جناب وزیر اعلیٰ صاحب اساتذہ استعفیٰ کیوں دیں؟
تحریر:صاحب مدد شاہ
جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور اس کی اہلیہ سرکاری سکول میں زیر تعلیم اپنے دو بچوں کی تعلیمی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے انہوں نے سو چا کہ کیوں نہ بچوں کی بہتر رہنمائی کے لئے ٹیوٹر کا انتظام کیا جائے ۔یہی سوچ کر انہوں نے اپنے بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت کے لئے ایک ماہر تعلیم کی خدمات حاصل کر لی۔ وزیر اعظم کے بچوں کے لئے ٹیوٹر مقرر کرنے کی خبر جب برطانیہ میں پھیل گئی تو برطانوی عوام آپے سے باہر ہو گئے اور ملک بھر میں وزیر اعظم کے خلاف احتجاج کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا احتجاج کرنے والوں کا صرف ایک ہی مطالبہ تھا کہ ایسے وزیر اعظم کو ملک پر حکمرانی کرنے کا کوئی اختیار نہیں جس کو اپنے ملک کے نظام تعلیم پر بھروسہ نہ ہو اسی دوران ٹونی بلیئر نے عوامی احتجاج کو سنجیدہ لیا برطانوی عوام سے معذرت کی اپنے بچوں کے ٹیوٹر کو فارغ کر دیا اور اپنی تمام تر توجہ برطانیہ کے تعلیمی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے پر مرکوز کر دی اور کچھ ہی عرصے میں برطانیہ کے نظام تعلیم کو دنیا بھر کے لئے مثال بنا دیا. جاوید چوہدری صاحب کے کالم کو یہاں کوڈ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے نظام تعلیم اور حکمرانوں کے پالیسیز کا تقابلی جائزہ لینا ہے۔
گزشتہ ہفتے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جناب حافظ حفیظ الرحمان کا محکمہ تعلیم کے حوالے سے کچھ اخباری بیانات منظر عام پر آئیں جن میں آپ جناب سرکاری اساتذہ کو اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کروا دیں ورنہ استغی دے اور دوسری بیان میں فورس کمانڈر گلگت بلتستان سے سالانہ امتحانات میں سکولوں اور کالجوں میں نقل کی روک تھام کے لیے فوج سے مدد کی اپیل کی ہیں۔
جناب کی پہلی بیان پر روشنی ڈالتے ہیں جس میں سرکاری سکولوں کے اساتذہ کرام کو اپنے بچوں کو اپنے متعلقہ سکول میں داخل کروا دے ورنہ استغی دے کر گھر چلے جائیں، اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ سرکاری سکولوں کے اساتذہ کرام کے بچے پرائیویٹ سکولوں میں زیر تعلیم ہیں آج تک کسی سرکاری استاد/ استانی نے اپنے بچوں کو اپنے متعلقہ سکول میں داخل کروانے کی زحمت نہیں کی ہے، حلانکہ پرائیویٹ سکولوں کے نسبت گلگت بلتستان کے سرکاری سکولوں کا انفراسٹرکچر، اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ ، کھیل کے وسیع میدان اور جدید طرز کے سائنس اور کمپیوٹر لیپ موجود ہیں۔ وزیر اعلیٰ صاحب کو بیانات دینے سے پہلے غور کرنے کی ضرورت تھی آیا صرف سرکاری سکولوں کے اساتذہ کے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کروانے کے بعد نظام تعلیم بہتر ہوسکتا ہے؟ میری ناقص زہانت یہ کہتی ہے کہ نظام تعلم بہتر بنانے میں صرف اساتزہ کرام کا کردار نہیں ہے ، پالیسیز بنانا اساتزہ کا کام نہیں ہے، نصاب میں تبدیلی اساتزہ کا کام نہیں ہے, سکولوں کے لیے بجٹ مختص کرنا اساتزہ کا کام نہیں ہے بلکہ یہ بہت ہائی لیول کا کام ہے جو اساتذہ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا ہے۔
جناب وزیر اعلیٰ صاحب بہتر یہ ہوگا کہ آپ اس مہم کا آغاز خود سے شروع کریں آپ اپنے وزیر تعلیم، سکریٹری تعلیم، ڈائریکٹرز پر پریشر ڈالے سب سے پہلے وہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کروا ئیے۔ جب کسی وزیر، مشیر، سیکرٹری اور ڈائیکٹر کے بچے پرائیویٹ سکولوں سے نکل کر سرکاری سکولوں میں داخل ہوں گے تب عوام کا سرکاری سکولوں پر اعتماد بحال ہوگا ، پھر آپ سرکاری سکولوں کے اساتذہ پر پریشر ڈالیں ، بلکہ آپ ان کو نوکری سے فارغ کر نے کی دھمکی بھی دے سکتے ہیں۔
جناب وزیر اعلیٰ صاحب یہ خوش آئند بات ہے کہ آپ کو اس بات کا اداراک ہے کہ سرکاری سکولوں اور کالجوں میں سالانہ امتحانات میں نقل کی کھلی عام ہوتی ہے ۔ آپ شاید اس بات سے نالاں ہیں کہ قراقرم اکزامنیشن بورڈ کی بھی کارکردگی ناقص ہے جس کا براہ راست اثر نظام تعلیم پر پڑتا ہے سالانہ امتحانات کے لیے اپنے من پسند لوگوں کو اکزامنر اور کنٹرولر مقرر کیئے جاتے ہیں وہ اپنی من مانی کرتے ہیں، اکزامنیشن پیپرز کی چیکنگ کا بھی کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں ہے ، ٹھیکے پر پیپرز چیک کرائیں جاتے ہیں جو زیادہ پیپر چیک کرے گا اس کو پیسے زیادہ ملیں گے کے فارمولے سے ایک کاروباری سلسلہ جاری ہے جو سراسر طالبعلوں کے ساتھ نا انصافی ہے۔
کچھ سال پہلے ضلع غذر کے ایک سکول میں دوران امتحان ایک ممتحن سے ملاقات ہوئی اس سنٹر میں کھلی عام نقل ہو رہی تھی متعلقہ اکزام سنٹر کے انچارج سے شکایت کی جناب آپ امتحان پر توجہ دیں اس طرح سے بچوں کا مستقبل تباہ ہوگا جناب نے فرمایا بیٹا اس علاقے کے سارے لوگ غریب ہیں کسی طرح میٹرک پاس کرکے فوج میں بھرتی ہو کر اپنا روزگاری کریں گے۔ جناب اس زہانت کے لوگوں کو ممتحن مقرر کیا جاتا ہے آپ اکزامنیشن سینٹرز میں فوج نہیں فرشتے بھی ڈیوٹی پر لگا دے یہ کالا دھن رکنے والا نہیں۔
جناب وزیر اعلیٰ صاحب پاکستان کے چار صوبے ہو کے آپ پانچویں وزیر اعلیٰ کہلاتا سکتے ہیں تو ممکن ہے ہر صوبے کے پاس اپنا اکزامنیشن بورڈ ہے آپ بھی گلگت بلتستان اکزامنیشن بورڈ کا قیام عمل میں لائیں وہاں پر اہل لوگوں کو بھرتی کر کے امتحانی نظام بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ آپ سیاسی بیانات اور بچھلے حکومتوں پر الزامات لگانے کے بجائے ان کے کالے دھندوں کی تحقیقات کروا کر عوام کے سامنے پیش کریں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائیں ۔ آپ کی حکومت کو چار سال مکمل ہو چکے ہیں کسی ادارے میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نظر نہیں آ رہی ہے۔ ابھی آپ کے حکومت کے آخری ایام میں آپ کو ہوش آتا ہے کہ گلگت بلتستان کا نظام تعلیم ٹھیک نہیں ہے۔ اس ناقص نظام تعلیم کو بہتر بنانے کا ارادہ آپ کو 2015 کے الیکشن منشور میں ہونا چاہیے تھا, اپنے حکومت کے پہلے دن آپ کو سب سے پہلا کام محکمہ تعلیم اور صحت پر سنجیدگی سے کام کرنا چاہیے تھا جن کی حالت ابھی بھی بہت تشویش ناک ہیں۔ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ، ابھی آپ کی حکومت آخری سانسیں لے رہی ہے آپ کچھ کرنے کے پوزیشن میں نہیں ہے پھر بھی آپ غریب عوام کا دکھ درد رکھتے ہیں تو سب سے پہلے نظام کی درستگی اوپر سے کریں اگر واقعی میں آپ استعفیٰ لیتے تو کیوں نہ ایجوکیشن منسٹر اور سکریٹری ایجوکیشن سے لے ، نظام کو بنانے اور بھگاڈنے کے اختیارات ان کے پاس ہیں سرکاری سکولوں کے اساتذہ سے استعفیٰ لینے سے نظام تعلم میں بہتری ممکن نہیں ہے۔
