اعلانات ، عمل درآمد اور اپوزیشن کا رویہ ۔۔ تحریر : ایمان شاہ

اعلانات ، عمل درآمد اور اپوزیشن کا رویہ ۔۔

تحریر : ایمان شاہ 

ہر طاقتور کے اوپر ایک طاقت مسلط ہے ، جو شاید محسوس نہ ہو لیکن یہ اپنا کام کررہی ہے ، ہمارا ہر قدم موت کی طرف ہے ، سانس کی آری ہستی کے درخت کو مسلسل کاٹ رہی ہے ، کیا طاقت اور کیا کمزوری ، ہم رواں دواں ہیں ، اپنی آخری منزل کی طرف ، فاتحین مفتوح ہوجاتے ہیں ، طاقتور کمزور ہوجاتے ہیں ، خوفزدہ کرنے والے آخر خوفزدہ ہوکر رہتے ہیں ، طاقت غرور پیدا کرتی ہے اور خوف نفرت پیدا کرتا ہے اور نفرت حد سے زیادہ بڑھ جائے تو بغاوت اور بغاوت طاقت سے ٹکرا کر اسے ختم کر دیتی ہے ۔۔۔
حکمرانوں کی اولین ذمہ داری ہی یہی ہے کہ وہ عوام کی مشکلات میں کمی لائیں اور آسانیاں پیدا کرنے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں ، داریل اور تانگیر کو الگ اضلاع بنائے جانے کا اعلان خوش آئند ، بہترین ، بروقت اور دانشمندانہ اقدام ہے ، اس اقدام اور ایسے اقدامات کی تعریف ہی کی جا سکتی ہے ، تنقید کرنے کا تو کوئی جواز نہیں البتہ اپوزیشن کے بیانات کا جائزہ لیا جائے تو تنقید کم اور وزیر اعلیٰ کے اضلاع بنائے جانے کے اختیارات پر سوالات زیادہ اٹھائے جا رہے ہیں ، اپوزیشن کی تمام جماعتوں کا کہنا یہی ہے کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے پاس نئے اضلاع بنائے جانے کا سرے سے کوئی اختیار ہی نہیں ہے ، داریل اور تانگیر کو اضلاع کا درجہ دینے کا اعلان دیامر کے عوام کو بے وقف بنانے کے مترادف ہے ، پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے قابل ذکر راہنماؤں کے موقف کو اگر تسلیم بھی کر لیا جائے کہ وزیر اعلیٰ کے پاس اضلاع کے قیام کا اختیار نہیں ہے اور ایسے اعلانات عوام کو بے وقوف بنانے کے مترادف ہیں تو اس کے باوجود وزیر اعلیٰ نے کوئی ایسا غلط کام نہیں کیا ہے جس کو جواز بنا کر میڈیا میں طوفان بد تمیزی برپا کی جائے ، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اپوزیشن وزیر اعلیٰ کے اعلانات( داریل تانگیر کو اضلاع بنائے جانے ) کو مثبت اور خوش آئند قرار دیتے ہوئے اعلانات پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں ضلع دیامر بالخصوص داریل اور تانگیر کے عوام کے ساتھ ملکر بھر پور احتجاج کی دھمکی دیتے ہوئے ایسی صورتحال پیدا کرجاتے کہ اضلاع کے قیام پر عمل درآمد کی صورت میں اپوزیشن کسی حد تک کریڈٹ بھی لینے میں کامیاب ہوجاتی جبکہ کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کی وجہ سے عمل درآمد نہ ہونے کا جواز بنا کر ن لیگ کے خلاف ڈھنڈورہ پیٹتے ہوئے دیامر بالخصوص داریل اور تانگیر سے مسلم لیگ ن کا صفایا کرنے کیلئے سازگار ماحول پیدا کر جاتے ، بد قسمتی سے اپوزیشن ایسا ماحول پیدا کرنے میں ناکام رہی اور سر دست تانگیر اور داریل کے عوام خوشی سے نہال ہیں اور یہ فطری امر ہے کیونکہ چار گھنٹے سے زائد کی مسافت میں خاطر خواہ کمی لائے جانے کیلئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے درست سمت میں قدم بڑھایا ہے تاہم دونوں اضلاع کے قیام کے نوٹیفکیشن کے اجراء میں ابھی کئی کھٹن مراحل آئینگے۔۔۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان آج سے ضلع ہنزہ کا دو روزہ شروع کرنے جا رہے ہیں ، دورے کے دوران گوجال سب ڈویژن اور شیناکی الگ تحصیل کا درجہ دینے کے اعلان پر عمل درآمد کا آغاز ہوگا اور وزیر اعلیٰ کے دورے کے دوران ہی ہوم ڈیپارٹمنٹ سے گوجال سب ڈویژن اور شیناکی تحصیل کے نوٹیفکیشن کا اجراء بھی کیا جائیگا ، گوجال سب ڈویژن اور شیناکی تحصیل کے قیام سے سینکڑوں لوگوں کی مشکلات میں خاطر خواہ کمی آئیگی ، اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے گزارش ہے کہ وہ عوامی مسائل کے حل ، مشکلات میں کمی لانے اور آسانیاں پیدا کرنے جیسے اقدامات کو آگے بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھیں اور مزید سب ڈویژنز ، اضلاع اور تحصیلیں بنائے جانے کی طرف توجہ دیں ۔۔۔۔۔
چند روز قبل حراموش کے عمائدین کے ساتھ روزنامہ اوصاف آفس میں طویل اور تفصیلی ملاقات ہوئی تھی ، مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی کہ حراموش کے عوام 80کلومیٹر سے زائد کا فاصلہ طے کرکے تحصیلدار اور پٹواری سطح کے مسائل لیکر دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں ، تقریباً 2ہزار گھرانوں پر مشتمل حراموش کو تحصیل کا درجہ دینے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے ، عمائدین حراموش بتا رہے تھے کہ اکتوبر 2018میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے حراموش کے ایک گاؤں دسو جو تین سو گھرانوں پر مشتمل ہے کو سیراب کرنے والا واٹر چینل تباہ ہو گیا تھا ، عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت دن رات محنت کرکے واٹر چینل بحال کر دیا ، لیکن بد قسمتی سے مارچ کے پہلے ہفتے میں بد ترین لینڈ سلائیڈنگ نے ایریگیشن چینل کے پانچ سو میٹر حصے کو مکمل طور پر تباہ کرکے دکھ دیا ہے ، عمائدین کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے تمام متعلقہ اداروں کے دروازے پر دستک دیتے رہے لیکن شنوائی نہیں ہوئی ، گزشتہ ہفتے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے ملاقات کیلئے تین دن گلگت میں گزارنے پڑے ، تمام تر کوششوں کے باوجود وزیر اعلیٰ سے ملاقات کا شرف حاصل نہ ہو سکا ، عمائدین حراموش کا کہنا تھا کہ ہم حکومتی حلقوں سے مایو س ہو چکے ہیں ، گرمیوں کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں جسکی وجہ سے پھلدار درخت سوکھنا شروع ہو گئے ہیں جبکہ فصلیں بھی خراب ہوتی جا رہی ہیں ، اگلے چند ہفتے ہمارے لئے فیصلہ کن ہیں ، واٹر چینل کی بحالی اور پانی کی فراہمی کیلئے بر وقت اقدامات نہ اٹھائے گئے تو سینکڑوں سال پرانے درخت سوکھ جائینگے ، فصل اس سال خراب ہوگی اگلے سال دوبارہ فصل اگائینگے جبکہ درخت سوکھ گئے تو ناقابل تلافی نقصان ہوگا جس کا ازالہ ہوتے ہوئے کئی سال لگ جائینگے ، حراموش کے عمائدین کی زبانی اس طرح کی مایوس کن صورتحال سے آگاہی کے بعد مجھے صوبائی وزیر تعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال اور لیڈر آف دی اپوزیشن کیپٹن(ر) محمد شفیع خان کو داد دینے کو دل کررہا تھا ، ڈاکٹر اقبال اور کیپٹن(ر) محمد شفیع خان نے گلگت بلتستان کے عوام کے آئینی حقوق کا تو ٹھیکہ لے رکھا ہے لیکن اپنے ہی حلقے کے ہزاروں لوگوں کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی ، حراموش کے علاقے دسو سے تعلق رکھنے والے میر عالم جو یونین کونسل کا سابق ممبر بھی رہا نے مجھے بتایا کہ ڈاکٹر اقبال اور کیپٹن(ر) شفیع خان نے دسو کا دورہ کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی ہے ۔۔۔۔
دوسری جانب اس تمام تر صورتحال میں عوامی نمائندوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ عوامی نمائندوں نے عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے کوئی سنجیدہ کوششیں سرے سے کی ہی نہیں ہیں،مثال کے طور پر ایڈووکیٹ آفتاب حیدر پانچ سال تک صوبائی مشیر جنگلات کے عہدے پر فائزرہے ، سابق وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ کے ساتھ قریبی تعلق رہا ، چاہتے تو حراموش کو تحصیل کا درجہ دلا سکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا اور ایسا کیوں نہیں کیا عوام 2020کے انتخابات میں ضرور پوچھ لینگے ، ڈاکٹر اقبال کے پاس بھی وزارت ہے ، وزیر اعلیٰ کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتا ہے ، اب تک حراموش کو تحصیل اور سب ڈویژن دنیور ( حراموش تا جگلوٹ گورو ) کو ضلع کا درجہ دلانے کیلئے اب تک کسی قسم کے سنجیدہ اقدامات اٹھانے میں ناکام رہے ہیں ، کیوں ناکام رہے ہیں اس حوالے سے انتخابات کے موقع پر ووٹ مانگتے ہوئے وضاحتیں پیش کرتے پھریں گے اور سب سے بڑھ کر کیپٹن(ر) محمد شفیع خان کا رویہ مایوس کن نظر آرہا ہے ، کیپٹن(ر) محمد شفیع خان لیڈر آف دی اپوزیشن کے طور پر اپنے حلقے کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اسمبلی سمیت میڈیا کے ذریعے بات کرتے ہوئے کیوں ہچکچاتے رہے ، حراموش کے عوام سینکڑوں کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے تحصیل سطح پر درپیش مسائل کے حل کیلئے دربدر پھرتے نظرآتے ہیں ، حراموش کو تحصیل جبکہ سب ڈویژن دنیور کو ضلع کا درجہ دلانے کیلئے اسمبلی کے فلور پر کیپٹن(ر) محمد شفیع خان نے کتنی مرتبہ آواز اٹھائی ، اس کا جواب دینا پڑے گاا ور اور جواب دینے کیلئے زیادہ وقت باقی نہیں بچا ۔۔۔۔۔

Post a Comment

Previous Post Next Post