ظرافت نامہ
تحریر : عبدالخالق تاج
نواب آصف الدّولہ کو اُس کا اُستاد انشاء اللہ خان انشاءؔ بالترتیب نواب صاحب شیعہ اور انشاء اللہ خان انشاء سُنی تھے۔ ایک دفعہ وہ دونوں لکھنؤ میں ہاتھی پر سوار ہوکر کسی محلے سے گزر رہے تھے۔ راستے میں دیکھا تو ایک کُتا ٹانگ اُٹھا کر کسی قبر پر پیشاب کر رہا تھا۔ نواب صاحب نے انشاء صاحب کو زچ کرنے کے لیے کہا کہ ’’اُستادِ محترم! یہ قبر کسی سُنی کی لگتی ہے۔‘‘ انشاء کب چوکنے والے تھے۔ فوری طور پر لوٹا دیا کہ ’’حضور! سچ فرما رہے ہیں، پیشاب کرنے والا شیعہ معلوم ہوتا ہے۔‘‘ اس پر دونوں بہت ہنسے اور پیار بھری نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
گلگت میں جس طرح فرقہ وارانہ جنگ و جدل جاری ہے۔ اسی طرح گوہر آباد داریل اور کوہستان میں شین اور یشکن کی قبائلی جنگ جاری ہے۔ شین لوگ اپنے آپ کو قریشی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گوہر آباد میں کسی شین نے یشکن کو زچ کرنے کے لیے کہا کہ ’’پیغمبر بھی قریشی تھے اس لیے وہ بھی شین ہیں۔‘‘ تو یشکن سے رہا نہ گیا تو کہا کہ ’’پھر خدا یشکن ہے جاؤ۔‘‘
گلگت کے ایک حاجی شیطانوں کو کنکریاں مارنے پہنچ گئے۔ حاجی صاحب نے دیکھا تو شیطانوں کے پاس بجلی کے جھلمل کرتے قمقمے ایک منظر پیش کر رہے ہیں۔ ائیرکنڈیشن لگا ہوا ہے۔ یہ سہولیات دیکھ کر حاجی صاحب نے فرمایا کہ ’’ایسے انتظامات میں شیطان کو رکھا جائے تو کیوں کر چلا جائے گا؟ وہ زندگی بھر یہیں رہے گا۔‘‘
روایت ہے کہ جدّہ سے مکے کی طرف جاتے ہوئے خانہ کعبہ کے مینار نظر آتے ہیں۔ مینار کے نظر آتے ہی آپ دِل سے نیت کرکے دُعا مانگ لیں گے وہ ضرور قبول ہوگی۔ ایک گلگتی حاجی صاحب کو مینار نظر آیا تو حاجی صاحب نے جذباتی ہوکر فرمایا کہ ’’یااللہ! ادھر مجھے قبر کی جگہ دیدے۔‘‘ جب جائے قیام پر پہنچے تو حاجی صاحب کو سخت بخار ہوا اور حاجی صاحب بہت کمزور ہوئے۔ ساتھیوں کو پتہ چلا تو اس کی تیمار داری کے لیے گئے۔ دیکھا تو بہت کمزور ہوئے تھے۔ کسی نے پوچھا ’’ارے بھائی! آپ ہٹے کٹے آدمی اچانک اتنے کمزور کیوں ہوئے؟‘‘ تو حاجی صاحب نے فرمایا کہ ’’بھائی کیا پوچھتے ہو میں نے اپنے پیر پر خود ہی کلہاڑی ماری ہے۔‘‘
میرے نائب قاصد سرونٹی نے شادی بالکل بھی نہیں کی۔ کنوارے ہی رہے۔ ایک دفعہ اس نے کہا کہ ’’صاحب جنت میں حوریں ان لوگوں کو ملیں گی جنہوں نے دُنیا میں شادی نہ کی ہو۔‘‘ تو میں نے کہا کہ ’’یہ شادی شدہ بہشتی مرد پھر کہاں جائیں گے‘‘ تو انہوں نے بلاتوقف کہا کہ ’’آپ کو تو آپ کی بیویاں ہی ڈنٹنگ پنٹنگ اور رنگ و روغن کراکر لوٹا دی جائیں گی اور کیا چاہتے ہیں آپ؟‘‘
علامہ انور صابری بہت بڑے شاعر تھے۔ ایک دفعہ بجنور میں کل ہند محفلِ مشاعرے کا انعقاد ہوا۔ کنور مہندر سنگھ بیدی سحرؔ نظامت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ جب علامہ کی باری آئی تو بیدیؔ صاحب نے تعارف کچھ یوں کرایا کہ ’’حضرات! انور صابری جنگ آزادی کے مجاہد شاعر ہیں اور وہ نہایت ہی راست باز اور بڑے پاکباز ہیں‘‘ تو ابھی بیدیؔ صاحب نے تعارف مکمل نہیں کیا تھا کہ مجموعے میں سے کسی صاحبزادے نے باآوازِ بلند کہا کہ ’’پاک باز اور راست باز ہی نہیں بلکہ لونڈے باز بھی ہیں۔‘‘ اس پر سامعین نے لڑکے کو ڈانٹاتو علامہ خود ہی فرمانے لگے کہ ’’اس کی تردید نہ کیجیے صاحبزادہ جو کچھ فرما رہے ہیں اپنے ذاتی تجربہ کی بنیاد پر فرمارہے ہیں۔‘‘ اس پر محفل قہقہ زار ہوئی اور لڑکے کو مشاعرے سے بھاگنا پڑا۔
ایک دفعہ نظیر اکبر الہ آبادی حیدر آباد گئے۔ وہاں اس کے دوست نے من جملہ دیگر خدمات کے حیدر آباد کی نامہ گرامی طوائف گوہر سے بھی اُن کے کوٹھے پر نظیر اکبر الہ آبادی کی ملاقات کا بندوبست کیا۔ گوہر نے نظیر اکبر الہ آبادی کی آؤ بھگت میں کوئی کسر نہ چھوڑی، جب نظیر اکبر الہ آبادی واپس جانے کے لیے کھڑے ہوئے تو گوہر نے قلم اور ڈائری آگے کرکے نظیر اکبر الہ آبادی سے عرض کیا کہ ’’حضرت! میرے بارے میں اپنے تأثرات لکھ دیجیے۔‘‘ تو نظیر اکبر الہ آبادی نے یہ شعر لکھ دیا
خوش نصیب آج بھلا کون ہے گوہر کے سوا
سبھی کچھ دے دیا اللہ نے شوہر کے سوا
دو شاعر کسی ٹی ہاؤس میں بیٹھے چائے پی رہے تھے اور گپیں ہانگ رہے تھے کہ ایک اور شاعر اپنی اکلوتی اولاد ایک تیرہ سالہ بچی کو بھی لے کر وہاں آگیا۔ ایک شاعر نے بچی کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ ’’شاہ صاحب نے بس ایک ہی مصرعہ کہا ہے‘‘ تو دوسرے شاعر نے بلا توقف کہا کہ ’’اس کا بھی قافیہ تنگ ہے۔‘‘
دِلّی میں ایک شاعرہ بھی محفلوں میں شریک ہوا کرتی تھی اور اپنی غزل گاکر سنایا کرتی تھی اور ہر وقت محفل لوٹا کرتی تھی۔ ایک شاعر تنگ آکر مشاعرے میں شاعرہ سے اس طرح مخاطب ہوا کہ
نتیجہ اے بُوّا! اچھا نہیں مردوں کی صحبت کا
کِھلے گا نو مہینے بعد گُل اِس عیش و عشرت کا
اس شعر کے بعد محترمہ نے مشاعرہ میں آنا بند کر دیا۔
میرزا اسد اللہ خان غالبؔ جتنے بڑے شاعر تھے اتنے بڑے حاضر جواب اور ظرافت بردار بھی تھے۔ ایک شام کو شراب نہ ملی تو نماز پڑھنے مسجد چلے گئے۔ میرزا صاحب وضو کر رہے تھے کہ میرزا صاحب کے کسی شاگرد نے مسجد کے مین گیٹ سے شراب کی بوتل دکھائی۔ میرزا وضو کے بعد مسجد سے نکلنے لگے تو کسی نے پوچھا کہ ’’بغیر نماز پڑھے چل دئیے، یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟‘‘ تو میرزا نے جواب دیاکہ ’’جس چیز کے لیے میں نماز پڑھ رہا تھا وہ دورانِ وضو ہی مل گئی مزید جدوجہد کی کیا ضرورت ہے؟‘‘
ایک دفعہ میرزا صاحب کسی نواب سے ملنے گئے۔ جب میرزا صاحب محل میں پہنچے تو نواب صاحب کے خدمت گاروں نے محل کے غلام گردش میں میرزا صاحب کو روکا اور نواب کو جاکر میرزا کی آمد کی اطلاع دی۔ نواب کسی ضروری کام میں مصروف تھے۔ نواب کی فراغت تک میرزا صاحب غلام گردش نامی جگہے میں کافی دیر ٹہلتے رہے نواب صاحب کو فراغت کے فوراً بعد میرزا صاحب کا خیال آیا۔ نواب نے فوراً ملازمین کو آواز دی کہ’’ارے میرزا صاحب کہاں ہے؟‘‘ تو میرزا صاحب نے ٹہلتے ٹہلتے نواب صاحب کو نوکروں سے پہلے جواب دیا کہ ’’حضور! غلام بذاتِ خود گردش میں ہے۔‘‘ جس پر نواب صاحب بڑے محظوظ ہوئے۔
راجہ سلطان فیروز صوفیؔ راجگان ریاستِ نگر سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ گلگت اسکاؤٹس میں صوبیدار میجر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ شادی نہیں کی۔ پولو کے بہترین کھلاڑی اور اُردُو کے اِس علاقے میں واحد مزاحیہ شاعر تھے۔ نہایت ہی حاضر جواب اور نقّاد تھے۔ وہ شاعری میں مولانا ظفر علی خان کو اپنا اُستاد کہتے تھے۔ ایک دفعہ اس کو حکم ہوا کہ اسکاؤٹس کو کارگاہ نالہ لے جایا جائے۔ کارِ بیگار کا زمانہ تھا۔ گلگت اسکاؤٹس کا بڑا رُعب اور دبدبہ تھا۔ جب اسکاؤٹس لے کر صوفی کارگاہ پہنچے تو مقام جُت سے مجینے تک بیگار کی ذمہ داری گوجروں کی تھی۔ سارے گوجر بیگار کے لیے تیار ہوگئے صرف ایک شخص نے صوفی صاحب سے کہا کہ ’’صاحب! میں گوجروں کی مسجد میں گوجروں کا امام ہوں۔‘‘ تو صوفی صاحب نے فوراً کہا کہ ’’آپ کیا بات کرتے ہیں میں خود یہاں گلگت اسکاؤٹس کا پیغمبر ہوں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے صوفی صاحب نے گوجروں کے امام کو بیگار سے بری الذّمہ قرار دیا۔
صوفی صاحب جب سے گلگت آئے پھر نگر بہت کم ہی گئے ہوں گے۔ صوفی صاحب کو اس زمانے میں نگر میں سننے والا بھی کوئی نہ تھا۔ نگر کی نسبت گلگت کا ماحول ادبی اور کُشادہ تھا۔ اس لیے صوفی صاحب یہی کے ہوکر رہ گئے۔ روایت ہے کہ ایک دفعہ اُن کی والدہ محترمہ نے صوفی صاحب کو پیغام بھیجا کہ ’’مجھے کوئی ایسے کپڑے بھیجو جو گلگت میں ابھی تک کسی نے نہ پہنے ہوں۔‘‘ تو صوفی صاحب نے بازار سے بوریاں خریدیں اور کپڑے سلوا کر بھیج دئیے کہ’’ لو امّاں! یہی پہننے سے رہ گئے ہیں۔‘‘ اس بارے میں ان کے اشعار ہیں
اب تو آئی ہی نہیں بات جو حیرانی کی
اور ہونے دو ترقی ابھی عریانی کی
یہ تو آغاز ترقی کا ہے ململ کا لباس
عورتیں پہنیں گی شلوار مچھر دانی کی
ایک گاؤں میں زنا کی شکایات عام ہوئیں تو گاؤں کے اکابرین ’’بیاک‘‘ میں جمع ہوئے۔ بعد بحث و تمحیض کے زنا کے خلاف سخت سزاؤں کی قرار داد پیش کی گئی۔ اس دوران ایک آدمی قرار داد سے اختلاف کرکے کھڑا ہوا اور کہا کہ ’’تم لوگوں نے جو کرنا تھا وہ کر دیا اب میرے بیٹھے جوان ہوگئے تو تم یہ قرار دادیں پیش کرتے ہو۔ میں نہیں مانتا۔‘‘ اور اجلاس کا بائیکاٹ کرکے چلا گیا۔
بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک انسپکٹر آف اسکولز موسیٰ خان صاحب ہوا کرتے تھے۔ وہ پڑھے لکھے ظریف اور حاضر جواب تھے۔ اس زمانے میں ٹرانسسٹر ریڈیو ابھی ابھی آئے تھے۔ موسیٰ خان صاحب ٹرانسسٹر ہاتھ میں لے کر خراماں خراماں گھر جا رہا تھا کہ مغرب کی اذاں ہوگئی ساتھ ہی ساتھ مسجد تھی۔ موسیٰ خان صاحب ٹرانسسٹر ہاتھ میں لیے مسجد میں داخل ہوئے۔ ریڈیو ہاتھ میں دیکھ کر شیخ صاحب برس پڑے کہ ’’تم کیا آلۂ غنا لے کر مسجد میں آئے ہو۔‘‘ تو موسیٰ خان صاحب نے شیخ صاحب کو جواباً کہا کہ ’’لانے کو تو میں آلۂ زنا بھی لے کر آیا ہوں مگر بات استعمال کی ہے بس۔‘‘
ہمارے محلے میں ایک فرمانبردار بیٹے نے باپ سے کہاکہ ’’آپ کے دانت لگواتے ہیں چلیں۔‘‘ تو باپ نے برجستہ کہا کہ ’’بیٹا! دُلہن بھی نئی لانی ہے تو دانت لگواتے ہیں بصورتِ دیگر تمہاری اس پچاس ماڈل ماں کے لیے یہی دانت کافی ہیں۔‘‘
ہمارے ایک دوست پڑھے اتنے نہیں ہیں جتنے کہ وہ لکھتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی ادبی دُنیا میں ایک بڑا نام ہے مگر وہ بھی حضرت غالب کی طرح صرف چھٹی جماعت تک پڑھے ہیں۔ وہ ادبی کام کرتے ہیں اور مسلسل کرتے ہیں۔ ایک دفعہ تمام صحافی مل کر کسی بڑی شخصیت سے ملنے اس کے گھر گئے۔ صاحبِ موصوف نے صحافیوں سے کہا کہ ’’آج کل ہر میٹرک پاس آدمی صحافی بنا ہے اس لیے صحافت زردی کا شکار ہے۔‘‘ تو دیگر ساتھیوں نے ہمارے دوست کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا تو انہوں نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ ’’صاحب نے میٹرک والوں پر اعتراض کیا ہے آپ جانے صاحب جانے میں تو چھٹی پاس ہوں۔‘‘ بس کیا تھا دیگر صحافی ہنسی ضبط نہ کرسکے۔
دُکھی صاحب حج سے واپس آئے تو ایک محفلِ مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔ دُکھیؔ صاحب نے ارشاد فرمایا کہ
نہ داڑھی لے کے آیا ہوں نہ نعرے لے کے آیا ہوں
دُکھیؔ صاحب کے مصرعہ ثانی ارشاد فرمانے سے قبل ہی میں نے گرہ لگائی کہ
میں زم زم اور چھو ہارے لے کے آیا ہوں
اورباآوازِ بلند کہہ بھی دیا۔ بہت تالیاں بجیں۔
صدرِ حلقہ اربابِ ذوق جناب محمد امین ضیاؔ نعت سنا رہے تھے۔ ان کا نعتیہ مصرعہ تھا
نا پینا ہے عذر لنگ مدینے میں
مصرعہ ثانی سے قبل ہی مجھ سے یہ شعر بنا تو باآوازِ بلند سنا ڈالا
پی کر پھرلو ننگ دھڑنگ مدینے میں
چھڑ جائے گی پھر تو جنگ مدینے میں
اس پر یہ نعتیہ محفل بھی قہقہ زار ہوگئی۔
ایک دفعہ میرا اپنا بیٹا ظفر نے یہ شعر کہا کہ
چند ڈستی حقیقتوں کے سوا
زندگی سے وصول کیا کرتے؟
تو میرے منہ سے فی البدیع یہ شعر نکلا
تری امّاں بہن تھی رشتے میں
کر لی ہم قبول کیا کرتے؟
محفل زعفران زار ہوگئی۔
