عنوان : حادثہ من کلام : نوشاد شیراز نوشی

عنوان : حادثہ من 


کلام : نوشاد شیراز نوشی

قیامت ہم پہ ٹوٹی تھی، اُسے کیا فرق پڑنا تھا
بدن میرا ہی چھلنی تھا اُسے کیا فرق پڑنا تھا

وہ مزدور رزق کا طالب ، مُعلم عِلم پہ معمور
مسافر کے سفر کا بھی اُسے کیا فرق پڑنا تھا

عجوبہ سارے عَالم میں، سڑک یہ راہداری کا
یہ رستہ قتل گاہ ہے اب اُسے کیا فرق پڑنا تھا

مری ننھی پری ہمراہ میری ، یوں بلک اُٹھی
تڑپ ممّتا کو کھونے کا اُسے کیا فرق پڑنا تھا

کہیں سے ماں کی آہیں، کہیں اولاد ماتم میں
تماشا روز رستے کا،اُسے کیا فرق پڑنا تھا

کوئی پردیس کا پنچھی،کوئی الفت کا شیدائی
بنا کر راکھ رستے کا اُسے کیا فرق پڑنا تھا

ِِِِسِتم گر روز دھرتی میں، لہو کا کھیل کھیلے ہیں
قفس ماں باپ کی دنیا اُسے کیا فرق پڑنا تھا

ہزاروں راہ گیروں سے،مُقدس زندگی کے پھول
یہ ظالم یوں مَسلتے ہیں اُسے کیا فرق پڑنا تھا

یہ راہیں مُنتظر ہیں اب، زمانے سے زمانے تک
مگر منزل ہی فانی ہو اُسے کیا فرق پڑنا تھا

مری دھرتی تو ہے آئین سے، عاری و مستعفی
ہزاروں لوگ کُچلے ہیں اُسے کیا فرق پڑنا تھا

میں نوشی راہ منزل کی، اُمید ِ صبح روشن ہوں 
مٹا کر نام ہستی کا اُسے کیا فرق پڑنا تھا

Post a Comment

Previous Post Next Post