عدل ، اختیار اور اقتدار تحریر: ایمان شاہ

عدل ، اختیار اور اقتدار

تحریر: ایمان شاہ 

ارسطو کے نزدیک مکمل انقلاب وہ ہوتا ہے جو کسی بھی معاشرے کے عمومی ،سماجی اور سیاسی نظام کے بنیاد کی ڈھانچے کے علاوہ اس کے اساسی اصولوں میں تبدیلی لانے کا باعث بنے (دور حاضر میں 1917 کا انقلاب روس اس کی ایک مثال ہے) نامکمل انقلاب سے مراد ایسا انقلاب ہے جس میں صرف ایک ہی چیز تبدیل کی جائے یعنی سیاسی نظام کے بنیادی اصولوں ،معاشرتی و معاشی نظام کے بنیادی ڈھانچے یا پھر حکومت میں سے کسی ایک کو تبدیل کرتے ہوئے سیاسی و سماجی نظام کو بدستور قائم و دائم رکھا جائے ( دور حاضرمیں نامکمل انقلاب کی کئی ایک مثالیں موجود ہیں) چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے حوالے سے بہت حد تک پیش رفت ہوچکی ہے اور نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا نوٹیفکیشن کسی بھی وقت سامنے آسکتا، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ شہباز خان کا نام گورنر گلگت بلتستان سیکریٹریٹ کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان (بحیثیت چیئرمین جی بی کونسل ) کو ارسال کی گئی سمری میں سر فہرست ہے، نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے بعد گلگت بلتستان میں اگلے عام انتخابات کے لئے تیار یوں کی جانب پیش رفت کا آغاز ہوجائے گا اور اس بات کے امکانات بہت کم رہ گئے ہیں کہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل بلدیاتی انتخابات کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے ،گورنر سیکریٹریٹ سے ارسال سمری میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ شہباز خان کے علاوہ سابق چیف جج چیف کورٹ جسٹس (ر) صاحب خان اور چیف کورٹ ہی کے سابق جج جسٹس (ر)مظفر علی ایڈووکیٹ کے نام بھی شامل ہیں،راجہ شہباز خان کے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر متمکن ہونے کے امکانات زیادہ بتائے جارہے ہیں تاہم وزیر اعظم پاکستان کو بحیثیت چیئرمین گلگت بلتستان کونسل اختیار حاصل ہے کہ وہ سمری میں شامل کسی بھی نام کو حتمی شکل دیکر منظوری دے سکتے ہیں ۔دوسری جانب سپریم اپیلٹ کورٹ کے چیف جج سمیت دو ممبران کی تعیناتی میں ابھی تک کسی قسم کی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے اور میری اطلاع کے مطابق مانسہرہ سے تعلق رکھنے والی بااثر شخصیت سید ارشد حسین شاہ جس کا نام چیف جج کے طورپرلیا جا رہا تھا اب ڈراپ ہوگیا ہے اور متوقع چیف جج کا نام آئندہ چند روز میں سامنے آجائے گا جبکہ سپریم اپیلٹ کورٹ میں دو ججز کی تعیناتی کے حوالے سے اعلیٰ حکومتی حلقوں میں کھینچا تانی جاری اور مذہبی و علاقائی کوٹے سمیت ذاتی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے ججز کی تعیناتی کے لئے کھنچیاتانی کا سلسلہ ستمبر 2016 (شہباز خان مرحوم کی ناگہانی موت) اور 16 مارچ 2019 (جاوید اقبال کی ریٹائرڈ منٹ ) سے آج تک کی تاریخ تک جاری ہے اور کب تک جاری رہے گا اس کا انحصار مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے درمیان مبینہ ڈیل کے فائنل ہونے پر ہے جبکہ اس کھینچا تانی میں وہ لوگ متاثر ہورہے ہیں جن کے کیسز سپریم اپیلٹ کورٹ میں زیر التوا ء ہیں ،موجودہ صوبائی حکومت پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کے درمیان کھینچا تانی کا سلسلہ کتنی طوالت اختیار کرسکتا ہے، اس بات کا مجھے اندازہ نہیں ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں اعلیٰ عدالیہ میں ججز کی تقرری نہ ہونے کی وجہ سے سپریم اپیلٹ کورٹ کی تالا بندی کو سیاہ باب کے طورپر آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی اور 7 ماہ سے بھی زائد عرصے تک سپریم اپیلٹ کورٹ میں ججز نہ ہونے کی وجہ سے جن لوگوں نے زندگی کے قیمتی دن آزاد فضاؤں کی بجائے مختلف جیلوں میں گزاری ہیں وہ بھی نہ صرف تاریخ کا حصہ بن چکا ہے بلکہ صاحبان اقتدار و اختیار جب اقتدار کی مسند سے الگ ہوں گے یا نکالے جائینگے تو دیگربد اعمالیوں کے بوجھ سمیت جیلوں میں پڑے انصاف کے منتظر مظلوموں کی آہیں ،سسکیاں اور بد دعائیں بھی شامل ہوں گی اور مجھ سے زیادہ اس بات کو کوئی اور نہیں سمجھتا کہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سزاء کاٹنے والا قیدی اپنی رہائی کے لئے دن، مہینوں اور گھنٹوں کے بیتنے کا کس بے تابی اور بے قراری سے انتظار کررہا ہوتا ہے میری تو خواہش ہے کہ فیصلے صادر فرمانے کا اختیار رکھنے کے باوجود فیصلے کرنے میں بد نیتی کی بنیاد پر تاخیر کرنے والے حکمرانوں کو چند روز کیلئے جیل بھیجا جائے اور رہائی والے دن خبر دی جائے کہ قاضی کی تقرری میں تاخیر ہو چکی ہے اس لئے رہائی بھی تاخیر سے ہوگی اور تاخیر بھی غیر معینہ مدت تک کیلئے ، پھر چند روز بعد ان کا حال احوال پوچھا جائے تو پتہ لگ جائیگا کہ اپنے پیاروں سے ملنے کی خواہش اور تڑپ کی وجہ سے انکے دل پر کیا بیت رہی ہے اور ملنے کیلئے بے تاب انکے عزیز و اقارب کس کرب سے گزر رہے ہیں ۔ ۔۔۔۔

میں وزیر اعظم پاکستان ، وفاقی وزیر امور کشمیر ، گورنر گلگت بلتستان اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے ہاتھ جوڑ کر گزارش کرونگا کہ کم از کم عدلیہ میں ججز کی تقرری کو مذاق نہ بنائیں ، اسے سیاسی ، ذاتی و مذہبی اکھاڑے میں تبدیل نہ کریں ، اس معاملے میں ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر ہوکر فیصلے کریں کیونکہ مذہبی و سیاسی بنیادوں پر تعینات ہونے والے ججز نے اس سے قبل گلگت بلتستان کی عدلیہ کے وقار کو خاک میں ملانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے اور سیاسی ، مذہبی و علاقائی کوٹے پر عدل کی کرسی پر بیٹھ کر فیصلے کرنے والے تمام سابق ججز سے تو توقع ہی اس بات تھی کہ وہ حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کسی حد تک بھی جا سکتے تھے اور جاتے رہے ، چیف کورٹ گلگت بلتستان میں میرٹ پر ججز کی تقرری کے مثبت نتائج سب کے سامنے ہیں اور زیر التوا مقدمات کو نمٹانے کیلئے جس برق رفتاری سے کام ہوا ہے اس سے عام آدمی کو ریلیف مل گیا ہے، اسی ماڈل کو مد نظر رکھتے ہوئے سپریم اپیلیٹ کورٹ میں ججز کی تعیناتی کا عمل پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا تو اعلیٰ عدلیہ کی توقیر ، عزت احترام اور عوامی سطح پر پذیرائی میں اضافہ اور خاص کر عدل و انصاف اور میرٹ کے ذریعے فیصلوں سے عام آدمی کو ریلیف مل جائیگا اور عام آدمی تو صرف اور صرف دعائیں ہی دے سکتا ہے اور غریب و مظلوم کے دل سے نکلنے والی بے ساختہ دعاؤں کے اثرات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اور میرے نزدیک خوش قسمت ہے وہ انسان جس کو اللہ تعالیٰ عدل ، اختیا را اور اقتدار کی کرسی عطا فرماتا ہے اور وہ انسان اس کرسی پر بیٹھ کر اللہ کی مخلوق کی بے لوث خدمت کرتے ہوئے دعائیں سمیٹتا ہے جبکہ دنیا کا بد قسمت ترین انسان وہ ہے جو عدل ، اقتدار اور اختیار کی کرسی پر بیٹھ کر خلق خدا کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنتے ہوئے بے شمار مال و زر تو سمیٹ لیتا ہے لیکن لاتعداد بد دعائیں اسکی زندگی کا حصہ بن چکی ہوتی ہیں ، اب مجھے زیادہ وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ، صاحبان عدل ، اقتدار اور اختیار کے پاس دونوں راستے موجود ہیں ، انتخاب کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے بھی انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیکر بہت بڑی ذمہ داری کاندھوں پر ڈال دی ہے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط المستقیم پر چلنے اور اختیار و اقتدار کے دوران عدل ، انصاف اور میرٹ پر مبنی فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔آمین

Post a Comment

Previous Post Next Post