عنوان : آتِش
کلام : نوشاد شیراز نوشی
باندھ لو تخت پے مجھ کو ،کہ میں ہوں باغی یہاں
کون سنتا ہے فلک، سارے شرابی ہیں یہاں
میں نے اک آس سے اس قوم کو آواز ہے دی
کون کرتا ہے عمل، سارے سیاسی ہیں یہاں
ان کو لگتا ہے کہ آسان ہے مقتل کا سفر
مجھ کو معلوم ہے جذبات قصائی ہیں یہاں
ہم نے اس دیس کو ہر موڑ پے دیں نزرانے
کیوں بولے مری دھرتی پہ ہرجائی ہیں یہاں
روز دیتے ہیں لہو خونِ جگر یہ جانباز
ایک لالک جان نہیں سارے شیدائی ہیں یہاں
میری دھرتی پہ کبھی خوف کا سایہ بھی نہ ہو
خود کو وہ وار کے این ایل آئ سپاہی ہیں یہاں
قومی غیرت سے ہی دنیا بھی امر دین بھی پاک
یا خدا دے دیں عَلم سارے صحابی ہیں یہاں
پہلے دو ہم کو حقوق ٹیکس بھی سی پیک بھی لو
کیوں مانے اُسے بولے جو مساوی ہیں یہاں
کسی کم ظرف کو دو قدر تو ملتا ہے بھلا
یہ وہ کیا جانے عبث نام ہی کافی ہیں یہاں
میں نے اس قبر پہ خود کو کبھی لے جا کے کہا
موت کیا مارے گی اب لوگ ہی کافی ہیں یہاں
پاک دھرتی پہ فدا میرا قلم میری کتاب
یہ فقط عِلم پڑ ھیں سارے کتابی ہیں یہاں
جن کو لگتا ہے غلط ہے میرے جذبے کا خمار
ساقیا ان کو پلا جام جو پیاسے ہیں یہاں
میرے اشعار سے افکار سے آج اُس نے کہا
تجھے کچھ ہو ہی گیا سارے گلابی ہیں یہاں
ابھی واہ واہ ہے کبھی ہوش میں بھی آ جائیں
بھائی بہنوں میں فقط جوش ہی باقی ہیں یہاں
دختر ِ فکر تُو کب سے ہو یہاں یوں بے تاب
ِِدِلرُبا فکر نہ کر سارے زنانی ہیں یہاں
میں ہوں نوشی شبِ عاشور محبت میں فنا
تجھے کیا فکر ہو ، غم تو میرے داعی ہیں یہاں
