(کم عمر بچوں کا منشیات کا استعمال-) تحریر رمیز شکراتے

(کم عمر بچوں کا منشیات کا استعمال-)


تحریر   رمیز شکراتے

مجھے نہیات افسوس کہ ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ آج کل ہمارے بچے کس راستے پر چل رہے ہیں ، کیا کچھ کر رہیں ہیں، کیا ان کے والدین کو علم ہے ؟ یقین نہیں ، کیوں نہیں ، کیا والدین اپنے بچوں پر نظر نہیں رکھتے ، ان کے بچے کیا کر رہے ہیں ، کس قسم کی کمپنی اور سوسائٹی میں ان کے بچے رہتے ہیں، یا وقت گزارتے ہیں ، یا پھر ماں باپ نے اپنے بچوں کو مکمل آزادی دی ہوئی ہے۔ یہ بچے خالی ایک گھر کے بچے نہیں ہیں یہ پورے گلگلت بلتستان کے بیٹے ہیں ، آنے والا کل ان بچوں کا ہے ، ان بیٹوں نے ہی کل کچھ کر کے ملک کا نام روشن کرنا ہے ، ان ہی بیٹوں نے کل اپنے بوڑھے ماں باپ کی خدمت کرنا ہے اور ان کا سہارا بن ہے ان ہی نے کل آنے والے چلینز کا مقابلہ کرنا ہے ۔ آنے والا دور روز بہ روز مشکل آتا جارہا ہے ، ان کو مستقبل کا کوئی پروا ہی نہیں ، پروا کیا ان کا تو سوچ بھی نہیں کہ کل ہم کیا کرینگے ، کیسے اپنے بیوی بچوں کو پالینگے  ، ان کو کیا کھانے کے لیے کیا دینگے ، پہنے کے لیے کیا دینگے ، کہاں رکھینگے ، ان کی ضروریات کو کیسے پورا کر ینگے ، آج تو یہ بڑے مزے اور فخر سے ماں باپ کے کمائیں ہوئے پیسوں پر اعیاشی کر رہے ہیں ، ماں باپ کے پیسوں سے منشیات خریدتے ہیں اور ان کا بے طہاشہ استعمال کرتے ہیں اور بڑے مزے اور فخر سے بلند آواز میں کہتے ہیں ، آپ کو کیا پتہ اس کا مزہ ، یہ بندے کو سکون فراہم کرتا ہے اور منشیات کے ایسے ایسے فوائد آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں ، اصل میں یہ اپنے لیے خود گڑھا کھود رہے ہوتے ہیں اور ایک نہ ایک دن یہ خود اس گڑھے میں گر ینگے اور کبھی باہر نکل نہیں سکہنگے اور روز بہ روز اس گڑھے میں دستے چلے جائینگے ، یہ دو تین منٹوں کے سکون کے لیے اپنی زندگی کو تباہ کر رہے ہوتے ہیں ۔ ان کو حقیقت کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوتا کہ وہ صحیح کام کر رہے ہیں یا غلط ، ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا ، جو کرلیں ان کی مرضی ہوتی ہے ، والد صبح کو گھر سے نکلتا ہے اور شام کو گھر واپس آتا ہے ، مشکل سے اپنے بچوں کی کالج اور سکولز کی فیس پوری کرتا ہے اور بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے ، لیکن بچے ماں باپ کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کے ساتھ بھی دھوکہ کر رہے ہوتے ہیں ، آج کل تو سگریٹ کو فشین کے طور پر استعمال کر رہے ہیں وہ بھی 4 ۔ 5 کلاسیز کے بچے ، ان کو دیکھ کر میں حیران رہ پریشان ہوتا ہوں۔ 
ان کو کون سمجھائے کہ آپ نے کل اس ملک اور قوم کی خدمت کرنا ہے رہنمائی کرنا ہے ، 
 والدین سے گزارش ہے کہ خدا کے لیے اپنے بچوں پر نظر رکھے ، اور ان کو منشیات کے پہنچ سے دور رکھے ۔ منشیات کے  استعمال سے پورا معاشرہ خراب اور ناسور ہو جاتا ہے ، جس علاقے میں منشیات کا استعمال ہو وہاں پر جرایم کے بھی بہت واقعات پیش آتے ہیں ۔ آیں مل کر منشیات کے روک تھام کے لیے اپنے حصے کا کام کر رہے اور اپنے بچوں کے مستقبل کو روشن کر لیں ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post