مشرف اور حفیظ الرحمن کی میزبانی کرنیوالے تحریر : ایمان شاہ

مشرف اور حفیظ الرحمن کی میزبانی کرنیوالے

تحریر : ایمان شاہ 

در اصل ہم اس جہان فانی میں بے قرار ہی رہتے ہیں ، ہم سب پر دیسی ہیں ، جب تک ہم اپنے دیس میں نہ جائیں ہمیں چین نہیں آئیگا ، ہمارا اصل دیس ہمارے پاؤں کے نیچے مٹی میں ہے یا سر کے اوپر آسمان میں ، جسم کا وجود مٹی سے آتا ہے اور مٹی کے دیس ( قبرستان ) میں لوٹ جائیگا ، روح آسمان یا لا مکاں سے آتی ہے اور وہ وہاں پرواز کر جائیگی ، پھر قرار آئیگا ۔۔۔
جنرل محمد ایوب خان نے 1963میں ہنزہ کا دورہ کیا تھا ، پاک چین سرحدی تنازعے کی باز گشت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی ، پاک چین سرحدی تنازعہ بعد میں پاک چین دوستی میں بدل گیا اور اس مستحکم دوستی کے نتیجے میں شاہراہ قراقرم کی تعمیر تاریخی واقعہ ہے ، جمہوریت کی بساط لپیٹ کر ( جنرل ایوب خان نے 1958میں سکندر مرزا کو برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ جما لیا تھا ) سیاہ و سفید کا مالک بننے والے فیلڈ مارشل نے اپنے دورہ ہنزہ میں میر پیلس میں قیام کوترجیح دی تھی ، ایوب خان کو اقتدار سے باہر پھینکنے میں اہم کردار ادا کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو 25اگست 1972کو اپنی فیملی ( بینظیر بھٹو ، مرتضیٰ بھٹو ، شاہنواز بھٹو ، صنم بھٹو اور نصرت بھٹو ) کے ہمراہ بذریعہ ہیلی کاپٹر ہنزہ پہنچے اور میر جمال خان کی مہمان نوازی سے بھر پور لطف اندوز ہوئے ، اس دورے کی تصاویر میر پیلس کے دیواروں اور دربار ہوٹل میں آج بھی سجا کر رکھی گئی ہیں،ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹ کر مارشل لاء کا نفاذ کرنے اور ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار تک پہنچانے والے جنرل ضیاء الحق کا مسکن بھی میر پیلس ہنزہ ہی رہا اور ذوالفقار علی بھٹو کی میزبانی کرنے والی میر فیملی کے ہی ایک چشم و چراغ میر غضنفر علی خان بھٹو کو پھانسی چڑھانے والے جنرل ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کے ممبر رہے ، جنرل ضیاء الحق کے اقتدار کے خاتمے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اقتدار ( دسمبر 1988) میں آنے کے فوراً بعد بیگم نصرت بھٹو کو ہنزہ ہاؤس ( اسلام آباد )دعوت دینے میں پہل بھی میر فیملی نے کی اور اپنے شوہر کے پھانسی میں ملوث جنرل کی مجلس شوریٰ کے رکن کے گھر دعوت میں شرکت نہ کرنا بیگم نصرت بھٹو نے بھی گوار نہیں کیا ، بینظیر بھٹو کو اقتدار سے محروم کرکے وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز میاں محمد نواز شریف سے تعلقات استوار کرنے میں میر پیلس کے مکینوں کو زیادہ دشواری پیش نہیں آئی اور تعلقات کے استوار ہونے کے بعد عتیقہ غضنفر خواتین کی خصوصی نشست ( 1991) پر رکن کونسل منتخب ہونے میں کامیاب ہو گئی اور دونوں میاں بیوی ( میر غضنفر اور عتیقہ غضنفر ) اقتدار کے مزے لوٹنے لگے ، 11اکتوبر 1999تک میر پیلس کے مکین میاں محمد نواز شریف کے ساتھ کھڑے تھے ، 12اکتوبر 1999کو جنرل مشرف میاں محمد نواز شریف کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد پاکستان کی سیاست کے بے تاج بادشاہ بن گئے ، اقتدار پر قبضے کے چند ماہ بعد ہی جنرل مشرف نے ہنزہ کا دورہ کیا ( مارچ 2000) اور میر پیلس کے مکینوں نے جنرل مشرف کا ایک ایسے وقت میں بھر پور اور شاندار استقبال کیا جب میاں محمد نواز شریف اٹک قلعے میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے تھے ،پرویز مشرف میر غضنفر اور عتیقہ غضنفر ( میاں نواز شریف کے قریبی ساتھی ) کی میزبانی سے لطف اندوز ہوتے رہے ، 2009تک پرویز مشرف کے گن گاتے رہنے والوں کو جب سیاسی فضاء میں تبدیلی نظر آنی شروع ہو گئی تو سیاسی قبلہ و کعبہ بدلنے میں دیر لگانے کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہوئے میاں محمد نواز شریف کے چرنوں میں بیٹھتے ہوئے زیادہ دیر نہیں لگائی ، 1963سے لیکر 2009تک فوجی و سویلین حکمرانوں کے ساتھ ملکر ذاتی مفادات کے حصول اور اپنے پیٹ کا جہنم بھرنے کیلئے صاحبان اقتدار کے ساتھ رکھے گئے روابط کی اس کہانی کو بیان کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ چند روز قبل وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن بھی میر پیلس کے اسی خوبصورت ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر درجن بھر کے قریب مزیدار ڈشز( کھانوں ) سے لطف اندوز ہوتے رہے جس ڈائننگ ٹیبل پر پرویز مشرف کی تواضع کی جاتی رہی ، حافظ حفیظ الرحمن چند سال قبل تک تو ہم جیسے سرپھروں کو سیاست محلات سے باہر لاکر تھڑوں اور چوک چوراہوں کی زینت بنانے کا درس دیتے رہتے تھے ، سیاست کو چوک چوراہوں اور تھڑوں تک لانے کیلئے ہم جیسے لوگ تو اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر میدان میں اتر گئے اور جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو ہم سب کی راہنمائی کرنے اور سیاست کو میروں ، وزیروں اور پیروں سے پاک کرنے کا درس دینے والا محلات کے مکینوں کے ساتھ بیٹھ کر ہمارا تمسخر اڑا رہا تھا،محلات کے ایسے مکینوں کے ساتھ بیٹھ کر ہمارا ( حقیقی کارکنوں کا ذکر ہے ، میرا مسلم لیگ ن سے اب کوئی تعلق باقی نہیں رہا ہے، ہمارے سے مراد 2010تک ہے جب عملی جدوجہد میں مسلم لیگ ن کے ساتھ وابستگی رہی ) مذاق اڑا رہا تھا جنہوں ( ہنزہ پیلس کے مکینوں ) نے کبھی اور کسی بھی وقت عام کارکن ( وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان ) کی سیاسی حیثیت کو قبول کرنے سے انکار کیا ، جنہوں نے پارٹی کے اندر بغاوت کا بار بار ارتکاب کیا ، جنہوں نے خواتین کی مخصوص سیٹ سے لیکر گورنری اور ضمنی انتخابات میں ٹکٹ کے حصول تک کے دوران صوبائی صدر کی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا اور اپنی مرضی کے فیصلے کرانے میں کامیاب رہے ۔۔۔۔
اس کہانی کا حاصل وصول یہی ہے کہ حافظ حفیظ الرحمن اب ایسے طبقے کی نمائندگی کررہے ہیں جن کا مطمئع نظر صرف اور صرف اقتدار ، ذاتی مفادات اور پیٹ کے جہنم کو بھرنے کیلئے داؤ پیچ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ، جنرل ایوب ، ذوالفقار علی بھٹو ، جنرل ضیاء الحق ، بینظیر بھٹو ، پرویز مشرف کی میزبانی کرنے والوں کی میزبانی میں حافظ حفیظ الرحمن کس حد تک مطمئن ، مسرور اور خوش تھے مجھے اس بات کا علم نہیں ہے تاہم یہ بات یقینی ہے کہ اس اقدام ( عتیقہ کی میزبانی ) سے ضلع ہنزہ میں مسلم لیگ ن کی رہی سہی ساکھ بھی مٹی میں مل کر رہ گئی ہے اور یقیناًن لیگ ضلع ہنزہ کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دی گئی ہے ۔۔۔

Post a Comment

Previous Post Next Post