حقیقت یہ ہے تحریر : صاحب مدد شاہ

حقیقت یہ ہے


تحریر : صاحب مدد شاہ

 سپریم کورٹ آف پاکستان نے گلگت بلتستان کی قسمت کا فیصلہ سنا کر گلگت بلتستان کے باسی  خصوصاً قوم پرستوں کا راستہ مکمل طور پر  صاف اور برسوں سے لگائے گۓ مختلف القابات اور الزامات کو بھی  مسترد کر کے قوم پرستوں  کو سرخرو کیا۔ یقیناً یہ جی بی کے حق پرستوں اور  قوم پرستوں کی سب سے بڑی فتح ہے۔  
قوم پرستی کو پاکستان میں ایک معیوب عمل سمجھا جاتا ہے جو بھی انصاف ، حق اور قوم کی بات کرتا ہے اس پر ضرور کوئی نہ کوئی  ٹھپہ لگ ہی  جاتا ہے، ہمارے سامنے زندہ و جاوید مثالیں ہمارے  بلوچ ، سندھی، سرائیکی اور پشتون بھائیوں کی ہیں ۔ جن کے پیارے برسوں سے لاپتہ ہیں ان کی بازیابی کے لیے جب بھی کوئی مظاہرہ ہوتا ھے ان کے پیاروں کو بازیاب کرانے کے بجائے ان پر خود تشدد اور زبان بند رکھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ 
اسی طرح کا ایک کھیل ستر سالوں سے  گلگت بلتستان کے باسیوں کے ساتھ آئینی حقوق پر  کھیلا جارھا ہے کھبی پاکستان کی طرف سے  پیکیجیز اور کھبی آرڈیننس دیا جاتا ہے،  یہاں پر ایک بات واضع کرنا چاہتا ہوں آرڈر آقا اپنے  نوکروں کو دیتا ہے اور پیکجز کسی کمپنی کا مالک اپنے ملازمین کو خوش کرنے کے لئے دیتا ہے۔ 
تاریخ گواہ ہے گلگت بلتستان کی  قوم بہادر اور دلیر ہے جس نے کلہاڑیوں اور ڈنڈوں سے ڈوگرہ راج کا گلگت بلتستان سے خاتمہ کر کے آزادی حاصل کی تھی اس قوم کو پیکیجز اور آرڈرز  پر نہیں چلایا جاتا سکتا ہے ۔ 
گلگت بلتستان کو ستر سالوں سے متنازع اور حقوق سے محروم رکھنے میں وفاق پرستوں نے کوئی کسر نہیں  چھوڑا ہے ان کو گلگت بلتستان کے متنازع حیثیت کا علم ہونے کے باوجود اپنے ذاتی مفادات کی خاطر قوم کو اندھیروں میں دکھیلا ہے لیکن اب وقت آیا ہے ان سے بھی کسی طرح سے حساب لیا جائے۔  پاکستان میں حکومتیں آتے جاتے گئے مگر گلگت بلتستان کا مسئلہ جوں کا توں رہ گیا۔
 سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں واضح الفاظ میں لکھا ہےکہ گلگت بلتستان ایک متنازع خطہ ہے اس کو پاکستان کا آئینی یا عبوری صوبہ نہیں بنایا جاسکتا جب تک کشمیر کا  مسئلہ حل نہ ہو۔
 تبدیلی سرکار گزشتہ حکومتوں کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اب بھی اس بات پر زد کر رہی ہے کہ پاکستان کے آئین میں ترمیم کر کے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنایا جا سکتا ہے اس کے لیے پارلیمنٹ سے دو تہائی اکثریت درکار ہے ۔ 
فرض کرتے ہیں عمران کی حکومت گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے میں کامیاب بھی ہوجاتی ہے تو کیا اس سے گلگت بلتستان کی ستر سالوں کی محرومیوں کا ازالہ ہو جائے گا؟  نہیں!  گلگت بلتستان کے مسائل جوں کے توں رہ جائیں گے کچھ گلگت بلتستان کے مفاد پرست پارلیمنٹ اور سینیٹ آف پاکستان کے ممبران بن جائے گے ان کو تنخواہ اور مراعات بھی دیئے جائنگے ،  ہم صرف ٹی وی پر ان کو آخری  نشستوں پر براجمان دیکھ کر خوش ہو جائنگے مگر ان کو پارلیمنٹ اور سینیٹ میں گلگت بلتستان کا موقف اور مسائل پر بات کرنے نہیں دیا جائے گا کیونکہ وہ عبوری صوبے کے نمائندے ہونگے۔
حقیقت یہ ہے  اب کسی وفاق پرست کے دھوکے میں آئیں بغیر ہر ذی شعور گلگت بلتستانی کو جی بی کی خود مختاری کے لیے اپنے حصے کا دیا جلا کر تاریکیوں سے روشنی کے لئے اپنا سفر جاری رکھنا چاہیے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post