گنڈاپور اور مقپون کو دعائیں تحریر : ایمان شاہ

گنڈاپور اور مقپون کو دعائیں


تحریر : ایمان شاہ 

جولائی 2015تک گلگت بلتستان 7اضلاع پر مشتمل صوبہ تھا ، سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اپریل 2015میں شگر ، کھرمنگ ، ہنزہ اور نگر اضلاع کے قیام کا اعلان کیا اور اس اعلان کو عملی جامعہ جولائی 2015میں چاروں اضلاع کے قیام کے حوالے سے جاری باضابطہ نوٹیفکیشن کے ذریعے پہنایا گیا جو تاریخی اقدام تھا ،اس تاریخی اقدام کا تسلسل صوبائی کابینہ نے مزید چار اضلاع کے قیام کی منظوری کی صورت میں جاری رکھا ( گلگت بلتستان آرڈر 2018کے تحت صوبائی کابینہ نئے اضلاع کے قیام کی منظوری دے سکتی ہے ) اور اس اقدام نے گلگت بلتستان کے عوام کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ، ورطہ حیرت اس لئے کہ 2019کے آغاز تک کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نئے اضلاع کے قیام جیسا انقلابی قدم اٹھا سکتے ہیں ، 8اپریل کو وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے اپنے دورہ دیامر کے دوران داریل اور تانگیر اضلاع کے قیام کا اعلان کیا تو سیاسی مخالفین کے ہوش اڑ گئے اور ان اعلانات کو ہوائی ، جھوٹ پر مبنی اور عوام کو بے وقوف بنانے کے مترادف قرار دیا تھا ، داریل ،تانگیر سمیت روندو ، یاسین گوپس اضلاع کے قیام کی منظوری صوبائی کابینہ بھی دے چکی ہے جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کو نئے اضلاع کے قیام کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے بیانات جاری کرنے کی بجائے چار نئے اضلاع کے قیام کے حوالے سے نوٹیفکیشن کے جلد اجراء میں حائل ہر قسم کی رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن اور صوبائی کابینہ کو سپورٹ کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اٹھائے گئے اس مثبت اقدام ( اضلاع کے قیام ) کی ہر فورم پر حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ، متحدہ اپوزیشن ( قانون ساز اسمبلی میں) اور دونوں قومی سیاسی پارٹیاں ( پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی ) صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے تمام ایسے اقدامات جو عوام کو ریلیف دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں کو سراہنے اور عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب بننے والے کسی بھی اقدام پر کھل کر تنقید کرنے کی روایات پر عمل پیرا ہونگے تو نہ صرف سیاست میں ایک خوشگوار تبدیلی دیکھنے کو ملے گی بلکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اچھی ورکنگ ریلیشن کے چرچے پاکستان کے دیگر صوبوں کیلئے مثال بن سکتے ہیں ، سر دست تو ایسا کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے اور صوبائی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں سامنے آنے والے اچھے اقدامات کو تعصب کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور تنقید برائے تنقید کی زد میں ہیں،19اپریل سے لیکر آج تک کے بیانات ( اپوزیشن کے ) کا جائزہ لیا جائے اور ان تمام بیانات کا تجزیہ کیا جائے تویہی نظر آرہا ہے کہ چار نئے اضلاع کا قیام عمل میں لاکر ن لیگ کی صوبائی حکومت نے عوام ( داریل ، تانگیر ، روندو اور یاسین گوپس ) کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کی ہے اور اس زیادتی کا ازالہ یہی ہے کہ چاروں اضلاع کے قیام کا اعلان ( وزیر اعلیٰ کی جانب سے ) اور بعد ازاں منظور ی( صوبائی کابینہ سے ) کا فیصلہ واپس لیا جائے ، اپوزیشن اور سیاسی جماعتوں کا یہ رویہ عوام دوست رویہ نہیں ہے ، متحدہ اپوزیشن اور دونوں سیاسی جماعتوں کی خدمت میں گزارش کرونگا کہ وہ اضلاع کے قیام کو جھوٹ ، ڈھونگ ، اپریل فول اور ہوائی اعلانات سے تشبیہ دیتے ہوئے منفی پروپیگنڈے کی بجائے اضلاع کے قیام کے حوالے سے نوٹیفکیشن کے جلد اجراء اور تاخیر کی صورت میں بھر پور احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کریں جس سے نہ صرف صوبائی حکومت پر دباؤ بڑھ جائیگا کہ وہ اعلانات پر عمل درآمد میں تیزی لائینگے بلکہ ایسی تمام طاقتوں کو بھی پیغام مل جائیگا( جو نئے اضلاع کے قیام سے خوش نہیں ہیں) اور پیغام یہی ہوگا کہ نئے اضلاع کے قیام کے حوالے سے اپوزیشن ، اپوزیشن جماعتیں ، صوبائی حکومت اور عوام ایک ہی پیج پر ہیں ، اس امید کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں کہ ایسا ہی ہو جس کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے تاکہ آنے والے چند ہفتوں بعد گزٹ آف پاکستان میں گلگت بلتستان کا ذکر 14اضلاع پر مشتمل صوبے کے طور پر ہونے کا خواب پورا ہو سکے ۔۔۔
ایک طرف حافظ حفیظ الرحمن اور ٹیم ترقیاتی سکیموں کے افتتاح ، سب ڈویژنز اور تحصیلوں کے نوٹیفکیشنز اور نئے اضلاع کے قیام کی جدوجہد میں مصروف ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سرکردہ راہنما اپنے پاؤں پر کلہاڑیاں مارنے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے ( پارٹی راہنما ) اور ٹانگیں کھینچنے کی نیٹ پریکٹس کے بعد اب باقاعدہ طور پر میدان میں اتر کر کرتب دکھانے کی تیاری کرچکے ہیں ، 25جولائی 2018کے انتخابات میں کامیابی اور 18اگست 2018کو عمران خان کے بطور وزیر اعظم حلف برداری سے لیکر اب تک کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو وفاق میں آنے والی تبدیلی سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان زیادہ متاثر نظر نہیں آرہے ہیں جسکی وجوہات میں سر فہرست وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور کی گلگت بلتستان کے معاملات سے عدم دلچسپی ہے ، عدم دلچسپی کے حوالے سے اس سے زیادہ ثبوت اور کیا دیا جا سکتا ہے کہ متعلقہ وزیر ( امور گلگت بلتستان و کشمیر ) نے عہدے کے چارج سنبھالنے کے آٹھ ماہ بعد بھی گلگت بلتستان کے دورے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی اور اب بھی دورے کے حوالے سے کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی ہے تاہم علی امین گنڈاپور اسلام آباد میں بیٹھ کر اپنے ذاتی دلچسپی کے معاملات کے حل کیلئے صوبائی بیوروکریسی کو ہدایات جاری کرتے رہتے ہیں اور بے جا مداخلت کا سلسلہ بھی جاری ہے ، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو ٹف ٹائم دینے میں ( آٹھ ماہ بعد بھی ) پی ٹی آئی کی حکومت کی ناکامی کی دوسری وجہ گورنر گلگت بلتستان کا رویہ ہے ، راجہ جلال حسین مقپون نے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد گلگت بلتستان کے عوام کو درپیش مسائل کے حل میں دلچسپی لینے کی بجائے اسلام آباد میں طویل قیام کو ترجیح دی ، گورنر گلگت بلتستان کی حلف برداری کے موقع پر کارکنوں کا جوش و جذبہ دیدنی تھا جو اب مایوسی ، نا امیدی اور کسی حد تک غم و غصے میں تبدیل ہو چکا ہے ، گورنر گلگت بلتستان سے پی ٹی آئی میں شامل نوجوانوں کی بہت زیادہ توقعات وابستہ تھیں اور وہ ( پی ٹی آئی میں شامل نوجوانوں کی بڑی تعداد ) سمجھتے تھے کہ گورنر گلگت بلتستان حلف برداری کے فوراً بعد تمام اضلاع کا طوفانی دورے شروع کر دینگے ، کھلی کچہریوں کا انعقاد ہوگا ، نوجوانوں کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جائینگے ( حالانکہ گورنر کے پاس ایگزیکٹیو اختیارات نہ ہونے کے برابر ہیں ) صوبائی سیکریٹریز سے کارکردگی رپورٹس طلب کی جاتی رہیں گی جس کا براہ راست فائدہ پی ٹی آئی کی تنظیم کو ہوگا جبکہ نقصان مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت اٹھائے گی ، کالم کے فارمیٹ ( طوالت سے اجتناب ) کے پیش نظر زیادہ تفصیل بیان کرنے سے قاصر ہوں تاہم سب کچھ الٹ ہوتا جا رہا ہے جسکی وجہ سے حافظ حفیظ الرحمن دوبارہ قدم جما چکے ہیں اور پوری دلچسپی ، دلجمی اور مستعدی اور بھر پور حکمت عملی کے ساتھ اپنے حصے کا کام کرتے ہوئے عوامی حلقوں میں مقبولیت حاصل کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں ۔۔۔۔
آخری اور تیسری بات جوپی ٹی آئی کو تنظیمی سطح پر بہت زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے اور کسی حد تک پہنچا بھی چکی ہے وہ یہ ہے کہ صوبائی قیادت ، خواتین ونگ ، آئی ایس ایف اور انصاف یوتھ ونگ میں دھڑے بندیاں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ٹانگیں کھینچنے کی روش او اناپرستی ہے ، ذاتی مفادات کے حصول ، انا کی تسکین اور ایک دوسرے کو تسلیم نہ کرنے کی روش اس حد تک پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں میں سرائیت کر چکی ہے کہ اس کا مداوا اب بہت مشکل نظر آرہا ہے اور جس کا دیگر قومی سیاسی و مذہبی پارٹیوں میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا جبکہ دوسری جانب مرکزی قیادت نے اس حوالے سے کوئی راست اقدام نہیں اٹھایا تو پھر 2020کے انتخابات سے قبل پی ٹی آئی کا شیرازہ بکھر کر رہ جائیگا ، مجھے زیادہ اس بات کی تو زیادہ امید نہیں کہ پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت اپنے رویوں میں تبدیلی لائیگی یا مرکزی قیادت سنجیدگی کے ساتھ اس تمام تر صورتحال سے نمٹنے کی حکمت عملی وضع کریگی تاہم وزیر اعلیٰ سے یہی امید رکھ سکتا ہوں کہ وہ علی امین گنڈاپور راجہ جلال مقپون سمیت پی ٹی آئی کو تباہی کے دہانے تک پہنچانے والی صوبائی قیادت کو دل میں دعائیں ضرور دینگے۔۔

Post a Comment

Previous Post Next Post