دل بڑا کریں اور فایدہ اٹھاییں !!
تحریر :ریاض حسین
دنیا کا کوئی بھی فرد کہیں بھی پشتی باشندہ نہیں ہوتا . ہر انسان کہیں نہ کہیں سے آیا ہوتا ہے اور جاتا بھی ہے . اگر کوئی سو سال بھی زندہ رہے تو وہاں کا پشتی باشندہ تو نہیں کہلا سکتا. لوگ اپنا مسکن بدلتے رہتے ہیں اور نیی تہذیبیں اور معاشرے جنم لیتے ہیں جو دنیا کی ایک بڑی خوبصورتی ہے اگر ایسا نہ ہوا تو زمانے میں ہلچل ختم ہوگی اور جمود کا شکار ہو جایے گی. جب انسانوں کا کوئی گروہ ایک مخصوس علاقے کو اپنا مسکن بناتا ہے، ملک یا شہر کی صورت میں اک نظام ترتیب دیتا ہے اور کسی ایک علاقے کو اپنا مرکز بنا لیتا ہے جو ہر لحاظ سے تمام لوگوں کی آسان رسائی میں ہو- اس طرح یہ مخصوس علاقہ ان لوگوں کا مرکز بن جاتا ہے جس کو دارلخلا فہ کہا جاتا ہے - جو طاقت اور معشیت کا مرکز بن جاتا ہے اور محلقہ یا دور دراز کے لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کی وہ اس مرکز کا رخ کرے اور وہاں کی طاقت اور معشیت کا حصہ بنے - اس سے وہاں کے رہنے والے باشندوں کی زندگیوں می بھی رونق آتی ہے اور ان کی زمیں ، جائیداد کی قیمت و اہمیت بڑھ جاتی ہے اس طرح خوشحالی کا ایک دور شروع ہوتا ہے . اگر وہاں کے باشندے اپنا دل و دماغ بڑا رکھیں اور آنے والوں کوخوش آمدید کہیں تو اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں.
دنیا کے بڑےشہروں کی مثال لیں تو نیو یارک، لندن، پیرس، دبی ، ٹورنٹو، ٹوکیو ، بیجنگ، شنگائی ، تهران، ریاض ، وغیرہ اپنے اپنے ملکوں کے ایسے شہر ہیں جو ان ممالک بلکہ دوسرے ممالک کے باشندوں کی توجہ کا مرکز ہیں اور لوگ ہر صورت ان شہروں کو اپنا مسکن بنانے کی خواہش رکھتے ہیں. بلکل اسی طرح پاکستان میں لوگ کراچی، لاہور، پشاور ، اسلام آباد جیسے شہروں کا رخ کرتے ہیں اور اپنی اور وہاں کے باشندوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں.
گلگت بلتستان کی صورتحال بھی مختلف نہیں ہے . گلگت شہرجو گلگت بلتستان کا دارلخلافہ بھی ہے .گلگت بلتستان کے تمام اضلا کے باشندوں کی توجہ کا مرکز ہے اور لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کی یہاں آ کر آباد ہوں . گلگت رقبے کے لحاظ سے ایک چھوٹا سا شہر ہے جس کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے یہاں کے قدیمی باشندوں میں ایک اضطراب کی سی کیفیت پایی جاتی ہے اور مقامی لوگ خود کوغیر محفوظ سمجنے لگے ہیں اور گزشتہ کچھ عرصے میں یھاں باقاعدہ مقامی باشندوں کی تحفظ کی تحریکیں بھی چل رہی ہیں جو اس شہر اور پورے گلگت بلتستان کے لئے نیک شگون نہیں ہے-
قدیمی باشندوں کا اعترض اور گلہ ہے کہ باہر سے آیے ہوے لوگوں نے یہاں جائیدادیں خرید کے قابض ہونے کی کوشش کی ہے جوایک غلط تشریح ہے. آپ زمیں بیچتے ہیں تو کوئی خریدتا ہے اور آپ کی زمیں کی قیمت میں بے تحاش اضافہ بھی اس لئے ہوتا ہے کہ لوگ خرید تے ہیں ، ورنہ آپ خود اپنی زمیں تو خریدتے نہیں . اگر کچھ لوگ زمیں خرید رہے ہیں تو زیادہ تر لوگ آپ کی خدمت بھی تو کر رہے ہیں. آپکا نائی،دھوبی، ڈرئیور، مزدور، استاد، ڈا کٹر، باورچی ، نرس، موچی ... بھی تو باھر سے آیے ہوے ہیں-آپ کی دکان، مارکیٹ، سکول، پلازہ ، ریڑھی ، ورکشاپ .. باہر کے لوگ ہی چلا رہے ہیں- آپ کو دکان، مکان، پلازہ، مارکیٹ، سکول، ہسپتال ، ورکشاپ کا کرایہ بھی تو مل رہا ہے جس سے اپ کی زندگی کا معیار بہتر ہوا ہے-
آپ کوچاہیے کہ آپ اپنے والوں کوخوش آمدید کہیں اور جانے والو کوخدا حافظ- اپنا دل بڑا کریں اور فایدہ اٹھاییں اور یاد رکھیں کی دنیا میں کوئی بھی باشندہ پشتی نہیں ہوتا سب نے کہیں نہ کہیں سے آنا ہے اور جانا بھی ہے .
