سکولوں میں اخلاقی تربیت عہد حاضر کی ایک اہم ضرورت.......
ازقلم :سمیرا بہرام
اردو ادب کے نامور شاعر ساغر صدیقی
نے کہا ھے کہ
” ھر بھکاری پا نہیں سکتا مقامِ خواجگی
ھر کس و ناکس کو غم تیرا عطا ہوتا نہیں“
فکر و شعور فطرت کی طرف سے انسان کو ودیعت کردہ ایک ایسی نعمت ھے جس کے بل بوتے پر انسان کے طاٸرِ فکر کی اڑان زماں و مکاں کے حدود و قیود سے ماورا ھوجاتی ھے٠
علم اور فکر و شعور جسے اقبال نے خودی و بے خودی کا نام قرار دیا ٠ سقراط نے اسے حقیقت تک پہنچنے کا راستہ کہا اور ا س کے لۓ زہر کا جام پیا٠ شاگردانِ سقراط تعلیم کو وہ صلاحیت سمجھتے ہیں جسے پا کر انسان خود اپنی تخلیقیت کے معراج کو پا لیتا ھے٠ ٠٠٠٠ میرے نزدیک تعلیم *سوچ* میں تبدیلی کا نام ھے ٠ سوچ کا داٸرہ کار آپ کے ماحول سے ہوتا ھے اور اسکا ردِعمل آپ کا کردار ھے٠ کیونکہ کردار سے مراد ھر وہ عمل ھے جسکا مظاہرہ آپ بطورِ انسان کرتے ہیں٠
مگر کردار کی تخلیق کدھر سے ھوتی ھے؟؟؟
آپ کی ”سوچ“ سے جو مثبت بھی ھو سکتی ھے منفی بھی!
مگر بعض محققین کا موقف ھے کہ ”سوچ“ انسانی ذہن کی خود کی پیداوار ہے بس تراش خراش کی ضرورت ھے٠
اور کچھ کا خیال ھے کہ سوچ ایک پیداوار ھے٠ بیشک صلاحیتیں منفرد ودیعت خداوندی ھیں مگر انسان کے اندر سوچ پیدا کرنا اور انکو سمجھنے کے قابل بنانا ھے٠ تاکہ نتیجہ مثبت نکلے٠
اسکی مثال میں ایک بیچ سے دونگی :
بیچ کے اندر خدا وندتعالی کی طرف سے اگنے کی صلاحیت رکھی ھے،اسے جب تک بویا نہ جاۓ ،اس کی دیکھ بھال نہ کی جاۓ تو پھل کا تصور خام خیالی ھے٠
بلکل یہی حال انسان کا بھی ھے بھرپور صلاحیتوں کا مجمع مگر اصلاح طلب!
شاید اسی وجہ سے امام غزالی نے فرمایا تھا٠”
بچے کا ذہن صاف سلیٹ کے مانند ھے “
جے-بی واٹسن کرداریت کے بانی اس بات پر بضد تھا کہ ”آپ بچہ مجھے دے دو ،جو چاھو بنا دونگا٠“
اسلۓ ھم کہ سکتے ھیں کہ سوچ کو پیدا کی جا سکتی ھے٠
اب سوال یہ بنتا ھے کہ اس پیداوار کا بیچ کون بوتا ھے جو کردار کی صورت میں ھم بطور پھل چنتے اور بھگتے ھیں؟؟؟
ظاہر ہے!پہلے ھمارا گھر 'پھر تعلیمی،معاشی ،سیاسی،اور سماجی ادارے جس کے مجموعے کو معاشرے کا نام دیا جاتا ھےاور جسکی پیداوار انسانی سوچ اور اسکا کردار ھوتا ھے٠اسلیے معاشرے کی اسی ترجمانی کو اہلِ زبان فلسفہِ حیات کا نام دیتے ھیں٠
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ تربیت کا آغاز گھر سے شروع ھوتا ہے جبکہ اس کو مزید نکھارنے کا کام تعلیمی اداروں کے سپرد ھے٠
کیوں ؟؟؟
وہ اسلیے کہ پودا درخت بننے سے پہلے جس ڈگر میں چاھو مڑ سکتا ھے تاکہ بہتر پیداوار اور کانٹ چھانٹ ھو سکے٠ مگر جب وہ مکمل تناور درخت بن جاۓ تو یا ٹوٹ جاۓگا یا کاٹا جاۓگا٠
اسلۓ ھمارے تعلیمی اصلاحات ان ننھی کلیوں کو تناور شخصیت بنانے کے لۓ تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے
جس پر پچھلے دنوں میرے محترم استاد نے پرایٸوٹ اور گورنمنٹ اسکولوں کے درمیان موازنے سے اپنا موقف بیان کرنے کی سعی کی٠ کیونکہ یہ صاحب بھی پرایٸوٹ اداروں سے ھی نکل کر گورنمنٹ ادارے میں وارد ھوۓ ھیں ٠ اس سے پہلے یہ صاحب بھی ضرور ان سربراہان کے فہرستِ اول میں ھونگے جو اب تک سمجھ رہے ھیں :
"Private institutes are better than Government institutions.."
جواب میں اتنا کہنا چاھونگی کہ پراٸویٹ سیکٹر میں وھی جاتا ھے جو گورنمنٹ کی ملازمت کا اہل نہیں ورنہ گورنمنٹ کسی ایک ٹھکیدار کا کھاتا نہیں ، اگر آپ اہلیت رکھتے ھیں تو اس کے در سے کوٸ مایوس نہ لوٹا ھے٠
اسی سے ھمارے عوام بخوبی اندازہ لگا سکتے ھیں کہ معیار کدھر ھے؟، پھر بھی ان کی آنکھیں بند ھیں تو اسکی وجہ معاشرتی تقسیم میں انارکی ھے ٠
بچے ان اداروں کے نام پر (kips,Nova,zaviya,etc) اداروں سے پیپر پاس کرنا سیھکتے ھیں ،جس پر یہ ادارے نازاں ھیں٠
"we are doing best"
بہرحال میرا مضوع اس بات کو طول دینا نہیں بلکہ سوچ میں تبدیلی ھے٠
سوچ میں تبدیلی کیسے لاٸ جاۓ اور کون لاۓ گا ؟؟؟
ظاھر ھے ! ھمارے تعلیمی ادارے ٠٠٠٠٠٠
کیونکہ کلیاں تو ان کے پاس ھوتی ھیں٠٠٠ مگر ھمارے اداروں کا المیہ کچھ یوں ھے ! متعلیمین کو کچھ تعریفیں رٹ رٹاکر ازبر کروانا،تا کہ امتحانات میں نمایاں نمبرات حاصل کر سکیں٠ بہترین اساتذہ وھی ہے جو سو فیصد نتاٸج دیں۔
تو بتاٸیں وہ تعلیم جو اقبال کی خودی اور سقراط کی سچاٸ کی متلاشی ھے ، وہ یہ ھے ؟؟؟
تعلیم اک سمندر کی مانند ھے جس کی اک گھونٹ سے بھی ھماری پودا نا آشناھے،غوطہ زن ہونا تو دور کی بات ھے٠
اسی بات کے پیشِ نظر ماہرینِ تعلیم نے علم کی گہراٸ کی پیماٸش کے تین مقاصد بیان کۓ ھیں ٠ جن کے مجموعے کو ایجوکیشن کی اصطلاح میں "Bloom Taxanomy "کہاجاتا ھے۔
اس نظریے کے مطابق بچے کی تعلیمی گہراٸ کا جاٸزہ تین درجات کو مدِ نظر رکھ کر لیا جا سکتا ھے،جنہیں : وقوف ،حسیات،اور عمل , کا نام دیا گیا ھے٠
یہ کوٸ نٸ اصطلاح نہیں ھے تعلیم سے وابستہ ھر شخص اس کا علم رکھتا ھے اسلۓ یہ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ھے کی وہ درس و تدریس کے دوران متزکرہ تینوں نکتوں کومد نظر رکھ کر بچوں کے کورے اذہان پر گہرے اثرات مرتب کرنے کی سعی کریں -مگر ھمارے ادارے صرف وقوف یعنی( cognitve domain)
پر فوکس کر رہے ھیں مگر قصہ ادھربھی ادھورا ہے کیونکہ وقوف مذید چھے درجات پر منقسم ھے٠ اول *علم* (Knowledge) اور آخری ششم *جاٸزہ*(Evaluation)٠علم کا تعلق صرف ذہنی یاداشت ، تعریفوں کو رٹانے سےھے٠ اور جاٸزہ ذہنی بالیدگی کی سب سے اعلی سطح ھے جو بچے میں حق بات کو سمجھنے اور فکرو شعور عطا کر کے منطقی سوچ پیدا کرتا ھے٠
اس کا ذکر اسلۓ ضروری تھا کہ میرے خیال میں ھم پورے درجہِ وقوف پر بھی کام نہیں کر رھے ھیں٠ باقی درجات توجہ طلب ھیں ٠٠٠٠ جس کی وجہ سے معیاری تعلیم کے تقاضے پورے ہونے سے قاصر ھیں٠
ھمارے پاس الحمد اللہ اچھا نصاب، بہترین اساتزہ اور بہتر وساٸل بھی ھیں کچھ وساٸل کی کمی معیاری تعلیم کی راہ میں معقول بہانہ نہیں! مزید بہتری کے لۓ اصلاحی تدابیر پر کام جاری ھے, اور کافی ھو چکا ھے , مگر اصلاح کا دامن وسیع ھے اور اسکی نوعیت لچکدار اور مستقل ٠٠٠٠٠٠
اسی پیشِ نظر میری نامعقول سی راۓ ھے کہ اسلامیات کے نصاب میں معمولی ترمیم کی جاۓ ٠٠٠٠٠٠
یہ جملہ پڑھ کر ضرور اہلِ علم مجھے نشانہِ تنقید بنا دینگے کہ راقمہ ناقص العقل ھے. اسلامیات میں تبدیلی کیونکہ زمانے کی مزاجوں کو سمجھنے کی سمجھ عطا کی گٸ ھے٠ پھر بھی عرض کرتی چلوں !
مقاصد کی جانچ میں ھم ”حسیاتی اور عملی“ درجات کی خلا کو ختم تو نہیں کر سکتے ،مگر اسلامیات (جو کی ایک مکمل ضبطہِ حیات) ھے میں سے اخلاقیات کے حصے کو ایک الگ مضمون کی شکل دے کر سوچ کی تبدیلی کی پیماٸش کی طرف پیش رفت کر سکتے ھیں٠ مسلم تاریخ کا بنظرِ غاٸر تجزیہ کیا جاۓ تو اخلاقیات علیحدہ مضمون شاملِ نصاب تھا جو کہ عصرِ حاضر میں (Integrited curriculm ) کے نام پر اسلامیات کے اندر ضم ھے٠ مگر آج بھی میڈیکل کے طلباء کو Ethics کے نام سے باقاعدہ مضمون تعلیم دی جاتی ھے٠
ھمارے یہاں تبدیلی کے نام اساتزہ کو تنگ کرنا ، ٹیکنالوجی ، اور سیاسی بیانات سے باھر نہیں جھانکا جا رہا ٠٠٠٠٠
ان سب کے باوجود آج ھمارے پاس اچھے نتاٸج نمبروں کی شکل میں تو مل رہے
مگر اخلاقیات اپنی سانسیں گِن رہی٠
وجوہات کیا ھیں؟؟
مدارس میں ھر مضمون کے لۓ مخصوص وقت مقرر ہوتا ھے ،ریاضی کا\٤٥ ٣٥ کا دورانیہ صرف فارمولوں کورٹانے پر صرف ہوتا ھے جبکہ انگلش کا دورانیہ گراٸمر کے گردانوں کے گرد گھومنا اور اسلامیات کے حالات( سوال نمبر ایک کا جواب یہاں سے یہاں تک ) محدود ھیں
تاکہ جلد سیلبس مکمل ھو اور رٹواکر کتاب حفظ کراٸ جاۓ ٠٠٠٠٠٠
اب میں آپ سے پوچھتی ھوں!
کبھی ھم نے سوچ کی تبدیلی پر کام کیا ھے؟
کبھی ھم نے کردار میں تبدیلی لا نے کی بات کی ھے؟؟
ھمارے بچے بد تمیز سے بد تمیز تر ہوتے جا رھے ھیں ٠٠٠٠٠؟؟ا؟
بیشک حق بات پر آواز ان کا حق ھے مگر یہاں قصہ ھی مختلف ھے٠
اسلۓ امر اس بات کی ھے کہ اخلاقی گراوٹ کی وباء کو وقتِ حاضر میں ھی دبانے کے اقدامات کۓ جاٸیں ٠
ھماری پودا تعلیم کو روپوں پیسوں میں تولنے کے بجاۓ پہلے انسان پھر انسانیت کی قدر کرے٠
اسلۓ میرے نزدیک اخلاقیات پراٸمری تا ثانوی جماعتوں تک بطورِ لازمی الگ مضمون ھو نا چاہۓ اور یہ Theory and Practical کے اصول پر کاربند ھو ٠جس کا جانچ کا طریقہ رٹاٸ کی بجاۓ عملی تربیت اور مشاہدے پر ھونا چاہۓ۔
نصاب کے اندر بڑی قوت ھے ،سوچ کو جلا بخشنے کی۔۔۔۔۔
سوچیۓ گا ضرور٠٠٠٠٠٠٠٠٠_
