وویمن پولیسنگ کے زریعے خواتین سے متعلق جرائم کے تدارک کو یقینی بنانے کیلئے تجاویز ۔۔۔۔۔۔۔۔ بقلم : کرن قاسم ۔

وویمن پولیسنگ کے زریعے خواتین سے متعلق جرائم کے تدارک کو یقینی بنانے کیلئے تجاویز ۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم : کرن قاسم ۔

گلگت بلتستان کی مجموعی طرز و تمدن ، موجودہ ٹیکنالوجی کے دور میں کسی بھی ترقی پذیرمعاشرے کی طرح، روایتی مقامی ثقافت اور ملکی و بین الاقوامی ثقافتی اثرات و نفوذ پذیری کے ساتھ کشمکش کی صورتحال سے گزر رہی ہے۔اس کشکمش کی صورتحال کے اندر گروہی فرق و امتیاز سمیت سماجی افق پر صنفی عدم مساوات کا ماحول جنم لینے لگتا ہے اور جب کوئی معاشرے صنفی تفریق کا شکار ہوجاتا ہے تو وہاں خاندان کی بنیادی اکائیوں کے اندر فاصلے اور غیر ہم آہنگی کا سماں پیدا ہوجاتا ہے اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے کہ سماج کے تانے بانے کمزور ہوتے ہوتے فکری اور عملی انتشار کا موجب بنتے ہیں ۔ تاریخ کے جھروکوں سے عیاں ہورہے اعداد و شمار اور حقائق کے مطابق ملکی وحدت اور قومی فکری یکجہتی تب افزائش و افزودگی حاصل کرلیتی ہے جب معاشرے متناسب اشتراک عمل کی بنیاد پر سختی سے استوار و کاربند ہوجائیں ۔ ان تمام صورت حال میں خواتین کا کردار کلیدی حثیت کا حامل ہوتا ہے ۔گلگت بلتستان کے دس اضلاع میں بھی معاشرتی طرز و تمدن کے خدوخال اور محرکات میں تغیر و تبدل کے نمونے نمایاں جھلک رکھتے ہیں ۔ GB کے چند اضلاع میں خواتین کی معیار زندگی قدرے بہتری کی جانب گامزن ہے تاہم یہ صورتحال کچھ اضلاح جس میں دیامر سرفہرست ہے فوری اور جامع توجہ کا تقاضا کرتی ہے ۔خواتین کی فلاح و بہبود ۔کیلئے تجاویز
۔1. وویمن پولیسنگ میں ڈیوٹیات کی نوعیت ترتیب دیتے وقت اس امر کا خیال رکھا جائے کہ خاتون خود کو سماجی دباو سے آزاد رکھتے ہوئے ڈیوٹی سرانجام دے سکے
2. ابتدائی طور پر خواتین سے ان کے گھر کے قریب سٹیشن پر ہی ڈیوٹی لی جائے اور انکی ویلفیر خصوصا پک اینڈ ڈراپ کا خصوصی انتظام اور اہتمام کیا جائے ۔
3. اعلی تعلیمیافتہ خواتین کو بہتر محکمانہ پکیجز کے تحت بھرتی کیا جائے اور ان کی پروموشن پالیسی کو بہتر اور تیز رفتار بنایا جائے ۔
4. پولیس افیسران اور جوانوں کی بیویوں کو ترجیحا پولیس میں بھرتی کیا جائے تاکہ خواتین پولیس کے اندر احساس اپنائیت کے علاوہ احساس تحفظ کے فقدان کا خاتمہ کیا جاسکے اور وہ یکسوئی اور اطمینان کے ساتھ ڈیوٹی کرسکیں ۔ کارکردگی دکھانے والے ایسے جوڑے کی مناسب پذیرائی کی جائے
۔5. وویمن پولیس افیسران کی سرکردگی میں خواتین کے مسائل جن کا تعلق انسانی حقوق اور قوانین سے خواہ براہ راست نہ ہو بلکہ سماج کے دیگر فلاحی امور سے ہو ، کے حل کیلئے اقدامات عمل میں لائے جائیں اور خواتین کے مسائل کے حل کیلئے تمام فورمز پر مناسب وکالت کی جائے ۔۔۔
6. خواتین سے انکے مسائل جاننے اور جرائم کے تدارک کیلئے رابطہ کو فروغ دیا جائے اور تعلیمیافتہ خواتین پر مشتمل مشاورتی کمیٹی تشکیل دے کر ان سے امن و امان اور جرائم کے خاتمے سے متعلق آراء و سفارشات حاصل کئے جائیں ان تجاویز کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی مرتب کی جائے
 7. معاشرے میں امن کے قیام کی اہمیت اجاگر کرنے اور خواتین کی زمہ داریوں کے احساس کو بیدار کرنے کیلئے ، زہن سازی کی ضروت کے پیش نظر خواتین پولیس افیسران کے زریعے گاوں کی سطح پر مشاورتی اجلاس کا سلسلہ شروع کیا جائے اور ان تمام معاملات میں شعائر اسلام اور مروجہ علاقائی رسوم کو مدنظر رکھا جائے تاکہ کسی بھی طرح بہیودگی کے فروغ والے مفروضے کی بنیاد پر الزامات لگا کر معاشرتی شعور و آگہی کے بارے منفی پروپیگنڈے کے امکانات کا تدارک عمل میں لایا جاسکے
8. محکمہ پولیس کے تحت فلاحی سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے ۔ کسی قدرتی آفت کے دوران امن و امان کی زمہ داریوں کے علاوہ ریلیف والے امور پر مبنی سرگرمیوں کو اپنی حکمت عملی میں شامل کیا جائے اور اس سلسلے میں آرمی ویلفئیر سے متعلق نظام پر غور کرکے مناسب ترمیم و اضافے کیساتھ لاگو کیا جائے ۔سکولز اور کالجز کے علاوہ دینی مدارس کی طالبات سے بذریعہ وویمن پولیس معاشرتی مسائل خصوصاخواتین کے حقوق اور عزت و احترام کی بحالی کیلئے سفارشات حاصل کئے جائیں اور ایسے سفارشات کی حقیقت کا تعین کرکے مناسب حل بشمول قانون سازی کیلئے کوششیں عمل میں لائی جائیں ۔اردو تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کے علاوہ مدارس سے فارغ التحصیل طالبات کو پولیس میں بھرتی ہونے کے مواقع دئیے جائیں خواتین پولیس کی پیشہ ورانہ تربیت مخلوط نہ رکھی جائے ۔ ان کی تربیت علیحدہ باوقار اور پر آسائش انداز میں مکمل کرایا جائے ۔
خواتین پولیس کو غیر ضروری انداز میں مرد پولیس کے ہمراہ مخلوط انداز میں نہ بھیجا جائے ۔ ایسے ماحول میں ان جوڑوں کو تعینات کیا جائے جس میں میاں بیوی دونوں پولیس سروس میں ہی ہوں ۔
خواتین پولیس کے بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے اعلی تعلیمی ادارے اور معیاری تعلیم کا بندوبست کیا جائے ۔ اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پولیس خواتین کے اولاد معاشرے میں ایڈجسٹ نہیں ہوتے جسکی وجہ ان کے والدین کا انکی تربیت پر مناسب توجہ نہ دے سکنا ہے ۔ وویمن پولیسنگ کو سماج میں پذیرائی دلانے کیلئے مذہبی علماء اور مشائخ سے مشاورتی اجلاس اور سمینارز کے زریعے موجودہ دور میں وویمن پولیسنگ کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے رہنمائی لی جائےخواتین سے متعلق امور کے قانونی پہلووں کو نافذ کرنے کیلئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نظام العمل سامنے لانے کیلئے مذہبی طبقات اور سکالرز کو متحرک کرکے اس بارے فکر انگیز مباحثوں اور تنقیدی نشستوں کا اہتمام کیا جائے ۔
وویمن پولیس کو مذہبی اور اخلاقی اقدار کا سختی سے پاسدار بنایا جائے اور ان کو ہمہ وقت یہ احساس دلایا جائے کہ ان کے افعال ایک ایسے ادارے کی ترجمانی کرتے ہیں جس کو اسلامی نظریہ حیات کے تحت امر باالمعروف اور نہی عن المنکر والی جمیعت کی حثیت حاصل ہے ۔
وویمن پولیسنگ سے وابستہ خواتین کو اخلاقی جرائم میں ملوث ہونے پر عبرتناک سزا دی جائے کیونکہ ان کی وجہ سے سماج میں محکمے کا تشخص اور وقار تباہ ہوکر رہ جاتا ہے ۔ عوام الناس انفرادی کوتاہیوں کو محکمانہ رنگ و نسبت دیکر پورے پولیس شعبے کو قابل نفرت روپ میں پیش

Post a Comment

Previous Post Next Post