آو لانگ مارچ کریں۔۔۔۔ تحریر:ملک حق نواز

آو لانگ مارچ کریں۔۔۔۔


تحریر:ملک حق نواز



سپریم کورٹ کے فیصلے سے ایک دفعہ پھر گلگت بلتستان کے باسیوں میں شدید مایوسی کی لہر دوڈی ھے۔ہم جانتے ہیں جی بی کو الگ صوبہ بنانے سے کشمیر کاز پر پاکستان کےستر سالہ موقف کی نفی ہوگی لیکن کیا مسلہ کشمیر کے حل تک گلگت بلتستان سر زمین بے آئین کا نقشہ پیش کرتا رھے گا کیا وہاں کے لوگوں کا ایسے ہی استحصال ہوتا رھے گا۔جی بی میں پاکستان کی دونوں بڑی جماعتیں مسلم لیگ اور پی پی حکمران رہی ہیں اور اب حکمراں جماعت پی ٹی آئ بھی گلگت بلتستان میں اپنی حکومت قائم کرنے کیلئے پرتول رہی ھے۔وفاقی حکومت نے بھی پچھلے دنوں جی بی کو ائینی سیاسی حقوق دینے کی بھڑک ماری لیکن پھر اپنے روایتی انداز میں یوٹرن لے لیا اور وہاں کے باسیوں کو عدلیہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔

ہونا تو یہ چاہئے کہ اس وقت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اس معاملے پر بحث ہونی چاہئے اور کسی حتمی نتیجے تک پہنچا جائے پچھلے دنوں ازاد کشمیر کی قیادت نے کھل کر اس بات کا اظہا کیا اور دو روز قبل ازاد کشمیر اسمبلی نے باقاعدہ طور پر قرارداد پاس کی ھے کہ جی بی کو آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جائے تو پھر کنفیوژن کس بات کی۔

پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے ہماری حکومتیں عدلیہ کو یہ مواقع کیوں فراہم کررہی ہیں کہ ائین میں پارلیمنٹ کو تفویض شدہ اختیارات کوئ اور ادار استعمال کرے۔اس لئے گلگت بلتستان کے معاملے کو پارلیمنٹ کے اندر اٹھایا جائے تاکہ یہ سلسلہ کسی منطقی انجام کو پہنچ سکے۔

اس وقت سوشل میڈیا پر جی بی کے سیاستدان،طلبہ اور وکلا مجاہد بنے ہوئے ہیں اور اپنی توپوں کا رخ عدلیہ اور ریاستی اداروں کی طرف کیا ھے لیکن سوال یہ ھے کہ کیا جی بی کے سیاستدانوں اور عوامی نمائندوں نےمشترکہ طور پر اج تک کوئ ایسا لائحہ عمل تشکیل دیا ھے کہ وفاقی حکومت اس کو سنجیدگی سے لے؟کیا جی بی لیجسلیٹیو اسمبلی نے کبھی کوئ قرارداد پاس کی ہو اور وفاق پر دباو ڈالا ھے ہمارا استحصال بند ہو،کیا نواز خان ناجی سمیت کسی نمائندے نے اسمبلی کی سیٹ کو اس لئے لات ماری ھے کہ میں ایسی اسمبلی میں نہیں رہ سکتا جس کی کوئ اوقات نہیں ھے،کیا ایکشن کمیٹی نے کبھی سیاسی و آئینی حقوق کے لئے جی بی کے اضلاع کو جام کرنے کا اعلان کیا ھے،کیا وہاں کے طلبا وکلا اور سول سوسائٹی نے کوئ منظم تحریک چلائ ھے؟سب سوالوں کا جواب نفی میں اور ہم سب سوشل میڈیا میں اسلام آباد فتح کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔

اگر ہم سب جی بی کی سیاسی جماعتیں ،قوم پرست،علماءکرام،طلباء،وکلاء برادری اور سول سوسائٹی تمام سنجیدہ ہیں تو ائیے مل کر اسلام اباد کی طرف منظم لانگ مارچ کرتے ہیں اور اس وقت تک واپس نہیں لوٹتے جب تک ہمیں حقوق نہیں ملتے۔اگر ازاد کشمیر کا ایک طبقہ جی بی کو صوبہ بنانے کے اعلان پراسلام اباد کی طرف لانگ مارچ کرسکتا اور "بچہ بچہ کٹ مرے گا جی بی صوبہ نہیں بنے گا "کے ترانے ریلیز کرسکتا ھے تو ہم کیوں پیچھے ہیں۔بس اب جی بی والوں پہ منحصر ھے کہ وہ سوشل میڈیا پر ماتم کرتے رہیں گے یا پھر مل کر کوئ لائحہ عمل تشکیل دینگے۔

فرنٹ فٹ 

ملک حق نواز

Post a Comment

Previous Post Next Post