد ڈیجیٹل سروس لائن ( DSL) کے ذریعے براڈ بینڈ انٹر نیٹ کی فراہمی یقیناً ایک کارنامے سے کم نہیں تھا اور زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح میڈیا انڈسٹری کی ترقی میں SCOکی انٹر نیٹ سروس نے اہم کردار ادا کیا ، انٹر نیٹ کی سہولت کے بغیر گلگت بلتستان سے اخبارات کی اشاعت کا کام نا ممکن تھا ، گلگت بلتستان کے بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں ایس سی او مکمل خسارے کے باوجود ٹیلی فون ، موبائل اور DSLکی سہولت جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ دیگر سیلولر کمپنیاں جن میں ٹیلی نار ، موبی لنک ( JAZZ) ، یوفو ن وغیرہ شامل ہیں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ گلگت بلتستان کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں بسنے والے عوام کو سروس کی فراہمی کتنی اہم ہے ؟ ان سیلوکر کمپنیوں کو غرض صرف ایک ہی بات سے ہے کہ کس علاقے یا شہر میں دس روپے خرچ کرکے سو روپے کمانے کے مواقع میسر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
Scomموبائل اور 4Gسروس کے بعض نقائص اپنی جگہ لیکن ناموافق اور نامساعد حالات کے باوجود گلگت بلتستان کے عوام کو مینول ایکسچینجز سے ڈیجیٹل نظا م ، موبائل سروس سے لیکر ڈیجیٹل سروس لائن ( DSL) کے ذریعے براڈ بینڈ انٹر نیٹ کی فراہمی اور اب 4Gسروس کی فراہمی کیلئے کی جانے والی تگ و دو قابل ستائش ہے ، ایس سی او کے دیگر تمام اچھی سروسز کے ساتھ ناطہ ، تعلق اور رشتہ اسی طرح برقرار رہے گا تاہم Scomموبائل سروس کو چند عرصے تک خیر باد کہتے ہوئے دوبارہ جلد واپسی کی اس لئے امید رکھتا ہوں کہ میرے بھائی کرنل ثاقب اقبال اور ٹیم کی شبانہ روز محنت مجھ سمیت دیگر ہزاروں صارفین کی جائز شکایات کے ازالے کا باعث ہونگی اور شکایات کے ازالے کی خوشخبری کے ساتھ ہی میں بھی 12سال پرانے نیٹ ورک پر دوبارہ لوٹ آؤنگا کیونکہ Scomکے ساتھ قطع تعلق عارضی ہے ۔۔۔۔

Post a Comment

Previous Post Next Post